urdu news update Global Food Crisis

خوراک کا عالمی بحران . (صدائے حق) سرچ تحریر:یوسف علی ناشاد
گلوبل رپورٹ آن فوڈ کرائسز (GRFC) 2026 سے معلوم ہوتا ہے کہ شدید غذائی عدم تحفظ اور غذائی قلت اب بھی تشویشناک حد تک بلند اور گہرے طور پر جڑے ہوئے مسائل ہیں جبکہ یہ بحران بڑھتے ہوئے چند مخصوص ممالک میں زیادہ شدت کے ساتھ مرکوز ہو رہے ہیں اپنی دسویں اشاعت میں یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران شدید بھوک کے شکار افراد کی تعداد دوگنی ہو چکی ہے اور اس کی تاریخ میں پہلی مرتبہ گزشتہ سال دو مقامات پر قحط کا باضابطہ اعلان کیا گیاگلوبل نیٹ ورک اگینسٹ فوڈ کرائسز (GNAFC) کی ایک اہم اور مستند اشاعت کے طور پر یہ رپورٹ عالمی علاقائی اور ملکی سطح پر شدید غذائی عدم تحفظ کو سمجھنے کے لیے بنیادی حوالہ فراہم کرتی ہے 18 شراکت دار اداروں کے مشترکہ تعاون سے تیار کی جانے والی یہ رپورٹ غذائی بحران سے متاثرہ ممالک میں شدید غذائی عدم تحفظ اور غذائی قلت کا متفقہ جائزہ پیش کرتی ہے تاکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی سرگرمیوں اور ترقیاتی اقدامات کی بہتر رہنمائی اور مؤثر منصوبہ بندی کی جا سکےجب ہم نے اس بابت مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے سرچ کرتے رہے تو یہ بات حقیقت کے بالکل قریب نظر آنے لگی کہ واقعی عالمی سطح پر مستقبل قریب میں خوراک کی عالمی قلت بھوک و افلاس کی ایک الارمنگ صورت حال سے انسان شدید متاثر ہو سکتا ہے جو درج ذیل ہےورلڈ فوڈ پروگرام کی وارننگ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث غذائی عدم تحفظ ریکارڈ سطح تک پہنچ سکتا ہےتصویری حوالہڈبلیو ایف پی آریٹے علی یونس تصویر میں 9 مارچ 2026 کو بیروت لبنان کے جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ میں حالیہ فضائی حملوں کے باعث بے گھر ہونے والے خاندان دکھائے گئے ہیںاہم نکاتاگر تنازع جاری رہا تو اس سال مزید تقریباً 4 کروڑ 50 لاکھ افراد شدید بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں دنیا بھر میں غذائی عدم تحفظ کا شکار افراد کی تعداد یوکرین جنگ کے آغاز کے وقت کی سطح تک پہنچ سکتی ہے افریقہ اور ایشیا کے وہ ممالک جو درآمدات پر انحصار کرتے ہیں بھوک کے خطرات میں سب سے زیادہ اضافے کا سامنا کریں گےروم اٹلی اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) نے آج خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی معیشت کو غیر مستحکم کرتی رہی تو 2027 میں دنیا بھر میں شدید بھوک کا سامنا کرنے والے افراد کی تعداد ریکارڈ سطح تک پہنچ سکتی ہےڈبلیو ایف پی کے نئے تجزیے کے مطابق اگر سال کے وسط تک یہ تنازع ختم نہ ہوا اور تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے زیادہ رہی تو مزید تقریباً 4 کروڑ 50 لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ یا اس سے بھی بدتر صورتحال (IPC3+) کا شکار ہو سکتے ہیں یہ تعداد پہلے سے غذائی عدم تحفظ کا شکار 31 کروڑ 80 لاکھ افراد کے علاوہ ہوگيجب 2022 میں یوکرین کی جنگ شروع ہوئی اور مہنگائی کے عالمی بحران نے جنم لیا تو دنیا بھر میں بھوک ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی تھی اور 34 کروڑ 90 لاکھ افراد متاثر ہوئے تھے ڈبلیو ایف پی کے تازہ اندازوں کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ کا تنازع جاری رہا تو آنے والے مہینوں میں دنیا کو ایک مرتبہ پھر اسی طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

urdu news update Global Food Crisis

50% LikesVS
50% Dislikes

خوراک کا عالمی بحران . (صدائے حق) سرچ تحریر:یوسف علی ناشاد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں