غزل ، تری یاد آئی تو آنکھیں کھلیں. مرے دل سے ہر غم جدا ہو گیا. یاسمین اختر طوبیٰ
چلو آج یہ تجربہ ہو گیا
وہ وعدہ نہیں جو وفا ہو گیا
کئی رازِ دل کہہ گیا دفعتاً
وہ ہنس کر جو مجھ پر فدا ہو گیا
چراغِ تمنا جلا تھا ابھی
ہوا آئی اور بے ضیا ہو گیا
تری یاد آئی تو آنکھیں کھلیں
مرے دل سے ہر غم جدا ہو گیا
جسے میں نے سمجھا تھا اپنا کبھی
وہی شخص مجھ سے، خفا ہو گیا
نہ رہبر، نہ کوئی ملا ہمسفر
تو خود راستہ رہنما ہو گیا
مرے زخم جب وقت نے چھو لیے
ہر اک درد جیسے دوا ہو گیا
جو سچ بولنے کی سزا مل گئی
مرا حوصلہ پھر سوا ہو گیا
یہ کس کی نظر تھی جو مجھ پر پڑی
کہ پہلو سے دل ہی جدا ہو گیا
جو طوبیٰؔ نے ذکرِ خدا کر لیا
تو دل خود ہی نور آشنا ہو گیا
urdu Ghazal




