urdu column Faizan-e-Nazar and Adab-e-Farzandi

“فیضانِ نظر” اور “آدابِ فرزندی”۔ اقبالؒ کا فکری پیغام. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
علامہ محمد اقبالؒ نے اپنی شاعری کے ذریعے محض جذبات کی ترجمانی نہیں کی بلکہ امتِ مسلمہ کی فکری، روحانی اور اخلاقی رہنمائی کا عظیم فریضہ انجام دیا۔ ان کا ہر شعر اپنے اندر ایک فلسفہ، ایک پیغام اور ایک تحریک رکھتا ہے۔ انہی لازوال اشعار میں سے ایک شعر یہ بھی ہے:

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

“یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیلؑ کو آدابِ فرزندی”

یہ شعر محض دو مصرعوں کو محیط ہے مگر اس کے معانی انتہائی وسیع اور گہرے ہیں۔ اقبالؒ اس شعر کے ذریعے دراصل تربیتِ اولاد، والدین کے کردار، دینی ماحول، اخلاقی اقدار اور اسلامی تعلیمات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ یہ شعر سوالیہ انداز میں ہے مگر اس کے اندر ایک مکمل جواب پوشیدہ ہے کہ عظیم کردار اچانک پیدا نہیں ہوتے بلکہ انہیں صالح تربیت، پاکیزہ ماحول اور اعلیٰ نمونۂ عمل کے ذریعے پروان چڑھایا جاتا ہے۔

حضرت اسماعیلؑ کی فرمانبرداری اسلامی تاریخ کا ایک ایسا روشن باب ہے جس کی مثال دنیا کی کسی اور تہذیب میں نہیں ملتی۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کو نہایت تفصیل سے بیان کیا ہے۔ جب حضرت ابراہیمؑ نے خواب میں اپنے بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا حکم دیکھا تو انہوں نے جبر یا سختی کے بجائے اپنے بیٹے سے مشورہ کیا:

“اے میرے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں، پس دیکھو تمہاری کیا رائے ہے؟”

جواب میں حضرت اسماعیلؑ نے کہا:

“اے ابا جان! آپ وہی کیجئے جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔”

یہ جواب ایک ایسے بیٹے کا تھا جس کی تربیت محض ظاہری تعلیم تک محدود نہیں تھی بلکہ اس کے دل میں ایمان، ادب، اطاعت اور قربانی کا جذبہ راسخ ہوچکا تھا۔ اقبالؒ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ آخر اسماعیلؑ کو “آدابِ فرزندی” کس نے سکھائے؟ کیا یہ کسی مدرسے کی تعلیم تھی یا ایک باپ کی نگاہِ تربیت کا اثر؟

حقیقت یہ ہے کہ اولاد کی پہلی درسگاہ گھر ہوتا ہے۔ ماں کی گود اور باپ کا کردار بچے کی شخصیت پر سب سے گہرا اثر ڈالتا ہے، اگر والدین خود سچائی، دیانت، عبادت، احترام اور اخلاق کا عملی نمونہ ہوں تو اولاد بھی انہی صفات کو اپناتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں والدین کی ذمہ داری صرف خوراک، لباس اور تعلیم تک محدود نہیں بلکہ اخلاقی و روحانی تربیت بھی ان کا بنیادی فرض ہے۔

آج ہمارا معاشرہ ایک بڑے اخلاقی بحران کا شکار ہے۔ تعلیمی ادارے بڑھ رہے ہیں، ڈگریاں عام ہورہی ہیں، ٹیکنالوجی ترقی کررہی ہے، مگر اس کے باوجود معاشرے میں بدتمیزی، بے ادبی، خود غرضی، عدم برداشت اور والدین کی نافرمانی میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے تعلیم کو صرف معاشی کامیابی کا ذریعہ سمجھ لیا ہے جبکہ کردار سازی کو نظر انداز کردیا ہے۔

اقبالؒ کے نزدیک تعلیم کا اصل مقصد انسان میں خودی، ایمان، حریتِ فکر اور اخلاقی قوت پیدا کرنا ہے۔ وہ ایسی تعلیم کے مخالف تھے جو صرف ذہن کو روشن کرے مگر دل کو تاریک چھوڑ دے۔ ان کے نزدیک وہ قوم کبھی ترقی نہیں کرسکتی جس کی نوجوان نسل اخلاقی بنیادوں سے محروم ہو۔

یہ شعر اساتذہ کے لیے بھی ایک عظیم پیغام رکھتا ہے۔ ایک استاد صرف کتاب پڑھانے والا نہیں بلکہ نسلوں کا معمار ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب اساتذہ نے کردار سازی کو اپنا مقصد بنایا تو صلاح الدین ایوبیؒ، محمد بن قاسمؒ اور شاہ ولی اللہؒ جیسے عظیم انسان پیدا ہوئے۔ لیکن جب تعلیم صرف امتحان اور نوکری تک محدود ہوگئی تو معاشرے میں مادہ پرستی بڑھ گئی۔

اقبالؒ نے “فیضانِ نظر” کی جو اصطلاح استعمال کی ہے، اس سے مراد محض دیکھنا یا نظر کا فیض نہیں بلکہ وہ روحانی اور اخلاقی اثر ہے جو ایک صالح شخصیت اپنی اولاد اور شاگردوں پر ڈالتی ہے۔ ایک باعمل باپ، ایک دیندار ماں اور ایک مخلص استاد کی نگاہ نسلوں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں تربیت کو تعلیم پر فوقیت حاصل ہے۔

یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا جدید دور میں حضرت اسماعیلؑ جیسی اطاعت اور ادب ممکن ہے؟ اس کا جواب یقیناً ہاں میں ہے، بشرطیکہ ہم اپنے گھروں میں دینی ماحول پیدا کریں، اولاد کو وقت دیں، ان کے سوالات سنیں، ان کے ساتھ محبت اور حکمت سے پیش آئیں، اور خود بھی عملی نمونہ بنیں۔ صرف نصیحتیں کافی نہیں ہوتیں بلکہ کردار کی زبان سب سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔

معاشرتی اعتبار سے بھی یہ شعر انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ قومیں جن کی نوجوان نسل اپنے بڑوں کا احترام کرتی ہے، قربانی کا جذبہ رکھتی ہے اور اخلاقی اصولوں پر قائم رہتی ہے، وہی دنیا میں عزت حاصل کرتی ہیں۔ اس کے برعکس جب اولاد والدین سے دور، خاندان بکھرے ہوئے اور تربیت کمزور ہوجائے تو معاشرہ انتشار اور زوال کا شکار ہوجاتا ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اقبالؒ کے اس پیغام کو صرف پڑھنے تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔ والدین اپنی اولاد کے لیے مثالی کردار بنیں، اساتذہ علم کے ساتھ اخلاق بھی سکھائیں، اور معاشرہ نوجوان نسل کی فکری و روحانی تربیت پر توجہ دے۔ کیونکہ اگر کردار مضبوط ہو تو قومیں ہر میدان میں کامیاب ہوجاتی ہیں۔

علامہ اقبالؒ کا یہ شعر دراصل ایک فکری دعوت ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عظیم اولاد صرف نصابی تعلیم سے نہیں بلکہ ایمان افروز تربیت، صالح ماحول اور والدین کی پاکیزہ نگاہ سے تیار ہوتی ہے، اگر ہم اپنی نسلوں میں اسماعیلؑ جیسا ادب، اطاعت اور قربانی پیدا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ابراہیمی کردار اپنانا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو فرد کو باکردار، خاندان کو مضبوط اور قوم کو عظمت عطا کرتا ہے۔

urdu column Faizan-e-Nazar and Adab-e-Farzandi

50% LikesVS
50% Dislikes

فیضانِ نظر” اور “آدابِ فرزندی”۔ اقبالؒ کا فکری پیغام. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں