urdu column Education Fellows Services and the State's Responsibilitie

ایجوکیشن فیلوز کی خدمات اور ریاست کی ذمہ داریاں. طہٰ علی تابش بلتستانی
02 جولائی، 2026
​ایک محتاط اندازے کے مطابق گلگت بلتستان کے اسکولوں اور کالجوں میں تقریباً تین ہزار سے زائد اساتذہ کی کمی بتائی جاتی ہے۔ ایسے سنگین حالات میں، 1258 ایجوکیشن فیلوز کا کنٹریکٹ ختم ہونا اور اس کے نتیجے میں اسکولوں کا بائیکاٹ، یقینی طور پر بچوں کے مستقبل پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

​ایجوکیشن فیلوز کی خدمات واقعی قابلِ تعریف ہیں۔ حالیہ پانچویں اور آٹھویں جماعت کے بہترین امتحانی نتائج اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ سرکاری اسکولوں میں ایجوکیشن فیلوز دیگر اساتذہ کے ساتھ مل کر قوم کے معماروں، بالخصوص معاشرے کے اس غریب طبقے کے بچوں کے مستقبل کو سنوارنے کے لیے بہترین انداز میں کام کر رہے ہیں جو نجی (پرائیویٹ) اداروں کی لاکھوں روپے فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

​ان ایجوکیشن فیلوز کی تربیت پاکستان کے مایہ ناز ادارے “آغا خان فاؤنڈیشن” نے کی ہے، بلکہ یہ نظام خود ان ہی کی زیرِ نگرانی چل رہا ہے۔ ہر ایجوکیشن فیلو کو اکیسویں صدی کی جدید تعلیمی حکمتِ عملی (21st Century Strategy) کے مطابق تربیت دی گئی ہے۔ یہ تمام فورس بچوں کو روایتی اور پرانے طریقوں (Methods) کے برعکس، ایک نئی جستجو، ولولے اور بہترین منصوبہ بندی کے ساتھ تعلیم دے رہی ہے۔
​محکمۂ تعلیم (ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ) میں ایجوکیشن فیلوز کی خدمات بے لوث ہیں۔ اس فورس نے گلگت بلتستان کے سخت ترین سرد موسم میں بھی قوم کے معماروں کی تعلیم و تربیت کا عمل جاری رکھا۔

​اب ایسے میں اچانک وسطِ جون (Mid of June) میں ان کا کنٹریکٹ ختم ہونا اور کلاسز کا بائیکاٹ، یقیناً قوم کے نونہالوں کے تعلیمی مستقبل کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
​ایجوکیشن فیلوز کی ان مخلصانہ خدمات اور بچوں کے تعلیمی سال کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہم حکومتِ گلگت بلتستان، وزیرِ تعلیم اور بالخصوص سیکریٹری تعلیم سے پرزور گزارش کرتے ہیں کہ جلد سے جلد ایجوکیشن فیلوز کے نئے کنٹریکٹ کی منظوری دے کر قوم کے معماروں کے مستقبل کو محفوظ بنائیں۔

​نیز، ان کی گراں قدر خدمات کے پیشِ نظر ان کی تنخواہوں پر بھی نظرِ ثانی کی جائے، کیونکہ موجودہ وقت میں ان کا مشاہرہ ایک عام دیہاڑی دار مزدور سے بھی کم ہے۔ خدمات اپنی جگہ، لیکن نوے فیصد ایجوکیشن فیلوز اسی قلیل رقم سے اپنے گھر کا چولہا چلاتے ہیں۔ اس شدید مہنگائی کے دور میں ان کی آدھی سے زیادہ تنخواہ صرف اسکول آنے جانے کے ایندھن ( Fuel ) کی نذر ہو جاتی ہے۔

​پاکستان ہمیشہ پائندہ باد۔

urdu column Education Fellows: Services and the State’s Responsibilitie

50% LikesVS
50% Dislikes

ایجوکیشن فیلوز کی خدمات اور ریاست کی ذمہ داریاں. طہٰ علی تابش بلتستانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں