گلگت بلتستان ، خالص عوامی جدوجہد اور حکمرانوں کا امتحان، سکندر علی بہشتی

گلگت بلتستان ، خالص عوامی جدوجہد اور حکمرانوں کا امتحان، سکندر علی بہشتی
اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا،احتجاج،میڈیا کااستعمال،عدالت سے رجوع سمیت اپنے مطالبات کے حصول کے لیے مختلف طریقے سے حکومتی ایوانوں تک آواز پہنچانا عوام کا جمہوری حق ہے۔جس میں رکاوٹ ڈالنا کسی صورت درست نہیں۔
اس تناظر میں گلگت بلتستان کے عوام پچھلے کئی دنوں سے اپنے حقوق کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس عوامی آواز پر توجہ دیں۔ گلگت بلتستان کے محب وطن عوام اور یہاں کے مذہبی وقومی قائدین کے موقف کو سنیں۔مسائل کے حل کا واحد راستہ گفتگو،مذاکرت اور عوامی آواز پر توجہ دینا ہے۔جوکہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔
اس کے برخلاف طاقت کا استعمال،سخت سردی کے موسم میں احتجاج کی قیادت کرنے والے رہنماؤں کے خلاف فورتھ شیڈول سمیت مختلف ہتھکنڈوں کا استعمال عوام میں مزید بے چینی اور حکومت سے نفرت کا باعث بنے گا جوکسی بھی صورت ملکی مفاد میں نہیں۔
اس وقت ملک عزیز پاکستان کو اندرونی و بیرونی چیلجز کا سامنا ہے۔باہمی امن ،اتحاد، رواداری ،برداشت اور وسیع النظری کے ساتھ مسائل کے حل کی جانب توجہ دینا اہل اقتدار کی ذمہ داری ہے۔
عوامی آواز سے فرار حقیقت میں حکمرانوں کی کمزوری اور گفتگو اور جمہوری طریقوں سے ناکامی کی علامت ہے۔
یہ سب کو معلوم ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام نے سخت سے سخت حالات میں ہمیشہ پاکستان سے وفاداری نبھائی ہے۔ اور اس راہ میں دشمن بھارت کی تمام پروپیگنڈوں کوناکام بنایاہے۔ساتھ ہی اپنے آئینی و جمہوری حقوق کے لیے مسلسل پرامن احتجاج کرتے آئے ہیں۔
عوامی نمائندوں کا انتخاب بھی اسی لیے کیا جاتاہے کہ وہ عوامی ایشوز اور مسائل کو ایوان میں حل کریں۔عوام کی ترجمانی کریں اور حکومت سے اپنے مطالبات منوائیں۔سخت سردی میں عوامی احتجاج اور اہم مسئلہ پر عوامی نمائندوں کی خاموشی ولاتعلقی بھی لمحہ فکریہ ہے۔اور گلگت بلتستان کے عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کیاہے۔کہ آج عوامی نمائندے خالص عوامی ایشو پر کیوں منظر عام سے غائب ہیں۔!!

گلگت بلتستان کی حکومت کو احتجاجی تحریک کے مرکزی قائدین کے ساتھ جلد گفتگو کا سلسلہ شروع کرنا چاہیے۔اور اس متنازعہ گندم ایشو پر عوامی خواہشات کے مطابق راہ تلاش کرنا اور بہترین حکمت عملی حکومت کی جمہوری اصولوں پر کاربند رہنے کی علامت ہے۔

دنیا میں وہی حکومتیں قائم رہتی ہیں جس میں عوام وحکومت میں اعتماد کا رشتہ قائم ہو۔اور عوام کے ساتھ انصاف ہو۔عوام اس ملک میں امن کے ساتھ زندگی بسر کریں۔

اقتدار ایک فانی چیز ہے۔اور تاریخ بھی ایسے حکمرانوں سے پر ہیں۔جوآج دیدہ عبرت بنے ہوئے ہیں تاریخ اپنے آپ کو بھی یاد کرے گی ۔آج وقتی،عارضی اور محدود طاقت جوحکمرانون کو ملی ہے اس سے عوام،معاشرہ اور قوم کی خدمت کرتے ہیں یا عوامی مسائل کی بجائے ذاتی مسائل اور وقتی طور پر موجود کرسی کو مدنظر رکھ کر مستقبل میں اس قوم کے سامنے خود کوپیش کرتے ہیں
ہمارے خیال میں یہ وقت ہمارے نمائندوں،حکمرانوں اور بیوروکریسی کے لیے کڑا امتحان ہے۔کس طرح اس عوامی ایشو کو حکمت عملی کے ساتھ عوامی خواہشات کے مطابق حل کرتے ہیں یا طاقت کا استعمال اور مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے۔
حکومت وقت کو چایئے کہ باہمی اعتماد کے ساتھ مذاکرات کرے، تاکہ گفتگو ہو اور مسائل کے حل کے لیے معقول راہوں کا انتخاب اور عوامی مصلحتوں کو پیش رکھ کر ہی مثبت نتیجے تک پہنچنا ممکن ہے۔جو کہ اس وقت حکومت وقت کے ہاتھ میں ہے۔
سکندر علی بہشتی
urdu-column-column-in-urdu-pure-public-struggle-and-a-test-of-rulers

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں