خواب اوڑھ کر سو گئے. آمینہ یونس، بلتستانی
اولیور ہیز برطانیہ کے شہر شیفیلڈ میں پیدا ہوا تھا۔ اس کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے تھا جہاں والدین محنت مزدوری کرکے گھر چلاتے تھے۔ وہ ان کی اکلوتی اولاد تھا، اس لیے گھر کی توجہ کا مرکز بھی تھا۔ جب وہ تھوڑا بڑا ہوا تو اسے سکول میں داخل کرا دیا گیا۔ وہاں وہ ہم عمروں کے ساتھ کم گھلتا ملتا اور اکثر پینسل اور کاپی لیے کچھ نہ کچھ بناتا رہتا۔ غور کرنے پر معلوم ہوتا کہ وہ اپنی کاپی پر پہاڑوں کی تصویریں بناتا ہے۔ ایک دن ماں نے پوچھا، “تم ہر وقت پہاڑ ہی کیوں بناتے ہو؟ پڑھائی پر بھی توجہ دیا کرو۔” اس نے مسکرا کر جواب دیا، “میں بڑا ہو کر پہاڑوں کی سیاحت کروں گا، مجھے پہاڑ بہت پسند ہیں۔” ماں نے سمجھایا، “بیٹا، پہاڑوں کا راستہ آسان نہیں ہوتا۔ وہاں جان ہتھیلی پر رکھ کر جانا پڑتا ہے۔ کوئی اور پیشہ اختیار کرو جس میں خطرہ بھی کم ہو اور شوق بھی پورا ہو جائے۔” مگر اس نے ایک نہ سنی۔ وقت کے ساتھ اس کا شوق بڑھتا گیا۔ تعلیم مکمل کرکے نوکری شروع کی تو تنخواہ کا کچھ حصہ خرچ کرتا اور باقی جمع کرتا رہا۔ ساتھ ہی پہاڑوں سے متعلق کتابیں پڑھتا اور معلومات حاصل کرتا رہا۔ انہی دنوں اس کی نظر پاکستان میں واقع دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو پر پڑی۔ اس کے بارے میں جتنا پڑھتا، اتنی ہی کشش محسوس کرتا۔ اسے لگتا جیسے یہ پہاڑ اسے اپنی طرف بلا رہا ہو۔ آخر ایک دن اس نے اپنی جمع پونجی دیکھی اور دل میں فیصلہ کر لیا کہ اب خواب کی تعبیر کا وقت آ گیا ہے۔ محض تیس برس کی عمر میں والدین سے دعائیں لے کر پاکستان روانہ ہو گیا۔ ائر ہوسٹس نے اعلان کیا، “ہم چند منٹ میں سکردو ائر پورٹ پر اتریں گے۔” کھڑکی سے نیچے دیکھا تو ایسا لگا جیسے سکردو شہر مسافروں کے استقبال کے لیے بانہیں پھیلائے کھڑا ہو۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی سرشاری تھی، کیونکہ وہ اپنی زندگی کے سب سے بڑے خواب کی طرف جا رہا تھا۔ اسلام آباد پہنچ کر اس نے دو دن قیام کیا اور پھر سکردو روانہ ہو گیا۔ سکردو پہنچنے پر اس کا استقبال ٹریول ایجنسی کے نمائندے اور گائیڈ یوسف نے کیا۔ وہاں دو اور غیر ملکی سیاح بھی موجود تھے جو اسی مہم کا حصہ تھے۔ مختصر آرام اور تیاری کے بعد وہ آگے روانہ ہوئے۔ راستہ ختم ہوا تو پیدل سفر شروع ہوا۔ اب اصل آزمائش سامنے تھی۔ دن بھر چلنا، رات کو خیموں میں قیام کرنا، پتھریلے راستے، تھکن، کم ہوتی ہوئی سہولتیں اور مسلسل آگے بڑھنے کی خواہش۔ کئی بار اسے محسوس ہوا کہ خواب دیکھنا آسان اور انہیں پورا کرنا مشکل ہوتا ہے۔ چند دنوں کی مسلسل پیدل مسافت کے بعد آخر وہ کے ٹو کے بیس کیمپ پہنچ گئے۔ سامنے رنگ برنگے خیمے لگے تھے۔ دنیا کے مختلف ملکوں سے آئے کوہ پیما وہاں موجود تھے۔ کچھ لوگ کئی دنوں سے موسم صاف ہونے کے انتظار میں تھے۔ ہر چہرے پر ایک ہی خواہش تھی— چوٹی تک پہنچنا۔ صبح کے وقت وہ دوربین لے کر ایک طرف جا کھڑا ہوا۔ سامنے کے ٹو اپنی پوری عظمت کے ساتھ کھڑا تھا۔ اس نے آہستہ سے کہا: “تم مغرور کیوں نہ ہو… تمہیں دیکھنے اور تمہیں سر کرنے کے لیے لوگ دنیا بھر سے یہاں آتے ہیں۔” یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھ سے خوشی کا ایک قطرہ ڈھلک گیا۔ تقریباً پندرہ دن انتظار کے بعد موسم بہتر ہونے لگا۔ بادل ہٹے اور نیلا آسمان نمودار ہوا تو بیس کیمپ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ سب نے اپنی تیاری مکمل کی۔ روانگی سے پہلے اس نے والدین سے بات کی اور کہا: “بچپن سے جو خواب دیکھا تھا، اب وہ میرے سامنے کھڑا ہے۔ دعا کیجیے میں اسے پورا کرکے واپس آؤں۔” اگلی صبح تین افراد پر مشتمل قافلہ روانہ ہوا۔ شروع میں ہر قدم اسے خواب کے قریب لے جا رہا تھا۔ اسے لگ رہا تھا جیسے برسوں کی خواہش اب حقیقت بننے والی ہے۔ مگر جوں جوں بلندی بڑھتی گئی، حقیقت بھی واضح ہوتی گئی۔ سانس بھاری ہونے لگی، راستے خطرناک ہوتے گئے، نیچے برف کی گہری دراڑیں خوف پیدا کرتیں اور رسی کا ہر سہارا زندگی اور موت کے درمیان لکیر محسوس ہوتا۔ چند دن بعد اچانک موسم بدل گیا۔ تیز ہوائیں چلنے لگیں۔ آسمان پر سیاہ بادل چھا گئے۔ برف گرنے لگی۔ تینوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا مگر واپسی اور آگے بڑھنے کے درمیان فیصلہ مشکل تھا۔ رات گہری ہوئی اور طوفان شدید۔ برفانی تودے گرنے لگے۔ اس لمحے اسے احساس ہوا کہ شاید ہر خواب چوٹی تک پہنچ کر مکمل نہیں ہوتا۔ اس نے دل ہی دل میں سوچا: “اگر منزل تک نہ بھی پہنچ سکا تو کیا ہوا… شاید خوابوں کے قریب سو جانا بھی ایک تعبیر ہو۔” اس نے آنکھیں بند کیں تو اسے ماں کی آنکھیں یاد آئیں… وہی آنکھیں جنہوں نے اسے ایسے خوابوں سے روکا تھا جہاں زندگی سے زیادہ موت قریب ہوتی ہے۔ اچانک ایک زور دار آواز آئی۔ رسی ٹوٹ گئی۔ ہر طرف اندھیرا، برف اور خاموشی پھیل گئی۔ آخری لمحے اس کے دل میں صرف ایک حسرت ابھری کہ کاش وہ اس چوٹی تک پہنچ جاتا۔ مگر اگلے ہی لمحے وہ دنیا سے بے خبر کے ٹو کی سرد اور بے رحم برف کے نیچے ہمیشہ کے لیے سو گیا۔ اپنا پہلا اور آخری خواب اوڑھ کر۔
urdu column Asleep Beneath a Blanket of Dreams




