Through the Windows of the Past 0

عنوان: ماضی کے دریچوں سے ۔تانگے کی سوری آج کی یاد. محمد عابد رشید
ایک وقت تھا جب ہمارے شہروں، گلیوں اور بازاروں کی رونق ٹانگا گھوڑا ہوا کرتا تھا۔
یہ صرف ایک سواری نہیں بلکہ محبت، سکون، روایت اور اپنائیت کی جیتی جاگتی تصویر تھی۔ گھوڑے کی ٹاپوں کی آواز جیسے دل کی دھڑکنوں میں اتر جاتی تھی۔ لوگ آرام سے سفر کرتے، راستے میں ایک دوسرے کو سلام کرتے، حال چال پوچھتے اور سفر بھی ایک خوشگوار یاد بن جاتا تھا۔
“آؤ جی… بیٹھ جاؤ… آرام نال پہنچا دوں گا…”
یہ آواز سنتے ہی بچے خوش ہوجاتے تھے۔ بزرگ ٹانگے میں بیٹھ کر دعائیں دیتے اور نوجوان راستے بھر ہنسی مذاق کرتے رہتے۔
ایک دن میں نے ایک بوڑھے ٹانگے والے سے پوچھا:
“بابا جی! کیا اُس وقت کی زندگی واقعی اتنی خوبصورت تھی؟”
وہ ہلکا سا مسکرایا، گھوڑے کی گردن پر ہاتھ پھیرا اور بولا:
“پُتر! اُس وقت لوگوں کے پاس وقت کم نہیں تھا، دل بڑے تھے… سفر چھوٹے ہوتے تھے مگر رشتے لمبے ہوتے تھے…”
پھر اُس نے ایک گہری سانس لی اور کہنے لگا:
“آج گاڑیاں تیز ہوگئی ہیں، سڑکیں بڑی ہوگئی ہیں، موبائل آگئے، دنیا جدید ہوگئی… مگر لوگ ایک دوسرے سے دور ہوگئے ہیں۔ پہلے ٹانگے میں بیٹھ کر لوگ دل کا حال سناتے تھے، آج گاڑیوں میں بیٹھ کر سب موبائل دیکھتے رہتے ہیں…”
اس کی بات نے دل کو عجیب خاموشی دے دی۔
واقعی آج کا جدید دور بہت ترقی یافتہ ہے۔ نئی گاڑیاں، بڑی بڑی سڑکیں، تیز رفتار زندگی اور لمحوں میں رابطے کی سہولت موجود ہے، مگر اُس پرانے وقت کا سکون، وہ خلوص، وہ اپنائیت کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔
ٹانگا گھوڑا شاید آج کم نظر آتا ہے، مگر ماضی کی یادوں میں آج بھی اُس کی ٹاپوں کی آواز گونجتی ہے۔ وہ آواز ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ترقی ضرور کریں، مگر اپنی روایت، محبت اور انسانیت کو کبھی نہ بھولیں۔
چھوٹا سا مکالمہ
میں نے پوچھا:
“بابا جی! ٹانگا اب کیوں کم ہوگیا؟”
وہ مسکرا کر بولا:
“پُتر! زمانہ بدل گیا اے…
اب لوگوں کو منزل جلدی چاہیے، سفر کا مزہ نہیں…”
چھوٹا سا نعرہ
“ٹاپوں کی آواز میں تھا اک زمانہ آباد،
ٹانگا نہیں تھا فقط… ماضی کی محبت تھی بے حساب!”

ایک ان کہی نسبت : عارفہ اسحاق ، ثمرین کے نام
Through the Windows of the Past

50% LikesVS
50% Dislikes

عنوان: ماضی کے دریچوں سے ۔تانگے کی سوری آج کی یاد. محمد عابد رشید

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں