Unspoken Connection In the Name of Samreen 0

ایک ان کہی نسبت : عارفہ اسحاق ، ثمرین کے نام
ثمرین کے نام — ایک ان کہی نسبت
ستمبر آتے ہی وقت کے لہجے میں ایک عجیب سی پژمردگی اتر آتی ہے۔ صبحیں جیسے کسی نامعلوم انتظار میں خاموش، شامیں کسی انجانی اداسی میں طویل، اور فضاؤں میں ایک ایسی کیفیت ٹھہر جاتی ہے جس کا کوئی واضح سبب نہیں ہوتا۔ شاید بعض موسم، موسم نہیں ہوتے… وہ کسی شخص کی یاد کا استعارہ ہوتے ہیں۔ شاید اسی لیے 6 ستمبر بھی میرے لیے محض تقویم پر ثبت ایک تاریخ نہیں، یہ اُس ہستی کے ظہور کا دن ہے جس کی موجودگی نے کبھی زندگی کے معمولی لمحوں کو بھی غیر معمولی معنویت عطا کی تھی۔ ثمرین! زمانہ اپنی گردش میں بہت کچھ بدل دیتا ہے۔ کچھ آوازیں خاموش ہو جاتی ہیں، کچھ گفتگوئیں ادھوری رہ جاتی ہیں، کچھ راستے یکایک اجنبی ہو جاتے ہیں، اور کچھ لوگ بغیر رخصت ہوئے بھی ہماری روزمرہ دنیا سے کہیں دور چلے جاتے ہیں۔ مگر عجیب بات ہے، کچھ نسبتیں فاصلے سے کم نہیں ہوتیں، خاموشی میں اور گہری ہو جاتی ہیں۔ تمہارا نام بھی میرے حافظے کے اُس گوشۂ راز میں محفوظ ہے جہاں وقت کی دسترس شاید ختم ہو جاتی ہے؛ جہاں گزری ہوئی باتیں اب بھی اپنی مدھم سی بازگشت رکھتی ہیں، جہاں خاموشی کبھی کبھی لفظوں سے زیادہ کہہ جاتی ہے، اور جہاں کچھ احساسات کو نام دے دیا جائے تو شاید ان کی حرمت کم ہو جائے۔ آج تمہارے یومِ ولادت پر بہت کچھ لکھنے کو دل چاہتا ہے، مگر بعض جذبات ایسے ہوتے ہیں جنہیں لفظوں میں ڈھالنا اُن کی گہرائی کم کر دیتا ہے۔ اس لیے کوئی شکوہ نہیں، کوئی سوال نہیں، کوئی گزرے ہوئے وقت کا حساب نہیں، صرف ایک دعا ہے۔ ایسی دعا جس میں کوئی نمود نہیں، صرف خلوص کی وہ خاموش روشنی ہے جو لفظوں کی محتاج نہیں ہوتی۔ پروردگار تمہاری زندگی سے ہر وہ اداسی دور کر دے جس کا سبب کبھی بیان نہ ہو سکا۔ تمہارے دل کے ان گوشوں کو سکون عطا کرے جہاں زندگی کی ہلچل کبھی دستک دے کر گزر گئی ہو۔ تمہیں وہ خوشیاں عطا ہوں جن کے لیے تم نے کبھی زبان سے سوال نہیں کیا، وہ اطمینان ملے جو کسی شخص، کسی وقت اور کسی تعلق کا محتاج نہ ہو، اور تمہاری قسمت میں ایسی روشنی لکھی جائے جس کے سامنے ماضی کے تمام سائے بےمعنی ہو جائیں۔ اور اگر کبھی کسی خاموش شام میں ماضی کا کوئی ورق بےصدا پلٹ جائے، تو اسے محض اتفاق نہ سمجھنا… کچھ یادیں لوٹ کر نہیں آتیں، صرف اپنی موجودگی کا احساس دلا کر گزر جاتی ہیں۔ ثمرین، یومِ ولادت مبارک ہو۔ تمہاری عمر کا ہر نیا سال صرف وقت میں اضافہ نہ کرے، بلکہ تمہارے وجود میں وقار، تمہاری خاموشیوں میں سکون، تمہاری آنکھوں میں روشنی، اور تمہارے نصیب میں وہ خوشی رقم کرے جسے الفاظ کبھی مکمل طور پر بیان نہیں کر سکتے۔ بعض دعائیں کہی نہیں جاتیں، صرف دل سے اٹھتی ہیں، اور شاید اسی لیے سب سے زیادہ سچی ہوتی ہیں۔

Unspoken Connection: In the Name of Samreen

50% LikesVS
50% Dislikes

ایک ان کہی نسبت : عارفہ اسحاق ، ثمرین کے نام

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں