خاموش قابلیت، وقت کی پہچان. محمد عابد رشید
انسان کے پاس موجود ہر خوبی، ہر صلاحیت اور ہر معلومات اس بات کی محتاج نہیں کہ اسے دنیا کے سامنے بیان کیا جائے۔ بعض اوقات انسان کی اصل عظمت اس میں نہیں ہوتی کہ وہ کتنا جانتا ہے، بلکہ اس میں ہوتی ہے کہ وہ اپنے علم، قابلیت اور مقام کو کس قدر خاموشی سے سنبھال کر رکھتا ہے۔
آج کے دور میں ہر شخص خود کو نمایاں کرنے کی دوڑ میں شامل ہے۔ کسی کے پاس تھوڑی سی معلومات آتی ہیں تو وہ اسے بحث کا موضوع بنا دیتا ہے، کوئی معمولی کامیابی حاصل کرتا ہے تو اسے دنیا کے سامنے بار بار دہراتا ہے، اور بعض لوگ اپنی ذاتی زندگی کے ہر پہلو کو سوشل میڈیا پر اس طرح پیش کرتے ہیں جیسے زندگی کوئی کھلی کتاب ہو۔ مگر دانائی کا تقاضا اس کے برعکس ہے۔
سمجھدار انسان جانتا ہے کہ کہاں بولنا ہے، کب بولنا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کہاں خاموش رہنا ہے۔
خاموشی کمزوری نہیں، بلکہ بعض اوقات یہ انسان کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔ ہر سوال کا جواب دینا ضروری نہیں، ہر اختلاف میں الجھنا ضروری نہیں اور ہر شخص کو اپنی صلاحیت ثابت کرنا بھی ضروری نہیں۔ جو شخص ہر وقت خود کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہ دراصل اپنی توانائی دوسروں کی رائے بدلنے میں صرف کر دیتا ہے۔
زندگی ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ اپنی قابلیت کا شور نہ مچائیں، اسے اپنے کردار میں ظاہر ہونے دیں۔ اگر آپ واقعی باصلاحیت ہیں تو آپ کا کام، آپ کا اخلاق، آپ کا کردار اور آپ کا رویہ خود آپ کی پہچان بن جائے گا۔ پھول کبھی اپنی خوشبو کا اعلان نہیں کرتے، مگر خوشبو خود بتا دیتی ہے کہ یہاں کوئی خوبصورت پھول موجود ہے۔
اپنی معلومات کو ہر بحث میں استعمال کرنا بھی دانشمندی نہیں۔ ہر بات جان لینا اور ہر بات کہنا، دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔ بعض باتیں جاننے کے باوجود خاموش رہ جانا ہی عقل مندی ہے، کیونکہ الفاظ ایک مرتبہ زبان سے نکل جائیں تو واپس نہیں آتے، جبکہ خاموشی انسان کو بہت سی پشیمانیوں سے محفوظ رکھتی ہے۔
اسی طرح اپنی زندگی کو ہر ایک کے سامنے کھلی کتاب بنا دینا بھی مناسب نہیں۔ ہر شخص آپ کی خوشی کا خیرخواہ نہیں ہوتا اور ہر مسکراہٹ کے پیچھے خلوص نہیں ہوتا۔ زندگی میں کچھ خواب، کچھ منصوبے، کچھ رشتے اور کچھ کامیابیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں اپنے دل تک محدود رکھنا ہی بہتر ہوتا ہے۔
یاد رکھیں! جو شخص اپنی قدر جانتا ہے، وہ ہر جگہ اپنی قدر منوانے کی کوشش نہیں کرتا۔ وہ وقت کو اپنا گواہ بناتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ وقتی تعریف سے زیادہ اہم مستقل کردار ہے، اور وقتی واہ واہ سے زیادہ قیمتی وہ عزت ہے جو انسان کے کردار سے پیدا ہوتی ہے۔
دنیا شور کو جلد سنتی ہے، مگر وقت سچ کو پہچانتا ہے۔
اس لیے اپنی صلاحیتوں کو نمائش نہ بنائیں، اپنی معلومات کو بحث نہ بنائیں اور اپنی زندگی کو ہر ایک کے سامنے کھلی کتاب نہ رکھیں۔ اپنے کام پر توجہ دیں، اپنے کردار کو مضبوط کریں اور اپنی خاموش محنت کو جاری رکھیں۔
کیونکہ حقیقی قابلیت کو تعارف کی ضرورت نہیں ہوتی، وقت خود اس کا تعارف بن جاتا ہے۔
Silent Competence Recognizing the Value of Time
۔




