افسانہ: “محبت وقت مانگتی ہے۔” یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
فہد نے زندگی میں بہت کچھ حاصل کیا تھا۔
اچھی نوکری، اپنا گھر، عزت، بینک بیلنس، گاڑی… ہر وہ چیز جسے دنیا کامیابی کہتی ہے
اور انہی کامیابیوں کے درمیان اُس نے خاموشی سے ایک چیز کھو دی تھی….اپنا گھر۔۔۔۔۔
وہ اکثر سوچتا تھا کہ ایک مرد کی اصل ذمہ داری صرف کمانا ہے۔
اسی لیے اُس نے اپنی پوری جوانی دفتر کی فائلوں، میٹنگز اور حساب کتاب میں گزار دی۔
صبح جلدی نکل جانا، رات گئے واپس آنا، اور پھر تھکے لہجے میں صرف اتنا پوچھ لینا:
“کھانا لگا دو۔”
یہی اُس کی ازدواجی زندگی کا خلاصہ تھا۔
اُس کی بیوی، مریم، نہایت دھیمے مزاج کی عورت تھی۔
وہ اُن عورتوں میں سے تھی جو چیخ کر نہیں روتیں… خاموش ہو جاتی ہیں۔
شروع کے چند سالوں میں وہ فہد کا انتظار کیا کرتی تھی۔
رات گئے تک جاگتی رہتی۔
اُس کے ساتھ چائے پینے کی ضد کرتی۔
کبھی کہتی:
“آج چھت پر چلیں؟ موسم اچھا ہے…”
کبھی کہتی:
“کھانا ساتھ کھاتے ہیں نا…”
مگر ہر بار فہد کے پاس ایک ہی جواب ہوتا:
“بہت تھک گیا ہوں، مریم۔”
رفتہ رفتہ اُس نے کہنا چھوڑ دیا۔
پھر انتظار بھی کم کر دیا۔
اور آخرکار… اُس نے اپنی خواہشوں کو خاموشی اوڑھا دی۔
زندگی عجیب طریقے سے عادت بن جاتی ہے۔
فہد کو بھی مریم کی خاموش موجودگی کی عادت ہو گئی تھی۔
استری کیے ہوئے کپڑے الماری میں مل جاتے۔
گرم کھانا دسترخوان پر رکھا ہوتا۔
دوائی وقت پر سامنے آ جاتی۔
حتیٰ کہ اُس کے غصے بھی بغیر جواب کے برداشت کر لیے جاتے
اور انسان جب مسلسل محبت پاتا رہے تو اکثر اُسے محبت نظر آنا بند ہو جاتی ہے۔
دسمبر کی ایک سرد شام تھی۔
دفتر میں سالانہ آڈٹ چل رہا تھا۔ ہر طرف فائلیں پھیلی ہوئی تھیں، فون مسلسل بج رہے تھے، اور فہد کمپیوٹر اسکرین پر جھکا نمبروں میں گم تھا۔
تبھی موبائل اسکرین روشن ہوئی۔
مریم کا پیغام تھا:
“آج جلدی آ جائیے گا…”
فہد نے پیغام پڑھا، مگر جواب نہ دیا۔
اُسے لگا شاید گھر کا کوئی معمولی مسئلہ ہوگا۔
کچھ دیر بعد دوسرا پیغام آیا:
“برا نہ مانیں… مگر آج انتظار رہے گا۔”
فہد نے اس بار بھی موبائل ایک طرف رکھ دیا۔
رات بڑھتی گئی۔
میٹنگ ختم ہوئی، پھر ایک اور فائل کھل گئی، پھر کسی کلائنٹ کا فون آ گیا۔….
اور دیکھتے ہی دیکھتے ساڑھے دس بج گئے۔
گھر پہنچتے ہوئے اُسے عجیب سی تھکن محسوس ہو رہی تھی۔
مگر جیسے ہی اُس نے دروازہ کھولا، اُسے احساس ہوا کہ آج گھر معمول سے مختلف ہے۔
بہت خاموش۔…
ایسی خاموشی جیسے کوئی آواز مدت سے رکی کھڑی ہو۔
کچن صاف تھا۔
برتن ترتیب سے رکھے ہوئے تھے۔
ڈائننگ ٹیبل خالی تھی۔
وہ آہستہ آہستہ کمرے کی طرف بڑھا۔
مریم کھڑکی کے قریب بیٹھی تھی۔
سامنے ایک چھوٹا سا کیک رکھا تھا۔
موم بتیاں بجھ چکی تھیں اور اُن کی پگھلی ہوئی موم میز پر جم گئی تھی۔
فہد چند لمحے اُسے دیکھتا رہا۔
“یہ سب… کیا ہے؟”
مریم نے اُس کی طرف دیکھا۔
اور ہمیشہ کی طرح بہت دھیمی مسکراہٹ سے بولی:
“آج ہماری شادی کی تیسویں سالگرہ تھی…”
یہ جملہ سنتے ہی جیسے کسی نے اُس کے سینے پر بھاری پتھر رکھ دیا۔
وہ بالکل بھول گیا تھا۔
مکمل طور پر۔…
اُسے یاد ہی نہ رہا کہ آج کا دن کبھی اُن دونوں کے لیے دنیا کا سب سے خاص دن ہوا کرتا تھا۔
مریم نے نرم لہجے میں کہا:
“میں نے سوچا تھا آج آپ جلدی آ جائیں گے… تو ہم ساتھ کھانا کھائیں گے۔ بالکل پہلے سال کی طرح…”
فہد کے ہونٹ ہلے، مگر آواز نہ نکل سکی۔
اُسے پہلی بار محسوس ہوا کہ انسان صرف تاریخیں نہیں بھولتا… کبھی کبھی وہ اُن لوگوں کو بھی بھول جاتا ہے جو اُس کی پوری زندگی سنبھالے رکھتے ہیں۔
وہ خاموشی سے کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔
کمرے میں عجیب بوجھ تھا۔
پھر اُس نے دھیرے سے پوچھا:
“تم نے پہلے بتایا کیوں نہیں؟”
مریم ہلکا سا مسکرائی۔
“بتایا تو تھا…”
فہد نے چونک کر اُس کی طرف دیکھا۔
“صبح بھی… اور شام کو بھی…”
اُس کے ہاتھ بےاختیار موبائل کی طرف بڑھے۔
اسکرین پر وہی دو پیغامات جگمگا رہے تھے:
“آج جلدی آ جائیے گا…”
“آج انتظار رہے گا…”
اُس لمحے فہد کو لگا جیسے یہ دو جملے نہیں، ایک پوری زندگی اُس کے سامنے کھڑی ہو۔
ایک ایسی زندگی… جسے اُس نے ہمیشہ “بعد میں” کے لیے چھوڑ دیا تھا۔
اس رات دونوں نے ٹھنڈا کھانا کھایا۔
مگر شاید برسوں بعد پہلی بار ایک ساتھ بیٹھ کر کھایا۔
مریم چھوٹی چھوٹی باتیں کرتی رہی۔
وہ دن یاد دلاتی رہی جب اُن کے پاس کچھ نہیں تھا مگر وقت بہت تھا۔
جب وہ بارش میں بھیگتے ہوئے بازار جاتے تھے۔
جب ایک کپ چائے دونوں مل کر پیتے تھے۔
جب بجلی چلی جاتی تو وہ چھت پر بیٹھ کر دیر تک باتیں کرتے رہتے تھے۔
فہد خاموش سنتا رہا۔
اور اُسے محسوس ہوا کہ دولت بڑھنے کے ساتھ ساتھ اُس نے زندگی کے خوبصورت لمحے کماتے کماتے کہیں کھو دیے تھے۔
رات گئے جب مریم سونے لگی تو فہد نے پہلی بار اُس کا ہاتھ تھاما۔
وہ ہاتھ جو برسوں سے اُس کے لیے کام کرتے رہے تھے۔
وہ ہاتھ جو کبھی اُس کے ماتھے پر ٹھنڈا لمس رکھتے تھے۔
کبھی اُس کی بیماری میں رات بھر جاگتے تھے۔
کبھی بچوں کے کپڑے سیتے تھے۔
مگر فہد نے شاید کبھی اُنہیں غور سے دیکھا ہی نہیں تھا۔
“مریم…”
اُس کی آواز بھرا گئی۔
“مجھے معاف کر دو۔”
مریم نے فوراً اُس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی۔
“معافی مت مانگیے…”
وہ دھیرے سے بولی،
“بس کبھی کبھی… میرے ساتھ بیٹھ جایا کریں۔”
یہ جملہ فہد کے دل میں کہیں بہت گہرائی تک اتر گیا۔
اگلے دن دفتر میں اُس کا دل نہیں لگا۔
پہلی بار اُسے احساس ہوا کہ وہ برسوں سے صرف پیسہ کما رہا تھا، زندگی نہیں۔
شام ہوتے ہی اُس نے کمپیوٹر بند کیا۔
ساتھی حیران رہ گئے۔
“خیریت ہے فہد صاحب؟ آج اتنی جلدی؟”
وہ صرف مسکرا دیا۔
گھر پہنچا تو مریم صحن میں پودوں کو پانی دے رہی تھی۔
اُسے اس وقت دروازے پر دیکھ کر وہ چونک گئی۔
“آپ؟ ابھی؟”
فہد نے آگے بڑھ کر اُس کے ہاتھ سے پانی کی نلی لی اور مسکرا کر بولا:
آج دل جلدی گھر آنے کو کر رہا تھا۔”
مریم کچھ نہ بولی۔
مگر اُس کی آنکھوں میں جو روشنی ابھری، فہد نے اُس دن جان لیا کہ دنیا کی سب سے قیمتی خوشی کسی بڑے تحفے میں نہیں ہوتی…
بلکہ اُس احساس میں ہوتی ہے کہ
“کوئی آپ کے لیے وقت نکال رہا ہے۔”
رفتہ رفتہ بہت کچھ بدلنے لگا۔
فہد اب بھی کام کرتا تھا، مصروف رہتا تھا، مگر اب اُس نے اپنے گھر کو انتظارگاہ بنانا چھوڑ دیا تھا۔
اب وہ رات کا کھانا گھر والوں کے ساتھ کھاتا۔
اتوار بچوں اور مریم کے نام رکھتا۔
کبھی اچانک چائے بنا لاتا۔
کبھی مریم کے ساتھ چھت پر بیٹھ جاتا۔
اور حیرت انگیز طور پر…
اُسے سکون ملنے لگا۔
وہ سکون جو اُسے کبھی ترقی، بونس یا نئی گاڑی سے نہیں ملا تھا۔
ایک رات اُس نے مریم کو سوتے ہوئے دیکھا۔
اُس کے بالوں میں اب سفیدی بڑھ گئی تھی۔
آنکھوں کے کناروں پر باریک لکیریں آ گئی تھیں۔
وقت خاموشی سے اُس کے چہرے پر اتر آیا تھا۔
فہد دیر تک اُسے دیکھتا رہا۔
پھر اچانک اُس کے دل میں ایک خوف ابھرا…
اگر ایک دن یہ عورت نہ رہی تو؟
اگر ایک دن یہ خاموش انتظار ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا تو؟
اُس رات پہلی بار اُسے احساس ہوا کہ محبت کی سب سے بڑی بدقسمتی نفرت نہیں ہوتی…
بلکہ غفلت ہوتی ہے۔
چند دن بعد مریم نے چائے دیتے ہوئے مسکرا کر کہا:
“پتا ہے؟”
“کیا؟”
“اب گھر، گھر لگنے لگا ہے۔”
فہد نے اُس کی طرف دیکھا۔
“پہلے نہیں لگتا تھا؟”
مریم نے دھیرے سے جواب دیا:
“پہلے آپ صرف آتے تھے… اب ٹھہرتے بھی ہیں۔”
فہد خاموش ہو گیا۔
کیونکہ وہ جان چکا تھا کہ
زندگی میں سب کچھ کمانے کے بعد بھی انسان خالی رہ سکتا ہے…
اگر اُس کے اپنے لوگ
اُس کا انتظار کرتے کرتے خاموش ہو جائیں۔
Short Story Love Demands Time




