Shelter at RHQ Hospital Skardu 0

آر ایچ کیو ہسپتال اسکردو میں مسافر خانہ کیوں نہیں ہے؟ طہٰ علی تابش بلتستانی
آج میں ایک انتہائی اہم اور حساس موضوع کی طرف عوام الناس اور حکامِ بالا کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ جب بھی ہم اسکردو آر ایچ کیو ہسپتال جاتے ہیں تو اداس دل کے ساتھ ہی واپس لوٹتے ہیں۔ چار بڑے اضلاع کا یہ اکلوتا مرکزی ہسپتال آج بھی کئی بنیادی سہولیات اور شعبہ جات سے محروم ہے۔ تاہم، اس وقت میرا اصل مدعا یہ نہیں، بلکہ بنیادی سوال یہ ہے کہ چار اضلاع کے عوام کو طبی سہولیات فراہم کرنے والے اس ہسپتال میں آخر ایک مسافر خانہ کیوں موجود نہیں؟
حال ہی میں میری ملاقات ایک شخص سے ہوئی جن کی بیٹی پچھلے ایک ماہ سے ہسپتال میں زیرِ علاج ہے۔ یہ سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے کہ وہ پچھلے ایک ماہ سے ہسپتال کی چھت پر راتیں گزار رہے ہیں۔ یہاں تو ایک جان بچانے کی فکر میں سو اور جانیں خطرے میں پڑ رہی ہیں۔ اسی طرح جب میں مسجد میں نماز کے لیے گیا تو وہاں پاؤں رکھنے کی جگہ نہیں تھی، کیونکہ دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے تھکے ہارے لوگ وہیں سوئے ہوئے تھے۔ آخر یہ بے بس لوگ جائیں تو کہاں جائیں؟ کئی مجبور افراد ہسپتال کے صحن میں پڑے بینچوں پر ہی رات کاٹنے پر مجبور ہیں۔
اسکردو کے مقامی رہائشیوں کا معاملہ تو پھر بھی سمجھ آتا ہے کہ وہ علاج کے بعد اپنے گھروں کو لوٹ سکتے ہیں، لیکن کھرمنگ، شگر، گانچھے، روندو، گلتری اور دیگر دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے غریب اور نادار لوگ کہاں جائیں؟ ایک تو بیشتر ادویات باہر سے خریدنی پڑتی ہیں، اوپر سے اگر ہوٹل کا کرایہ بھی ادا کرنا پڑے تو انسان کو مریض کے علاج کے لیے اپنی جائیداد تک بیچنی پڑ جائے گی۔ فی الوقت تو موسم کچھ بہتر ہے، لیکن ستمبر کے مہینے سے ہی یہاں شدید سردی کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اس ہڈیاں جما دینے والی سردی میں اگر کوئی شخص کھلے آسمان تلے سوئے گا تو وہ خود بھی لازماً بیمار پڑ جائے گا۔
یہاں بات صرف پیسوں کی نہیں بلکہ احساس اور انسانیت کی ہے۔ وہ بھی انسان ہیں اور ہسپتال میں کوئی شوق سے نہیں، بلکہ ہزاروں مجبوریوں کے تحت آتا ہے۔ اگر ایسے وقت میں بھی ان کے پاس سر چھپانے کی جگہ نہ ہو، تو یہ ان تمام اضلاع کے عوامی نمائندوں کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ میری حکومتِ وقت اور ہسپتال انتظامیہ سے پرزور التماس ہے کہ ہسپتال کے حدود میں فوری طور پر ایک باقاعدہ مسافر خانہ تعمیر کیا جائے، یا فی الحال ہسپتال کی عمارت کے کسی بڑے ہال کو مسافروں کی رہائش کے لیے مختص کر دیا جائے۔ یہ نہ صرف انتہائی ضروری ہے بلکہ انسانیت کے بقا اور احترام کا تقاضا بھی ہے۔ ورنہ موجودہ صورتِ حال میں، بیمار کے ساتھ آنے والا تیماردار بھی جلد ہی خود مریض بن جاتا ہے۔ میری سوشل میڈیا صارفین سے بھی گزارش ہے کہ اس سنجیدہ اور اہم مسئلے کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کریں، کیونکہ کل کو کسی مجبوری کے تحت آپ میں سے بھی کسی کو اس ہسپتال کا رخ کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر آپ کے نزدیک بھی یہ مسئلہ واقعی اہم ہے، تو اس تحریر کو آگے ضرور شیئر کریں تاکہ یہ آواز اربابِ اختیار تک پہنچ سکے۔
جزاکم اللہ خیر۔

مضبوط دفاع، محفوظ پاکستان. سلیم خان ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا

دنیاوی تعلیم کے لیے پورا مال، قرآن کے لیے کیوں نہیں؟ شبیر حسین کمال

Shelter at RHQ Hospital Skardu

50% LikesVS
50% Dislikes

آر ایچ کیو ہسپتال اسکردو میں مسافر خانہ کیوں نہیں ہے؟ طہٰ علی تابش بلتستانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں