Spend Everything on Worldly Education 0

دنیاوی تعلیم کے لیے پورا مال، قرآن کے لیے کیوں نہیں؟ شبیر حسین کمال
انسان اپنے بچوں کی دنیاوی تعلیم کے لیے کتنی محنت کرتا ہے۔ اچھے اسکول کی تلاش، مہنگی فیس، کتابیں، یونیفارم، ٹرانسپورٹ، ٹیوشن اور نہ جانے کتنے اخراجات خوشی خوشی برداشت کرتا ہے۔ والدین یہ سوچتے ہیں کہ ہمارا بچہ پڑھ لکھ جائے، اچھی نوکری حاصل کرے، کامیاب انسان بنے اور دنیا میں عزت و مقام حاصل کرے۔ اس مقصد کے لیے لاکھوں روپے خرچ کرنے میں بھی انہیں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی۔
لیکن ایک سوال ہے جو ہمیں اپنے دل سے ضرور پوچھنا چاہیے?
ہم اپنے بچوں کی دنیاوی تعلیم کے لیے اتنا خرچ کرتے ہیں، مگر اللہ ج کی کتاب قرآنِ مجید سیکھنے اور سکھانے کے لیے ہماری ترجیحات کیا ہیں؟
دنیاوی تعلیم یقیناً ضروری ہے۔ڈاکٹر، انجینئر، استاد، وکیل اور دیگر شعبوں کے ماہرین معاشرے کی ضرورت ہیں۔ اسلام علم حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہم دنیا کے علم کو مستقبل کی ضمانت سمجھتے ہیں، جبکہ قرآن کے علم کو اکثر اضافی چیز سمجھ لیتے ہیں۔
بچے کو اسکول بھیجنے کے لیے ہم وقت نکالتے ہیں، فیس ادا کرتے ہیں، ہوم ورک کرواتے ہیں اور اس کی تعلیم کی فکر کرتے ہیں؛ لیکن جب قرآن پڑھنے کا وقت آتا ہے تو کہتے ہیں.
آج مصروف ہیں، کل پڑھ لیں گے۔
کبھی کہتے ہیں فیس زیادہ ہے، کبھی وقت نہیں ہے، کبھی بچہ تھکا ہوا ہے، اور کبھی قرآن سیکھنے کو اتنی اہمیت ہی نہیں دی جاتی۔
ذرا سوچیں
جس کتاب کو اللہ تعالیٰ نے ہماری ہدایت کے لیے نازل فرمایا، جس کی تلاوت دلوں کو سکون دیتی ہے، جو ہمیں صحیح اور غلط کا فرق بتاتی ہے، جو ہمیں زندگی گزارنے کا طریقہ سکھاتی ہے اور جس سے ہمارا دنیا و آخرت کا تعلق ہے، کیا اس کتاب کے لیے ہمارے پاس وقت اور معمولی سا خرچ بھی نہیں؟
ہم بچوں کے لیے یہ سوچ کر پیسہ خرچ کرتے ہیں کہ وہ کل ہمارا سہارا بنیں گے، مگر قرآن کی تعلیم انہیں ایسا انسان بناتی ہے جو اللہ کا فرمانبردار، والدین کا خدمت گزار اور معاشرے کے لیے فائدہ مند بن سکتا ہے۔
ہمیں اپنے بچوں کو صرف یہ نہیں سکھانا چاہیے کہ وہ دنیا میں کیسے کامیاب ہوں؛ بلکہ یہ بھی سکھانا چاہیے کہ اللہ کے ہاں کامیابی کیسے حاصل کی جاتی ہے۔
دنیاوی تعلیم انسان کو روزگار دے سکتی ہے، مگر قرآن انسان کو کردار دیتا ہے۔دنیاوی تعلیم انسان کو مقام دے سکتی ہے، مگر قرآن انسان کو مقصدِ زندگی سمجھاتا ہے۔
دنیاوی تعلیم انسان کو دنیا میں آگے لے جا سکتی ہے، مگر قرآن اسے آخرت کی تیاری سکھاتا ہے۔
اس لیے قرآن کی تعلیم کو بوجھ نہ سمجھیں۔اپنے بچوں کو قرآنِ مجید، تجوید، نماز، دعائیں اور دینی بنیادی تعلیم ضرور دیں۔اگر ایک استاد بچے کو قرآن پڑھانے کے لیے اپنا وقت اور محنت صرف کر رہا ہے تو اس کی محنت کی قدر کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ ہر چیز مفت ملنے کی خواہش رکھنے کے بجائے اپنی استطاعت کے مطابق قرآن کی تعلیم پر خرچ کرنا چاہیے۔
آخر میں صرف اتنا سوچیں
ہم اپنے بچے کے مستقبل کے لیے دنیا کی تعلیم پر ہزاروں، لاکھوں روپے خرچ کر سکتے ہیں، تو کیا اس کی آخرت کے لیے اللہ کی کتاب سیکھنے پر کچھ خرچ نہیں کر سکتے؟
دنیا چند دن کی ہے، لیکن قرآن سے تعلق انسان کے لیے زندگی بھر کا چراغ بن سکتا ہے۔اپنے بچوں کو دنیا کے ساتھ قرآن بھی دیں، کیونکہ دنیا کی کامیابی عارضی ہے، مگر اللہ کی کتاب سے جڑا ہوا دل آخرت کی کامیابی کا راستہ دکھاتا ہے۔

Spend Everything on Worldly Education

50% LikesVS
50% Dislikes

دنیاوی تعلیم کے لیے پورا مال، قرآن کے لیے کیوں نہیں؟ شبیر حسین کمال

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں