قلم کی طاقت. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، اکستان
کہتے ہیں کہ دنیا میں دو طاقتیں ایسی ہیں جو بظاہر کمزور دکھائی دیتی ہیں مگر زمانے کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، ایک خیال اور دوسرا قلم۔ خیال جب تک ذہن میں مقید رہتا ہے، محض ایک امکان ہوتا ہے، لیکن جب قلم اسے لفظوں کا لباس پہنا دیتا ہے تو وہ ایک ایسی قوت بن جاتا ہے جو خاموش ذہنوں کو آواز، بے سمت قوموں کو راستہ اور سوئے ہوئے معاشروں کو بیداری عطا کر سکتی ہے۔
قلم کی آواز بلند نہیں ہوتی، اس میں توپ کی گھن گرج بھی نہیں ہوتی، نہ اس میں تلوار کی سی چمک ہوتی ہے مگر عجیب بات ہے کہ یہی خاموش قلم کبھی کبھی ایسے انقلاب کی بنیاد رکھ دیتا ہے جس کی گونج صدیوں تک سنائی دیتی ہے۔ تلوار زمین فتح کرتی ہے، قلم ذہن فتح کرتا ہے تلوار جسم کو جھکا سکتی ہے، قلم انسان کے ضمیر کو بیدار کر سکتا ہے۔ تلوار خوف پیدا کرتی ہے، قلم جرآت مندی سے سوال کرتا ہے اور سوال ہی وہ پہلا چراغ ہے جس سے فکری بیداری کا سفر شروع ہوتا ہے۔
تاریخ کے اوراق پلٹیے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر بڑی فکری تبدیلی کے پس منظر میں لفظ کی کوئی نہ کوئی داستان ضرور موجود ہے۔ کبھی کسی مفکر نے ایک سوال اٹھایا، کبھی کسی ادیب نے معاشرے کے زخم پر انگلی رکھی، کبھی کسی صحافی نے ظلم کے پردے چاک کیے اور کبھی کسی شاعر نے ایک شعر کے ذریعے پوری نسل کے جذبات کو زبان دے دی۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے تاریخ کے بڑے بڑے دروازے پہلے قلم کی دستک سے کھلے اور بعد میں زمانے نے ان دروازوں سے گزر کر نئے راستے تلاشے اور نئی منزلیں دریافت کیں۔
قلم دراصل معاشرے کا آئینہ ہے۔ وہی دکھاتا ہے جو آنکھیں اکثر دیکھ کر بھی نظر انداز کر دیتی ہیں۔ گلی کے کنارے بیٹھا ہوا بھوکا بچہ، مزدور کے ہاتھ کی پھٹی ہوئی لکیریں، کسان کی پیشانی پر ٹھہرا پسینہ، کسی ماں کی آنکھ میں جمی ہوئی نمی اور کسی نوجوان کے خوابوں میں چھپی بے یقینی۔۔۔یہ سب مناظر اس وقت اجتماعی شعور کا حصہ بنتے ہیں جب کوئی صاحبِ قلم انہیں محسوس کرکے لفظ عطا کرتا ہے۔
یہاں قلم صرف بیان نہیں کرتا، گواہی دیتا ہے اور گواہی ہمیشہ زمہ داری کا تقاضا کرتی ہے۔
اسی لیے قلم کی اصل طاقت اس کی روشنائی میں نہیں بلکہ اس ہاتھ کے کردار میں ہوتی ہے جو اسے تھامتا ہے۔ اگر قلم سچ، دیانت اور انصاف کے تابع ہو تو وہ چراغ بن جاتا ہے لیکن اگر اسے تعصب، مفاد، بغض یا جھوٹ کے حوالے کر دیا جائے تو یہی چراغ آتش فشاں کا روپ دھار کر سب کچھ بھسم بھی کر سکتا ہے۔ ایک جھوٹی خبر کسی فرد کی عزت مجروح کر سکتی ہے، ایک بے بنیاد الزام کسی خاندان کو توڑ سکتا ہے اور ایک متعصبانہ تحریر معاشرے میں ایسی دراڑ ڈال سکتی ہے جسے بھرنے میں صدیاں بیت جائیں،
یہی وہ مقام ہے جہاں قلم کار کی ذمہ داری شروع ہوتی ہے۔
آج کا دور پہلے سے کہیں زیادہ تیز رفتار ہے۔ کبھی ایک خبر اخبار کے اگلے دن کے شمارے تک پہنچتی تھی، آج ایک جملہ چند لمحوں میں ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ موبائل فون، ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور سماجی ذرائع ابلاغ نے ہر شخص کو کسی نہ کسی درجے میں صاحبِ قلم بنا دیا ہے۔ اب صرف صحافی یا ادیب ہی نہیں، عام آدمی بھی ایک پوسٹ، ایک تبصرے یا ایک مختصر پیغام کے ذریعے رائے عامہ پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
یہ سہولت بلاشبہ نعمت ہے مگر اس کے ساتھ ایک سوال بھی کھڑا ہے: کیا ہماری رفتار نے ہماری زمہ داری کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے؟
ہم خبر کو تصدیق سے پہلے آگے بڑھا دیتے ہیں، رائے کو حقیقت سمجھ لیتے ہیں، افواہ کو اطلاع کا نام دے دیتے ہیں اور اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنے میں ایک لمحہ نہیں لگاتے۔ ایسے ماحول میں قلم کی زمہ داری پہلے سے کہیں بڑھ گئی ہے۔ آج قلم صرف کاغذ پر نہیں چل رہا بلکہ ہر ہاتھ میں موجود اسکرین پر بھی حرکت کر رہا ہے۔ اس لیے ہر لفظ لکھنے والے کو یہ سمجھنا ہوگا کہ لفظ تیر سے بھی زیادہ ۔تیز رفتار اور دو دھاری ہو سکتا ہے اور اس کا زخم بیشتر اوقات نظر بھی نہیں آتا۔
ایک زمہ دار قلم نفرت کے شعلے نہیں بھڑکاتا، وہ ان شعلوں کے درمیان پانی کی ایک لکیر کھینچتا ہے۔ وہ اختلاف کو دشمنی نہیں بننے دیتا۔ وہ معاشرے کے کمزور طبقات کو آواز دیتا ہے، طاقت ور سے سوال کرتا ہے مگر انصاف کا دامن نہیں چھوڑتا۔ وہ تنقید کرتا ہے تو اصلاح کے لیے، تعریف کرتا ہے تو دیانت سے اور اختلاف کرتا ہے تو دلیل کے ساتھ۔
حقیقت یہ ہے کہ قلم کو صرف آزادی نہیں، ضمیر بھی چاہیے۔
آزادیِ اظہار اگر زمہ داری سے خالی ہو جائے تو شور تو پیدا کر سکتی ہے، شعور نہیں۔ الفاظ کی کثرت علم کی علامت نہیں ہوتی۔ ہزاروں پوسٹیں مل کر بھی ایک سچائی کے برابر نہیں ہو سکتیں اگر ان میں تحقیق، دلیل اور دیانت موجود نہ ہو۔ اسی لیے صاحبِ قلم کے لیے سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ کتنے لوگوں نے میری تحریر پڑھی؟ بلکہ یہ ہے کہ میری تحریر پڑھ کر کتنے لوگوں نے بہتر سوچنا شروع کیا؟
قومیں صرف سڑکوں، پلوں اور بلند عمارتوں سے ترقی نہیں کرتیں۔ قوموں کی حقیقی تعمیر ان کے ذہنوں میں ہوتی ہے۔ جس معاشرے کے قلم علم کو فروغ دیتے ہیں، وہاں کتابیں نسلیں سنوارتی ہیں۔ جس معاشرے کے قلم تحقیق کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، وہاں سوال جنم لیتے ہیں اور جس معاشرے کے قلم سچ کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، وہاں ظلم کے لیے ہمیشہ جگہ کم پڑتی جاتی ہے۔
ایک قلم استاد کے ہاتھ میں ہو تو نسل سنوارتا ہے، ادیب کے ہاتھ میں ہو تو احساس جگاتا ہے، صحافی کے ہاتھ میں ہو تو معاشرے کو آئینہ دکھاتا ہے، دانش ور کے ہاتھ میں ہو تو فکر کی نئی راہیں کھولتا ہے اور مصلح کے ہاتھ میں ہو تو مردہ ضمیروں میں زندگی کی رمق پیدا کرتا ہے۔
مگر اسی قلم کو اگر مفاد پرست ہاتھ مل جائیں تو یہ روشنی کے بجائے دھند پیدا کرتا ہے۔
اس لیے آج ضرورت صرف زیادہ لکھنے کی نہیں، درست لکھنے کی ہے۔ ضرورت صرف بولنے کی نہیں، ایسا بولنے کی ہے جس میں سچائی ہو۔ ضرورت صرف اختلاف کی نہیں بلکہ ایسے اختلاف کی ہے جو معاشرے کو تقسیم کرنے کے بجائے بہتر بنانے کی کوشش کرے۔
قلم کار کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس کی تحریر صرف آج کے قاری کے لیے نہیں ہوتی، وہ آنے والے وقت کے لیے بھی ایک دستاویز بن سکتی ہے۔ آج کا لکھا ہوا لفظ کل کسی محقق کے سامنے ہمارے عہد کا چہرہ بن کر کھڑا ہوگا۔ آنے والی نسلیں ہمارے عہد کو صرف ہماری عمارتوں سے نہیں، ہماری تحریروں سے بھی پہچانیں گی۔ تب سوال ہوگا کہ جب معاشرہ آزمائش سے گزر رہا تھا تو قلم کہاں تھا؟ جب جھوٹ پھیل رہا تھا تو قلم خاموش کیوں تھا؟ جب مظلوم آواز دے رہا تھا تو قلم کس طرف کھڑا تھا؟
یہی سوال قلم کی اصل آزمائش ہے۔
ذرا سوچیے کہ ایک طرف تلوار ہے اور دوسری طرف قلم۔ تلوار اپنے زور پر فخر کرتی ہے اور قلم اپنی خاموشی پر۔ تلوار کہتی ہے: “میں حکم منوا سکتی ہوں۔” قلم مسکرا کر جواب دیتا ہے: “میں انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کر سکتا ہوں کہ حکم ماننا چاہیے بھی یا نہیں۔” تلوار جسم کو فتح کرتی ہے، قلم سوچ کو اور جب سوچ بدل جائے تو دنیا بدلنے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔
اسی لیے قلم کی فتح سب سے پائیدار فتح ہے۔
تلوار کی دھار زنگ آلود ہو سکتی ہے، تخت و تاج مٹی میں مل سکتے ہیں، اقتدار کے ایوان ویران ہو سکتے ہیں مگر سچائی سے لکھا ہوا ایک جملہ وقت کی گرد میں بھی زندہ رہ سکتا ہے۔ کتابیں جلائی جا سکتی ہیں مگر خیالات کو ہمیشہ کے لیے نہیں جلایا جا سکتا۔ صفحات پھاڑے جا سکتے ہیں مگر لفظ اگر انسان کے شعور میں اتر جائے تو پھر اسے مٹانا آسان نہیں رہتا۔
قلم دراصل ایک امانت ہے، ایسی امانت جس کا حساب روشنائی سے نہیں، اثر سے ہوتا ہے۔
لہٰذا جب بھی قلم ہاتھ میں آئے تو صرف یہ نہ سوچیں کہ کیا لکھنا ہے؟ یہ بھی سوچیں کہ جو لکھا جائے گا، وہ کس دل میں اترے گا، کس ذہن کو متاثر کرے گا اور تاریخ کے کس صفحے پر ہماری گواہی بن کر محفوظ ہوگا
کیونکہ قلم کی طاقت صرف یہ نہیں کہ وہ الفاظ لکھ سکتا ہے؛ اس کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ وہ انسان کو انسان کے بارے میں، معاشرے کو اپنے بارے میں اور قوم کو اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں قلم محض قلم نہیں رہتا، وہ چراغ بن جاتا ہے، وہ آئینہ بن جاتا ہے، وہ گواہی بن جاتا ہے اور کبھی کبھی تاریخ کے دھارے کو ہی بدل دیتا ہے۔
بحیثیتِ مجموعی قلم کی اصل طاقت اس کی نوک میں نہیں، اس ضمیر میں ہوتی ہے جو اسے حرکت دیتا ہے۔ ایک سچا اور باکردار قلم اندھیروں سے لڑنے کے لیے کسی تلوار کا محتاج نہیں ہوتا. وہ ایک لفظ سے چراغ، ایک جملے سے امید اور ایک تحریر سے بیداری پیدا کر سکتا ہے۔ وقت گزر جاتا ہے، اقتدار بدل جاتے ہیں، تخت و تاج مٹ جاتے ہیں مگر صداقت سے لکھا ہوا لفظ تاریخ کے سینے پر اپنی گواہی ثبت کر دیتا ہے۔ اس لیے آج کے قلم کار کی زمہ داری صرف لکھنا نہیں بلکہ سچ کو زندہ رکھنا، شعور کو بیدار کرنا، مظلوم کی آواز بننا اور معاشرے کو نفرت کے بجائے انسانیت کی طرف لے جانا ہے کیونکہ تلوار کی فتح وقتی ہو سکتی ہے مگر قلم سے جیتی ہوئی سوچ نسلوں تک زندہ رہتی ہے۔ یہی قلم کی طاقت ہے، یہی اس کی حرمت ہے اور یہی اس کا سب سے بڑا امتحان بھی۔
ٹھنڈا چولھا، بکھرتے رشتے. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
“کچرے کا ڈھیر بھی اپنی جگہ بدلتا ہے”. نواز الدین صدیقی کے اس ایک جملے کے نام. محمد دلاور
Power of the Pen




