“کچرے کا ڈھیر بھی اپنی جگہ بدلتا ہے”. نواز الدین صدیقی کے اس ایک جملے کے نام. محمد دلاور
زندگی کبھی کبھی اتنی سخت ہو جاتی ہے کہ انسان خود کو کچرے کے ڈھیر سے بھی بدتر سمجھنے لگتا ہے۔ نہ عزت، نہ کام، نہ کوئی پوچھنے والا۔ بس اندھیرا اور مایوسی۔ اسی وقت بالی ووڈ کے اداکار نواز الدین صدیقی کا یہ جملہ دل میں اتر جاتا ہے: “کچرے کے ڈھیر کی بھی جگہ بدلتی ہے، تم تو پھر بھی انسان ہو، تمھارا بھی وقت بدلے گا۔”
دنیا کا نظام دیکھیں۔ جو چیز آج کچرا لگتی ہے، کل وہی کھاد بن کر کھیتوں کو سرسبز کر دیتی ہے۔ جو چیز آج ری سائیکل ہو کر قیمتی پروڈکٹ بن جاتی ہے۔ اگر بے جان چیز کی بھی “ویلیو” بدل سکتی ہے تو آپ کیوں نہیں؟ آپ میں جان ہے، دماغ ہے، خواب ہیں۔ نہ دکھ ہمیشہ رہتا ہے نہ سکھ۔ نواز الدین صدیقی خود ایک مثال ہیں۔ دہلی سے ممبئی آئے، سالوں اسٹرگل کی، چھوٹے رول کیے، لوگوں نے “شکل ٹھیک نہیں” کہا۔ آج وہی انڈسٹری کے سب سے بڑے نام ہیں۔ انہوں نے ہار نہیں مانی کیونکہ انہیں پتہ تھا کہ وقت بدلتا ضرور ہے، بس شرط ہے آپ ڈٹے رہیں۔
جب آپ کہتے ہیں کہ میرے سے کچھ نہیں ہوگا تو آپ اپنی ہی ہمت کا گلہ گھونٹ دیتے ہیں۔ یاد رکھیں درخت سردیوں میں برہنہ ہو کر بھی بہار کا انتظار کرتا ہے کیونکہ اسے پتہ ہے بہار آئے گی۔ آپ بھی بہار کا انتظار کرنے والے درخت بنیں۔ تو اب کیا کریں؟ آج کا دن گزار لیں۔ کل کی فکر کل کریں گے۔ خود کو کچرا نہ کہیں کیوں کہ آپ انسان ہیں۔ اللہ کی بہترین تخلیق۔ اگر ماحول زہر لگ رہا ہے تو کتاب، دوست، یا ایک نئی اسکل سیکھ لیں۔ کچرا بھی اپنی جگہ بدل کر قیمتی بنتا ہے۔
آخر میں بس اتنا کہوں گا کہ آپ کا آج کا دکھ، کل کی کامیابی کی کہانی کا اسٹرگل والا چیپٹر ہے۔ اسے مٹائیں مت کیونکہ کچرے کے ڈھیر کی بھی جگہ بدلتی ہے، تو آپ کا وقت کیوں نہیں بدلے گا؟ آپ مایوس نہیں، آپ بس بریک پر ہیں اور بریک کے بعد گاڑی ہمیشہ زیادہ سپیڈ سے چلتی ہے۔
column in urdu




