ٹھنڈا چولھا، بکھرتے رشتے. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
کسی گھر کو سمجھنے کے لیے کبھی بھی پورا گھر گھومنے کی ضرورت نہیں ہوتی، محض اس کے باورچی خانے تک چلے جانا کافی ہوتا ہے۔ وہاں اگر صبح کے وقت چولہے پر چائے ابل رہی ہو، کسی ہانڈی سے بھاپ اٹھ رہی ہو، مصالحوں کی خوشبو کمروں میں گھوم رہی ہو اور کسی ماں، دادی یا بہن کی آواز گھر کے کسی کونے سے آ رہی ہو تو اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ صرف اینٹوں اور دیواروں سے بنا ہوا مکان نہیں بلکہ ایک زندہ گھر ہے۔ اس کے برعکس اگر باورچی خانہ غیر معمولی طور پر خاموش ہو، چولہا صاف مگر سرد پڑا ہو، برتن اپنی جگہ سجے ہوں اور گھر کے مکین کھانے کے لیے الگ الگ کمروں میں اپنے اپنے موبائل کھولے بیٹھے ہوں تو بظاہر زندگی اپنی پوری رفتار سے جاری ہونے کے باوجود گھر کے اندر کچھ ایسا ضرور کم ہو رہا ہوتا ہے جسے کسی الماری، کسی فرنیچر یا کسی مہنگی چیز سے پورا نہیں کیا جا سکتا۔ شاید وہ چیز باہمی وقت ہے، شاید انتظار ہے، شاید ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے کی وہ معمولی سی عادت ہے جو آہستہ آہستہ محبت کو روزمرہ زندگی کا حصہ بناتی ہے۔
ایک زمانہ تھا جب گھر کی صبح چولہے کی آواز سے شروع ہوتی تھی۔ باورچی خانے میں برتنوں کی کھنک، چائے کی خوشبو اور تازہ روٹی کی بھاپ پورے گھر کو بیدار کرتی تھی۔ بچے جانتے تھے کہ ناشتے کی میز پر کون پہلے بیٹھے گا، والد کو چائے کس طرح پسند ہے، دادی کس کے لیے روٹی نرم رکھتی ہیں اور ماں کس بچے کو اسکول جانے سے پہلے بار بار آواز دے رہی ہے۔ یہ سب معمولی باتیں تھیں مگر انسانی زندگی کی بڑی حقیقتیں اکثر انہی معمولی باتوں سے تشکیل پاتی ہیں۔ کھانا پکانے کا عمل صرف خوراک تیار کرنے کا عمل نہیں تھا، یہ گھر کے افراد کو ایک دوسرے کی زندگی میں شریک رکھنے کا ایک خاموش ذریعہ تھا۔ کسی کے لیے سالن میں مرچ کم کرنا، کسی کی پسند کا ناشتہ بنانا، کسی کے دیر سے آنے تک کھانا گرم رکھنا اور کسی بیمار کے لیے الگ سے کچھ پکا دینا دراصل محبت کے وہ طریقے تھے جن کے لیے کبھی لفظوں کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔
پھر زندگی نے رفتار پکڑی۔ شہر پھیلنے لگے، ملازمتوں کے اوقات بدل گئے، سفر طویل ہو گیا، خواتین بھی بڑی تعداد میں پیشہ ورانہ زندگی کا حصہ بنیں، بچوں کی مصروفیات بڑھ گئیں اور گھر کے اندر موجود ہر فرد کے پاس اپنی الگ دنیا آگئی۔ اس تبدیلی میں بہت سی خوبیاں بھی تھیں۔ انسان نے مشقت کم کی، وقت بچایا، معاشی مواقع بڑھے اور عورت کے لیے گھر کی چار دیواری سے باہر نکلنے کے راستے کھلے۔ جدید زندگی کو صرف اس لیے برا قرار دینا کہ اس نے پرانے معمولات بدل دیے، تاریخ کو بہت سادہ بنا دینا ہوگا۔ مسئلہ جدیدیت نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ سہولتیں حاصل کرتے ہوئے کہیں ہم ان انسانی رشتوں کی قیمت تو نہیں ادا کر رہے جو انہی پرانے معمولات کے ذریعے مضبوط ہوتے تھے۔
آج کسی مصروف شخص کو کھانا چاہیے تو اسے سبزی خریدنے، صاف کرنے، کاٹنے اور پکانے کی ضرورت نہیں، موبائل فون کھولیے، چند چیزیں منتخب کیجیے اور کچھ دیر بعد کھانا دروازے پر موجود ہوگا۔ یہ سہولت بلاشبہ جدید زندگی کی بڑی آسانیوں میں سے ایک ہے لیکن ہر سہولت اپنے ساتھ ایک سوال بھی لاتی ہے۔ اگر کھانا گھر میں نہ پکے تو شاید کوئی بڑا نقصان فوری طور پر محسوس نہ ہو مگر اگر اس کے ساتھ وہ وقت بھی ختم ہو جائے جس میں گھر کے لوگ ایک دوسرے کے سامنے بیٹھتے تھے تو نقصان کہیں زیادہ گہرا ہو سکتا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہم کبھی ریسٹورنٹ کا کھانا کیوں کھاتے ہیں یا فوڈ ڈیلیوری کیوں استعمال کرتے ہیں، مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب عارضی سہولت مستقل عادت بن جائے اور عادت رفتہ رفتہ ہماری تہذیب کا حصہ بن جائے۔
کھانا انسانی تہذیب میں ہمیشہ محض خوراک نہیں رہا۔ انسان نے شاید بہت پہلے یہ سمجھ لیا تھا کہ ایک ہی آگ کے گرد بیٹھ کر کھانا بانٹنے سے صرف بھوک نہیں مٹتی، فاصلے بھی کم ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی تقریباً ہر تہذیب میں کھانے کے گرد رسم و رواج، محبت، مہمان داری اور خاندانی تعلقات کی ایک پوری دنیا آباد رہی ہے۔ ہمارے ہاں بھی دسترخوان صرف روٹی، سالن اور چاول رکھنے کی جگہ نہیں تھا، وہ گھر کی اجتماعی زندگی کا مرکز تھا۔ ایک ہی تھالی میں کئی ہاتھوں کا شریک ہونا، بزرگ کے لیے جگہ چھوڑنا، مہمان کے آنے پر دسترخوان وسیع کر دینا، بچے کے لیے پسندیدہ چیز بچا کر رکھنا اور کھانے کے بعد دیر تک بیٹھ کر باتیں کرنا۔۔۔یہ سب وہ غیر تحریری اسباق تھے جن سے بچے خاندان، احترام، قربانی اور اشتراک کے معنی سیکھتے تھے۔
دسترخوان کی سب سے بڑی خوبی شاید یہ تھی کہ وہ گھر کے لوگوں کو روزانہ ایک دوسرے کے سامنے لے آتا تھا۔ دن بھر کی مصروفیات، اختلافات اور ناراضگیاں اپنی جگہ مگر کھانے کا وقت ایک ایسا وقفہ ضرور پیدا کرتا تھا جب سب کو ایک جگہ بیٹھنا پڑتا تھا۔ یہی وہ چند منٹ ہوتے تھے جن میں باپ کو معلوم ہوجاتا تھا کہ بیٹا اسکول میں پریشان ہے، ماں محسوس کرلیتی تھی کہ بیٹی کچھ چھپا رہی ہے، بزرگوں کو اندازہ ہوجاتا تھا کہ نئی نسل کے دل میں کیا چل رہا ہے اور بچوں کو یہ احساس رہتا تھا کہ گھر میں کوئی ایسا شخص موجود ہے جو ان کی بات سننے کے لیے تیار ہے۔ آج جب تنہائی، ذہنی دباؤ اور باہمی فاصلے جدید زندگی کے اہم مسائل بنتے جا رہے ہیں تو ہمیں شاید دوبارہ یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ خاندان کے اندر گفتگو کے یہ چھوٹے چھوٹے مواقع کتنے قیمتی تھے۔ مغربی معاشروں کی مثال ہمارے لیے ایک آئینے کی طرح ضرور دیکھی جا سکتی ہے مگر اسے ایک سادہ کہانی میں تبدیل کرنا درست نہیں ہوگا۔ کسی بھی معاشرے میں خاندان کی ساخت صرف فاسٹ فوڈ، ٹیلی ویژن یا ریسٹورنٹ کلچر سے نہیں بدلتی، معاشی حالات، شہری زندگی، خواتین کی ملازمت، رہائش کے رجحانات، شادی اور طلاق کے بارے میں بدلتے تصورات، انفرادی آزادی اور کئی دوسری سماجی قوتیں مل کر خاندانی ڈھانچے کو متاثر کرتی ہیں۔ تاہم اس پیچیدہ تبدیلی کے درمیان ایک بات ضرور قابلِ غور ہے کہ جب خاندان کا مشترکہ وقت مسلسل کم ہوتا ہے تو ایک دوسرے کو سننے، سمجھنے اور یاد رکھنے کے مواقع بھی کم ہوجاتے ہیں۔ خاندان صرف خون کے رشتوں کا نام نہیں، خاندان مشترکہ وقت، مشترکہ تجربات اور مشترکہ یادوں سے بھی تشکیل پاتا ہے۔
ہماری اپنی زندگی میں کھانے سے وابستہ کتنی یادیں ایسی ہیں جو کسی کتاب میں نہیں ملتیں۔ کسی کے ذہن میں دادی کے ہاتھ کی کھیر محفوظ ہے، کسی کو نانی کے بنائے ہوئے پراٹھے یاد ہیں، کسی کو عید کی سویاں، کسی کو سردیوں کی یخنی اور کسی کو بارش کی شام میں پکوڑوں کی خوشبو آج بھی بچپن کے کسی صحن میں واپس لے جاتی ہے۔ ان کھانوں کی اصل قیمت ان کے ذائقے میں نہیں بلکہ ان لوگوں میں تھی جن کے ہاتھوں سے وہ تیار ہوتے تھے۔ آج ہمارے پاس دنیا بھر کے کھانوں کی ترکیبیں چند لمحوں میں دستیاب ہیں مگر کیا ہمارے بچوں کے پاس اپنی دادی یا نانی کی آواز میں سنائی ہوئی وہ ترکیبیں بھی محفوظ رہیں گی؟ اگر باورچی خانہ صرف کھانا پکانے کی جگہ نہیں بلکہ نسل در نسل یادداشت منتقل کرنے کا مقام بھی ہے تو اس کی خاموشی صرف چولہے کے ٹھنڈا ہونے کی خبر نہیں، ایک تہذیبی تسلسل کے کمزور ہونے کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔
یہاں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ گھر کے کھانے کی روایت کو صرف عورت کی ذمہ داری بنا دینا بھی مناسب نہیں۔ اگر باورچی خانہ خاندان کو جوڑنے کی جگہ ہے تو اس کی ذمہ داری بھی پورے خاندان کی ہونی چاہیے۔ آج کا باپ اپنے بچوں کے لیے ناشتہ بنا سکتا ہے، شوہر بیوی کے ساتھ کھانا تیار کرسکتا ہے، بچے دسترخوان لگا سکتے ہیں اور بزرگ اپنی پرانی ترکیبیں نئی نسل کو سکھا سکتے ہیں۔ اس طرح باورچی خانہ کسی ایک فرد کی محنت اور قربانی کی علامت بننے کے بجائے شراکت اور محبت کی جگہ بن سکتا ہے۔ شاید یہی جدید دور کے لیے پرانی روایت کا بہتر روپ ہے۔ ہم ماضی کو واپس نہ لائیں بلکہ ماضی کی ان خوبصورت عادتوں کو نئے زمانے کے ساتھ جوڑ دیں جو انسانی رشتوں کو مضبوط کرتی تھیں۔
صحت کا مسئلہ بھی اسی بحث سے جڑا ہوا ہے۔ یہ کہنا درست نہیں کہ گھر کا ہر کھانا صحت مند اور باہر کا ہر کھانا نقصان دہ ہوتا ہے لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ متوازن غذا اور مناسب طرزِ زندگی انسانی صحت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ جب فوری اور انتہائی پروسیس شدہ کھانے ہماری روزمرہ غذا کا بڑا حصہ بن جائیں تو موٹاپے، ذیابیطس، بلند فشارِ خون اور قلبی بیماریوں جیسے مسائل کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ مگر صحت صرف جسم کا نام نہیں، انسان کو جذباتی اور سماجی صحت بھی درکار ہوتی ہے۔ ایک میز پر بیٹھ کر کھانا شاید کسی بیماری کی دوا نہ ہو لیکن اس میز پر ہونے والی گفتگو تنہائی کے خلاف ایک چھوٹی سی مزاحمت ضرور ہو سکتی ہے۔
اسی لیے ہمارے شہروں میں بڑھتے ہوئے کلاؤڈ کچن، ریسٹورنٹ کلچر اور فوڈ ڈیلیوری کو صرف ایک تجارتی رجحان سمجھ کر نظر انداز کرنا بھی درست نہیں۔ یہ ہماری بدلتی ہوئی معاشرتی زندگی کی علامات ہیں۔ اگر آج ایک نوجوان اپنے کمرے میں بیٹھ کر موبائل پر کھانا منگواتا ہے تو مسئلہ اس کے کھانا منگوانے میں نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس کے پاس کھانے کے وقت کسی کو بلانے کے لیے کوئی موجود بھی ہے؟ اگر گھر کے چار افراد چار مختلف اوقات میں کھاتے ہیں، چار مختلف اسکرینوں میں مصروف رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے دن کے بارے میں جاننے کا موقع نہیں پاتے تو مسئلہ کھانے کا نہیں، تعلق کا ہے۔ ہم نے شاید کھانا حاصل کرنے کا عمل بہت آسان کر لیا ہے مگر کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے کھانے کو بہانہ بنا کر ایک دوسرے سے ملنے کا موقع بھی کھو دیا ہے؟
اس صورتِ حال کا حل نہ کسی بڑے سرکاری منصوبے میں ہے اور نہ جدید ٹیکنالوجی سے جنگ میں۔ ہمیں نہ موبائل فون چھوڑنے ہیں، نہ ریسٹورنٹ، نہ فوڈ ڈیلیوری ایپس اور نہ جدید زندگی کی سہولتیں۔ ہمیں صرف یہ طے کرنا ہے کہ سہولت ہماری زندگی کو کنٹرول نہ کرے۔ ہفتے میں چند بار گھر کا کھانا مل کر پکایا جاسکتا ہے، روزانہ ایک وقت موبائل فون ایک طرف رکھے جاسکتے ہیں، بچوں کو کھانا تیار کرنے میں شریک کیا جاسکتا ہے اور بزرگوں سے ان کی زندگی کی کہانیاں سنی جاسکتی ہیں۔ یہ سب بظاہر بہت چھوٹی باتیں ہیں مگر خاندان بھی تو انہی چھوٹی باتوں سے بنتا ہے۔ بڑے رشتے بڑی تقریروں سے نہیں، روزمرہ کے معمولات سے زندہ رہتے ہیں۔
شاید ہمیں اپنے گھروں میں دوبارہ ایک ایسی آواز پیدا کرنے کی ضرورت ہے جو کبھی ہماری زندگی کا معمول ہوا کرتی تھی: “کھانا لگ گیا ہے، سب آ جاؤ۔” اس جملے کی اصل طاقت کھانے میں نہیں بلکہ اس لفظ “سب” میں ہے۔ اس میں یہ احساس پوشیدہ ہے کہ گھر میں کوئی شخص اکیلا نہیں، سب ایک دوسرے کے منتظر ہیں۔ اگر ہم اس انتظار کو زندہ رکھ سکیں، اگر ہم دن میں کچھ لمحے ایک دوسرے کے نام کر سکیں، اگر ہم بچوں کو صرف کھانا نہیں بلکہ اپنے ساتھ بیٹھنے کا تجربہ دے سکیں تو شاید ہم بہت سے ایسے مسائل کو ابتدا ہی میں روک سکیں گے جن کے علاج کے لیے بعد میں مہنگی مشاورت، بڑی تقریریں اور پیچیدہ منصوبے بنانا پڑتے ہیں۔
آخر میں بات پھر اسی خاموش باورچی خانے تک آتی ہے۔ ایک چولہا بجھنے سے کوئی خاندان ختم نہیں ہوجاتا اور ایک کھانا پکنے سے کوئی گھر مثالی نہیں بن جاتا مگر زندگی کی بڑی تبدیلیاں اکثر چھوٹے معمولات سے جنم لیتی ہیں۔ اگر گھر میں کھانا پکنے کا مطلب یہ ہو کہ لوگ ایک دوسرے کے لیے وقت نکالیں، اگر دسترخوان کا مطلب یہ ہو کہ دن بھر کے فاصلے چند لمحوں کے لیے ختم ہوجائیں، اگر باورچی خانہ نسلوں کے درمیان گفتگو اور یادداشت کا پل بن جائے تو چولہے کی آنچ محض ہانڈی کو گرم نہیں رکھے گی بلکہ گھر کے رشتوں میں بھی حرارت باقی رکھے گی۔ مکان دیواروں سے بنتا ہے، اسے فرنیچر آرام دہ بناتا ہے، سہولتیں اسے جدید بناتی ہیں مگر گھر کو گھر رکھنے کے لیے انسانوں کا ایک دوسرے کے لیے موجود رہنا ضروری ہے۔ شاید اسی لیے چولہا صرف کھانا نہیں پکاتا، کبھی کبھی وہ پورے خاندان کو بکھرنے سے بھی بچا لیتا ہے۔
0



