عصرِ حاضر کا نیا فتنہ . کائنات سے مدد مانگنا manifestation . تحریر: ڈاکٹر فیصل سعید ٹورانٹو کینیڈا
انعم اپنے کمرے کے تاریک کونے میں، شدید غم کی حالت میں گھٹنوں میں سر دیے بے بس بیٹھی تھی۔ یہ مسلسل تیسری بار نوکری کے انٹرویو میں ناکامی کی دکھ بھری خبر تھی، اور اس کے تھکے ہوئے چہرے پر موبائل کی سکرین کی مدھم روشنی پڑ رہی تھی۔
سکرین پر ایک خوبصورت اور خوش لباس شخص مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا: “آنکھیں بند کیجیے، اپنے اندر کی چھپی ہوئی طاقت کو محسوس کیجیے اور اس کائنات سے مانگیے— وہ آپ کی جھولی کامیابی سے بھر دے گی۔” شکست خوردہ اور مایوس دل کے لیے یہ سحر انگیز الفاظ کسی مرہم کی طرح تھے۔ انعم نے انجام سے بے خبر ہو کر اسی راستے پر قدم رکھ دیا۔
یہ کہانی صرف انعم کی نہیں ہے۔ انسٹاگرام، یوٹیوب اور ٹک ٹاک پر “کائناتی توانائی”، “مثبت توانائی “، “جاذبیت کا قانون” (Law of Attraction) اور “روحانی لہریں” جیسے خوبصورت الفاظ کی اوٹ میں ایک خطرناک انداز فکر ہماری نئی اور تعلیم یافتہ نسل کے ایمان پر خاموشی سے حملہ کر رہی ہے۔
آئیں اس فلسفے کے بظاہر مثبت اور ترغیبی پہلو دیکھتے ہیں کہ نوجوان اس کی طرف کیوں مائل ہوتے ہیں؟
اگر غیر جانبدارانہ نظر سے دیکھا جائے تو اس جدید فکر میں چند ایسی باتیں موجود ہیں جو کسی بھی پریشان حال یا جدوجہد کرنے والے نوجوان کو آسانی سے اپنی طرف مائل کر لیتی ہیں:
* امید اور مثبت فکر کا فروغ: یہ فلسفہ انسان کو مایوسی کی دلدل سے نکال کر مثبت سوچنے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہ سکھاتا ہے کہ انسان اپنی سوچ کو بدل کر اپنے حالات کو بہتر بنا سکتا ہے۔
* اعتمادِ ذات (Self-Confidence): اس کے ذریعے نوجوانوں میں یہ احساس بیدار کیا جاتا ہے کہ وہ بے بس نہیں ہیں، بلکہ ان کے اندر بھی آگے بڑھنے اور مقصد حاصل کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
* مستقبل کے لیے واضح اہداف: اس عمل میں انسان کو اپنے خوابوں کو واضح طور پر دیکھنا (Visualization) سکھایا جاتا ہے، جس سے طالب علموں اور نوجوانوں کو اپنے مقصد پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد ملتی ہے۔
بظاہر دلکش اور مثبت نظر آنے والے اس غلاف کے پیچھے درحقیقت ایک زہر آلود اور گمراہ کن فکر چھپی ہوئی ہے، جس کا تجارتی اور عقائدی جائزہ درج ذیل ہے:
۱۔ شرک کا خطرناک پہلو (عقائدی مخالفت)
اس نظریے کا دعویٰ ہے کہ کائنات کی توانائی انسان کی پکار سنتی ہے اور اس کی خواہشات پوری کرتی ہے۔ یہاں سے سب سے بڑا گمراہ کن موڑ شروع ہوتا ہے۔ دعا سننا، رزق دینا، اور تقدیر بدلنا صرف اور صرف اللہ رب العزت کا اختیار ہے۔ جب کوئی انسان بے جان کائنات سے مانگتا ہے، تو وہ نادانستہ طور پر اللہ کی صفات میں مخلوق کو شریک کر رہا ہوتا ہے۔ ربِ کریم کا فرمان ہے:
اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ (سورۃ لقمان 13:31)
(بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے)۔
۲۔ سائنسی نااہلی اور جہالت (سائنسی مخالفت)
اس فکر کو کوانٹم فزکس کا نام دے کر بیچا جاتا ہے، حالانکہ سائنس کے مطابق روشنی، حرارت یا بجلی محض بے جان اور بے شعور توانائیاں ہیں۔ ان کے پاس نہ سننے کے لیے کان ہیں، نہ سوچنے کے لیے عقل اور نہ ہی تقدیر بدلنے کا اختیار۔ سورج کی روشنی سے توانائی حاصل کرنا سائنس ہے، لیکن اسی روشنی یا کائنات کے سامنے جھولی پھیلانا جہالتِ محض ہے۔
۳۔ جدید روپ میں پرانی جاہلیت
زمانۂ جاہلیت کے لوگ بھی ستاروں کو اپنی قسمت کا مالِک سمجھتے تھے۔ آج کے دور میں صرف الفاظ بدل کر ستاروں کی جگہ “یونیورس” اور “کاسمک انرجی” کا نام دے دیا گیا ہے۔ جس طرح پتھر اور لکڑی سے مانگنا شرک تھا، بعینہٖ اس کائنات سے مانگنا بھی وہی قدیم شرک ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ (سورۃ نمل 27:65)
(آپ فرما دیجیے کہ آسمانوں اور زمین میں اللہ کے سوا کوئی غیب کا علم نہیں رکھتا)۔
۴۔ انسانی انا اور غرور (Manifestation بمقابلہ دعا)
* دعا: دعا میں بندہ اپنے خالق کے سامنے عاجزی کا اظہار کرتا ہے، خود کو محتاج مانتا ہے اور اللہ کی حکمت و مرضی پر راضی رہتا ہے۔
* مینی فسٹیشن (Manifestation): اس کے برعکس، اس عمل میں انسان کی “انا” بیدار ہوتی ہے۔ انسان خود کو حاکم سمجھ کر کائنات کو حکم دینے لگتا ہے کہ “جو میں چاہوں گا، اپنی سوچ کی طاقت سے حاصل کر لوں گا”۔ اس تصور میں اللہ کی ربوبیت کے لیے کوئی جگہ نہیں بچتی۔
۵۔ شدید ذہنی مایوسی اور خود ترسی
یہ نوجوان ایک ایسے خلا سے مانگ رہے ہوتے ہیں جو نہ سن سکتا ہے اور نہ دیکھ سکتا ہے۔ جب وہ مہینوں تک اس کائناتی توانائی سے مانگتے رہتے ہیں اور ان کی “مینی فسٹیشن” ناکام ہوتی ہے، تو وہ ایک عجیب سی خود ترسی اور ذہنی ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ہمیں اس بات کا ادراک ہے کہ آج کے دور میں معاشی مصائب، روزگار کی کمی اور نفسیاتی الجھنیں بہت زیادہ ہیں، لیکن ان کا حل کائناتی توانائی کے نام نہاد دعووں میں نہیں، بلکہ سچے دل سے اپنے خالق کی طرف لوٹ آنے میں ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ابدی اور امید افزا فرمان ہے:
وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (سورۃ البقرہ 2:186)
(اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں دریافت کریں، تو انہیں بتا دیجیے کہ میں یقیناً قریب ہوں۔ میں پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب بھی وہ مجھے پکارے)۔
مرادیں اور حاجات کائنات کے آگے دستِ سوال دراز کرنے سے پوری نہیں ہوتیں، بلکہ کائنات کے اصل مالک کے در سے ملتی ہیں۔ جب انسان محنت، مثبت سوچ اور تدبیر کے ساتھ ساتھ اللہ سے دعا مانگتا ہے، تو اسے کامیابی بھی ملتی ہے اور دل کا سکون بھی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہماری آنے والی نسلوں کو ان تمام ظاہری و باطنی فتنوں سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین یا رب العالمین!
New Fitna of the Modern Age




