بجٹ، عوام اور معاشی انصاف . طارق معراج بھٹی ایڈووکیٹ
مورخہ ۔ یکم جولائی 2026
پاکستان میں ہر سال بجٹ پیش ہوتا ہے، لیکن عوام کے لیے ریلیف ہمیشہ اگلے سال تک مؤخر رہتا ہے۔ بجٹ کا بوجھ ہمیشہ عوام کے کندھوں پر ڈالا جاتا ہے، جبکہ اس کے ثمرات اشرافیہ سمیٹ لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں معاشی ترقی کے اعداد و شمار عوامی خوشحالی کا عکس نہیں بلکہ دولت کی طبقاتی تقسیم کا سرکاری اعلامیہ بن کر رہ گئے ہیں۔
نظامِ کائنات توازن، نظم اور انصاف کے اصولوں پر قائم ہے۔ سورج اپنی مقررہ راہ سے نہیں ہٹتا، چاند اپنے مدار سے تجاوز نہیں کرتا، ہوا اور پانی بھی قدرت کے طے کردہ قوانین کے تابع ہیں۔ کائنات کا ہر ذرہ اپنے دائرۂ کار میں رہ کر نظامِ حیات کو برقرار رکھتا ہے، مگر افسوس کہ انسانوں کے بنائے ہوئے نظام میں انصاف، توازن اور مساوات اکثر گم ہو جاتے ہیں۔ ریاست بھی ایک نظام ہے اور بجٹ اس نظام کی روح ہے۔ جب روح کمزور ہو جائے تو جسم زیادہ دیر سلامت نہیں رہ سکتا۔
1947ء سے 2026ء تک پاکستان میں تقریباً 78 وفاقی بجٹ پیش کیے جا چکے ہیں۔ ہر سال قوم کو ترقی، خوشحالی، معاشی استحکام اور عوامی ریلیف کے خواب دکھائے گئے، مگر زمینی حقیقت آج بھی مہنگائی، بے روزگاری، غربت، کمزور تعلیمی نظام، ناقص طبی سہولیات اور بڑھتے ہوئے قرضوں کی صورت میں ہمارے سامنے کھڑی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بجٹ اور عوامی زندگی کے درمیان آج بھی ایک گہری خلیج موجود ہے۔
بجٹ کسی بھی ملک کا معاشی نقشہ اور حکومتی ترجیحات کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ریاست اپنے وسائل کن شعبوں پر خرچ کرنا چاہتی ہے۔ جب تعلیم، صحت، زراعت، صنعت، تحقیق، روزگار اور بنیادی ڈھانچے کو ترجیح دی جائے تو اس کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچتے ہیں، لیکن جب بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں، مراعات اور غیر پیداواری اخراجات کی نذر ہو جائے تو قومی ترقی سست اور عوامی مسائل سنگین ہو جاتے ہیں۔
قیامِ پاکستان کے وقت ملکی قرضہ تقریباً 30 ارب روپے تھا، جو اب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق 97 ہزار 307 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جن میں 35 ہزار ارب روپے سے زائد بیرونی قرضہ شامل ہے۔ حکومت کے اقتصادی سروے کے مطابق سرکاری بیرونی قرضہ 92.2 ارب ڈالر جبکہ مقامی قرضہ 57 ہزار 566 ارب روپے ہے۔ بڑھتے ہوئے مالیاتی بوجھ کے باعث ہر پاکستانی پر اوسطاً 3 لاکھ 33 ہزار روپے قرض آ چکا ہے۔
یہ اعداد و شمار کئی دہائیوں کی معاشی پالیسیوں اور غلط ترجیحات کی پوری داستان ہیں۔ ہر آنے والی حکومت نے قرضوں کو وقتی سہارا تو بنایا، مگر معیشت کو خود انحصاری کی راہ پر گامزن نہ کر سکی۔ قرض اگر پیداواری سرمایہ کاری میں تبدیل نہ ہو تو وہ آنے والی نسلوں کے لیے معاشی زنجیر بن جاتا ہے۔ نتیجتاً ایک نسل قرض اتارنے میں مصروف ہے، جبکہ دوسری نسل مزید قرضوں کے بوجھ کے ساتھ زندگی کا آغاز کر رہی ہے۔
مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ تقریباً 17 ٹریلین روپے سے زائد ہے، مگر اس کا تقریباً نصف حصہ قرضوں کے سود اور اقساط کی ادائیگی کے لیے مختص ہے۔ جب قومی آمدن کا بڑا حصہ ماضی کے قرض اتارنے میں صرف ہو جائے تو تعلیم، صحت، روزگار اور ترقیاتی منصوبے پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بجٹ کے بعد بھی عام آدمی اپنی زندگی میں کوئی نمایاں تبدیلی محسوس نہیں کرتا۔
پاکستان نے 1950ء کی دہائی میں پانچ سالہ منصوبوں کے ذریعے معاشی ترقی کا آغاز کیا تھا، جہاں زراعت، صنعت اور بنیادی ڈھانچے پر توجہ دی جاتی تھی۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ قومی ترجیحات بدلتی گئیں اور قرضوں پر انحصار بڑھتا چلا گیا۔ آج بھی دفاع اور قرضوں کی ادائیگی کو سب سے زیادہ وسائل ملتے ہیں، جبکہ تعلیم، صحت، تحقیق اور انسانی ترقی کے شعبے مسلسل وسائل کی کمی کا شکار ہیں۔ حالانکہ ایک مضبوط ریاست صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ تعلیم یافتہ، صحت مند اور بااختیار شہریوں سے بنتی ہے۔
مہنگائی آج ہر پاکستانی گھر کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ بجلی کے بل، گیس کے نرخ، پیٹرول کی قیمتیں اور اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے متوسط اور غریب طبقے کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ گھر کا بجٹ سنبھالنا لاکھوں خاندانوں کے لیے روزمرہ کی جدوجہد بن چکا ہے۔
سب سے زیادہ دباؤ تنخواہ دار طبقہ برداشت کر رہا ہے۔ تنخواہوں اور پنشن میں معمولی اضافہ چند ہی ہفتوں میں مہنگائی کی نذر ہو جاتا ہے۔ ایک استاد، کلرک، مزدور اور سرکاری ملازم اپنی آمدن اور اخراجات کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کو روز محسوس کرتا ہے۔
آئی ایم ایف کی شرائط اور بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کے باعث حکومت نے بالواسطہ ٹیکسوں کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔ بجلی، گیس، پیٹرول اور اشیائے خوردونوش پر عائد ٹیکس براہِ راست غریب اور متوسط طبقے کو متاثر کرتے ہیں۔ جو شخص پہلے ہی محدود آمدن پر زندگی گزار رہا ہو، اس کے لیے ہر نیا ٹیکس ایک نئی آزمائش بن جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ بڑے ٹیکس چور اور بااثر طبقات اکثر قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں، جبکہ بوجھ انہی لوگوں پر ڈال دیا جاتا ہے جو پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔
تعلیم اور صحت کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں، مگر پاکستان میں ایک غریب آدمی کے لیے معیاری تعلیم اور مناسب علاج دونوں خواب بنتے جا رہے ہیں۔ سرکاری سکولوں اور ہسپتالوں کی بہتری کے دعوے ہر سال سننے کو ملتے ہیں، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ ایک مزدور اور کسان اپنے بچوں کی تعلیم اور اہلِ خانہ کے علاج کے لیے مسلسل پریشانی کا سامنا کرتا ہے۔
بے روزگاری بھی ایک سنگین قومی مسئلہ بن چکی ہے۔ ہر سال ہزاروں نوجوان ڈگریاں لے کر عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں، مگر روزگار کے مواقع محدود ہیں۔ صنعتوں میں جمود، سرمایہ کاری میں کمی اور معاشی غیر یقینی صورتحال نے نوجوان نسل کو مایوسی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں، جب یہی سرمایہ بےروزگار ہو جائے تو قوم کا مستقبل بھی غیر محفوظ ہو جاتا ہے۔
پاکستان کی معیشت کی بنیاد زراعت ہے، مگر کسان آج بھی مشکلات کے حصار میں قید ہے۔ کھاد، بیج، بجلی اور زرعی ادویات مہنگی ہو چکی ہیں۔ کسان فصل اگاتا ہے، موسمی خطرات برداشت کرتا ہے، مگر اس کی محنت کا اصل منافع مڈل مین اور بیوپاری لے جاتے ہیں۔ جو ہاتھ قوم کو خوراک فراہم کرتے ہیں، وہی ہاتھ سب سے زیادہ محرومی کا شکار ہیں۔
ملک میں موجودہ ٹیکسوں کا بوجھ، عام آدمی کی مشکلات اور قومی وسائل کی لوٹ مار نے عوام میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اس صورتحال سے نکلنے کے لیے سب سے پہلے بلاامتیاز احتساب ناگزیر ہے۔ قانون کی گرفت صرف کمزور کے لیے نہیں بلکہ طاقتور، بااثر اور مراعات یافتہ طبقات تک بھی پہنچنی چاہیے۔ قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کا سخت احتساب کیے بغیر معاشی انصاف کا قیام ممکن نہیں۔
ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ پیٹرول، بجلی، گیس اور اشیائے ضروریہ پر عائد بالواسطہ ٹیکسوں میں کمی کی جائے، جبکہ بڑے سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور ٹیکس چوری کرنے والے طبقات کو اپنی قومی ذمہ داری ادا کرنے کا پابند بنایا جائے۔ ایف بی آر کو جدید، خودمختار اور شفاف ادارہ بنا کر ٹیکس چوری، منی لانڈرنگ اور مالی بدعنوانی کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔ اور ادارے کو بھی کرپشن سے پاک کیا جائےاور کرپشن کرنے والے افسران کو سزا دی جائے
کرپشن سے برآمد ہونے والی قومی دولت اور غیر ضروری سرکاری اخراجات میں ہونے والی بچت کو براہِ راست عوامی فلاح پر خرچ کیا جانا چاہیے۔ معیاری تعلیم، بہتر صحت، روزگار کے مواقع، سستی پبلک ٹرانسپورٹ اور بنیادی سہولتیں ہر شہری کا حق ہیں۔ ریاست کی اصل طاقت اس کے محلات، پروٹوکول اور سرکاری گاڑیوں میں نہیں بلکہ عوام کی خوشحالی، اعتماد اور اطمینان میں ہوتی ہے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ہر معاشی بحران میں قربانی صرف عام آدمی سے مانگی جاتی ہے۔ مہنگائی بھی وہ برداشت کرے، ٹیکس بھی وہ دے، بجلی کے بھاری بل بھی وہ ادا کرے اور معاشی بحران کا بوجھ بھی وہی اٹھائے، جبکہ دوسری طرف اشرافیہ کی مراعات، پروٹوکول، مفت ایندھن، سرکاری گاڑیاں اور غیر ضروری اخراجات بدستور جاری رہتے ہیں۔ یہی تضاد عوام کے دلوں میں ریاست پر اعتماد کو مجروح کرتا ہے۔
پاکستان کی اٹھہتر سالہ بجٹ تاریخ ایک واضح سبق دیتی ہے کہ قوموں کی ترقی سرکاری دعوؤں، اعداد و شمار اور بلند و بانگ تقریروں سے نہیں بلکہ عوام کی زندگی میں آنے والی آسانیوں سے ناپی جاتی ہے۔ اگر ایک مزدور کے گھر کا چولہا بجھ رہا ہو، کسان قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہو، نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں دربدر پھر رہا ہو، مریض علاج سے محروم ہو اور طالب علم تعلیم کے اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہو تو معاشی ترقی کے تمام دعوے اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔
بجٹ محض آمدن و اخراجات کی سالانہ دستاویز نہیں بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان ایک قومی عہد ہوتا ہے۔ قومی وسائل پر پہلا حق ان لوگوں کا ہے جو اپنے خون، پسینے اور محنت سے اس ملک کی معیشت کا پہیہ چلاتے ہیں۔ ریاستیں قرضوں سے نہیں بلکہ انصاف، دیانت اور عوامی اعتماد سے مضبوط ہوتی ہیں۔ ایک ریاست کا وقار اس کے محلات اور بھرے ہوئے خزانوں سے نہیں بلکہ انصاف اور عوام کے گھروں میں خوشحالی سے پہچانا جاتا ہے۔ بجٹ اگر عام آدمی کی زندگی میں آسانی پیدا نہ کر سکے تو وہ محض آمدن و اخراجات کی دستاویز رہ جاتا ہے، ریاستی حکمتِ عملی نہیں۔
latest urdu column Budget, the People, and Economic Justice




