Last Lamp of Modesty 0

کالم 16: حیا کا آخری چراغ. لیکچرار عزت علی پارا چنار
انسانی معاشرہ محض اینٹوں، دیواروں، سڑکوں اور عمارتوں کا مجموعہ نہیں ہوتا بلکہ معاشرہ دراصل انسان کے کردار، اقدار، رویّوں اور احساسِ ذمہ داری سے تشکیل پاتا ہے۔ جب کسی معاشرے میں اخلاق زندہ ہوں تو معمولی گھر بھی تہذیب کا قلعہ دکھائی دیتا ہے، اور جب اخلاق کا چراغ بجھنے لگے تو بلند و بالا عمارتیں بھی اندر سے ویران محسوس ہوتی ہیں۔ ہمارے عہد کا ایک نہایت تشویش ناک المیہ یہ ہے کہ بے حیائی بتدریج معمول بنتی جا رہی ہے ۔ جو چیز کبھی نگاہوں کو جھکا دیتی تھی، آج اسے نمائش کا عنوان سمجھا جاتا ہے، جس بات پر کبھی شرمندگی محسوس ہوتی تھی، آج اسی پر فخر کے پھول سجائے جاتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے حیا، جو کبھی ہمارے معاشرتی وجود کی روح تھی، آہستہ آہستہ ہماری انگلیوں سے پھسل رہی ہے۔
بے حیائی اچانک کسی معاشرے پر نازل نہیں ہوتی۔ اس کے پیچھے کئی چھوٹے چھوٹے دروازے ہوتے ہیں جو بظاہر معمولی دکھائی دیتے ہیں، مگر ایک دن مل کر تہذیب کی دیوار میں شگاف ڈال دیتے ہیں۔ گھریلو تربیت کی کمزوری، والدین اور اولاد کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ، سوشل میڈیا کا بے لگام استعمال، نام نہاد آزادی کے غلط تصورات، شہوت انگیز اور فحش مواد کی آسان دستیابی، غیر ضروری نمائش، دوسروں کی نقالی اور سب سے بڑھ کر حیا کو دقیانوسی تصور سمجھنا، اس صورتِ حال کے اہم اسباب ہیں۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ موبائل کی اسکرین پر کیا دکھائی دے رہا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ منظر دیکھنے والے کے اندر کیا تبدیل کر رہا ہے۔ آنکھ جب مسلسل ممنوع مناظر کی عادی ہو جائے تو دل کی حساسیت کم ہونے لگتی ہے اور جو چیز ابتدا میں گراں گزرتی ہے، رفتہ رفتہ معمول محسوس ہونے لگتی ہے۔
قرآنِ مجید نے بے حیائی کے معاملے کو محض لباس یا ظاہری وضع قطع تک محدود نہیں کیا بلکہ اسے انسانی کردار اور اجتماعی اخلاق سے جوڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ترجمہ : “یعنی اللہ بے حیائی، برائی اور سرکشی سے منع فرماتا ہے۔”
یہ آیت دراصل ایک مکمل معاشرتی منشور ہے ، عدل، احسان اور پاکیزگی کو فروغ دینا اور فحاشی، برائی اور زیادتی کے راستے بند کرنا۔ قرآن ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ برائی صرف وہ نہیں جو انسان خود کرتا ہے، بلکہ اس کا پھیلاؤ بھی خطرناک ہے۔ سورۂ نور میں ان لوگوں کے لیے سخت تنبیہ ہے جو اہلِ ایمان میں بے حیائی کے پھیلنے کو پسند کرتے ہیں۔ گویا اسلام کا مطلوب معاشرہ ایسا معاشرہ ہے جہاں برائی کو صرف کیا ہی نہ جائے بلکہ اسے فیشن، تفریح اور قابلِ فخر مظہر بنا کر پھیلایا بھی نہ جائے۔
قرآن نے اصلاح کا آغاز بھی وہیں سے کیا جہاں سے گناہ کا پہلا قدم اٹھتا ہے۔ مردوں کو نگاہیں نیچی رکھنے اور اپنی پاک دامنی کی حفاظت کا حکم دیا گیا، پھر عورتوں کو بھی نگاہیں نیچی رکھنے، پاک دامنی اختیار کرنے اور اپنی زینت کی نمائش سے احتراز کا حکم دیا گیا۔ اس ترتیب میں ایک گہری حکمت پوشیدہ ہے۔ اسلام انسان کو صرف آخری گناہ سے نہیں روکتا بلکہ اس راستے کے ابتدائی قدم پر ہی روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ کیونکہ بہت سے گناہ ہاتھوں سے پہلے آنکھوں میں جنم لیتے ہیں، زبان پر آنے سے پہلے خیال میں پرورش پاتے ہیں اور کردار میں ظاہر ہونے سے پہلے دل کے اندر جگہ بناتے ہیں۔ مگر یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے ، اگر بے حیائی کے اسباب اتنے بڑھ چکے ہیں تو اس کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟ اس کا جواب صرف پابندیوں میں نہیں، تربیت میں ہے۔ معاشرے کو پولیس سے پہلے ضمیر کی ضرورت ہے، قانون سے پہلے کردار کی ضرورت ہے اور وعظ سے پہلے عملی نمونے کی ضرورت ہے۔ ہم بچوں کو یہ تو بتاتے ہیں کہ کیا مت دیکھو، مگر یہ کم بتاتے ہیں کہ کیوں نہ دیکھو۔ ہم نوجوانوں کو یہ تو کہتے ہیں کہ موبائل کا غلط استعمال نہ کرو، مگر ان کے ہاتھ میں موبائل آنے سے پہلے ان کے اندر خود احتسابی کا چراغ روشن نہیں کرتے۔ ہمیں نئی نسل کے ہاتھ سے صرف اسکرین چھیننے کے بجائے ان کے دل میں مقصدِ زندگی پیدا کرنا ہوگا۔
گھر اس اصلاح کا پہلا مدرسہ ہے۔ اگر والدین خود گفتگو، لباس، نگاہ، زبان اور تعلقات میں حدودِ اخلاق کا خیال رکھیں تو اولاد کو الگ سے بہت سی نصیحتوں کی ضرورت نہیں پڑتی۔ بچے نصیحت سے کم اور مشاہدے سے زیادہ سیکھتے ہیں۔ اگر گھر میں حیا کو عزت، شرافت کو وقار اور پاکیزگی کو کمزوری نہیں بلکہ قوت سمجھا جائے تو یہی اقدار نئی نسل کے مزاج کا حصہ بن سکتی ہیں۔
تعلیمی اداروں کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ تعلیم صرف روزگار کا ہنر نہیں جو کہ آج کل بن چکا ہے ، تعلیم انسان بنانے کا نام ہے۔ ایک ایسا طالب علم جو کئی ڈگریاں حاصل کر لے مگر نگاہ، زبان اور کردار پر قابو نہ رکھ سکے، اس کی تعلیم ابھی ادھوری ہے۔ نصاب میں اخلاقی تربیت، ڈیجیٹل ذمہ داری، انسانی وقار اور معاشرتی آداب کو محض رسمی ابواب نہیں بلکہ عملی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ کیونکہ تعلیم کے بغیر تربیت اور تربیت کے بغیر تعلیم بے مقصد ہے۔ اساتذہ کو بھی اپنی ذات سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ تہذیب کتاب کے صفحات میں نہیں، انسان کے کردار میں سانس لیتی ہے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کے اس دور میں ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ آزادیِ اظہار کا مطلب یہ نہیں کہ ہر وہ چیز نشر کر دی جائے جو توجہ حاصل کر سکتی ہو۔ مقبولیت اور اخلاقی جواز دو الگ چیزیں ہیں۔ ہر وائرل چیز قابلِ تقلید نہیں ہوتی اور ہر مقبول رجحان تہذیب کی علامت نہیں ہوتا۔ ہمیں یہ سوال اٹھانا ہوگا کہ ہم اپنے معاشرے کی آنے والی نسل کے ذہن میں کیا نقش کر رہے ہیں؟ اگر ہماری اسکرینیں مسلسل ایسی تصویریں دکھائیں گی جن میں انسان کو شخصیت کے بجائے جسم، کردار کے بجائے نمائش اور عزت کے بجائے شہرت کے پیمانے سے پرکھا جائے تو پھر معاشرتی بگاڑ پر حیرت کیسی؟
تاہم اصلاح کے نام پر انسانوں کو ذلیل کرنا بھی مسئلے کا حل نہیں۔ بے حیائی کے خلاف آواز ضرور اٹھنی چاہیے، مگر تہمت، تضحیک، نفرت اور کردار کشی کے ذریعے نہیں۔ ہمیں گناہ سے نفرت اور انسان کی اصلاح کے درمیان فرق سمجھنا ہوگا۔ جو شخص غلطی میں مبتلا ہے، اسے معاشرے سے کاٹ دینا اصلاح نہیں ، اسے حکمت، محبت، دلیل اور اچھے نمونے کے ذریعے واپس لانا اصلاح ہے۔ سخت الفاظ کبھی دروازہ بند کر دیتے ہیں، جبکہ حسنِ اخلاق کبھی بند دل پر بھی دستک دے دیتا ہے۔
ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ بے حیائی صرف عورت کے لباس کا مسئلہ نہیں، نہ صرف مرد کی نگاہ کا ، یہ پورے معاشرے کے اخلاقی مزاج کا مسئلہ ہے۔ نگاہ کی بے راہ روی بھی بے حیائی ہے، زبان کی فحاشی بھی، خیانت بھی، دھوکا بھی، کسی کی عزت اچھالنا بھی اور نجی زندگی کو تماشا بنانا بھی۔ اگر ہم بازار میں پردے کی بات کریں مگر زبان سے لوگوں کی عزت تار تار کریں تو ہماری اخلاقیات ادھوری ہیں۔ اگر ہم دوسروں کے لباس پر اعتراض کریں مگر اپنے کردار کی عریانی سے بے خبر رہیں تو ہم نے حیا کے مفہوم کو سمجھا ہی نہیں۔
حیا دراصل لباس سے پہلے دل کی کیفیت ہے۔ لباس اس کا ایک اظہار ضرور ہے، مگر اس کی پوری تعریف نہیں۔ حیا وہ احساس ہے جو انسان کو تنہائی میں بھی غلط قدم اٹھانے سے روکتا ہے ، وہ باطن کی نگہبانی ہے جو انسان کو اس وقت بھی دیکھتی ہے جب دنیا کی کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ رہی ہوتی۔ اسی لیے حیا کا سب سے مضبوط محافظ کیمرہ نہیں، ضمیر ہے۔ سب سے مضبوط دیوار قانون نہیں، خوفِ خدا ہے اور سب سے مؤثر نگرانی معاشرہ نہیں، انسان کا اپنا باطن ہے۔
آج ہمیں معاشرے کے ہر فرد سے ایک عہد لینے کی ضرورت ہےکہ ہم بے حیائی کے خلاف صرف تقریر نہیں کریں گے، اپنے کردار سے مثال قائم کریں گے ، ہم اپنی نگاہوں کی حفاظت کریں گے، اپنی زبان کو پاکیزہ رکھیں گے، اپنی اسکرین کے دروازے پر بھی وہی پہرہ بٹھائیں گے جو اپنے گھر کے دروازے پر بٹھاتے ہیں، اور اپنی اولاد کو صرف دنیا میں کامیاب ہونے کا ہنر نہیں بلکہ انسان بن کر جینے کا سلیقہ بھی سکھائیں گے۔
کیونکہ معاشرے اس وقت تباہ نہیں ہوتے جب ان کی عمارتیں گرنے لگتی ہیں بلکہ معاشرے اس وقت اندر سے منہدم ہوتے ہیں جب برائی برائی محسوس ہونا چھوڑ دے۔ جس دن حیا کو قدامت پسندی، پاکیزگی کو کمزوری اور بے حیائی کو ترقی سمجھ لیا جائے، سمجھ لیجیے کہ تہذیب کے آنگن میں آخری چراغ لرز رہا ہے۔ ہمیں اس چراغ کو بجھنے سے پہلے بچانا ہوگا، کیونکہ حیا صرف ایک اخلاقی خوبی نہیں ، یہ انسانی وقار کی آخری پناہ گاہ ہے۔ اور جس معاشرے نے اپنے وقار کی حفاظت کرنا سیکھ لیا، اسے زمانے کی کوئی آندھی اندر سے شکست نہیں دے سکتی۔

Last Lamp of Modesty

50% LikesVS
50% Dislikes

حیا کا آخری چراغ. لیکچرار عزت علی پارا چنار

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں