Hidden Reality Behind the Veil Weddings in Baltistan 0

پردے کے پیچھے چھپی اصل حقیقت ۔ بلتستان کی شادیاں ) طہٰ علی تابشٓ بلتستانی
29 اگست 2026
میں تقریباً ہر موضوع پر لکھتا ہوں لیکن کچھ موضوعات کو لکھنے نے پہلے کلچر اور وہ نام نہاد عزت بیچ میں آجاتی ہے جسے ہمارے ذہنوں کے اندر ڈال دیا گیا ہے ۔

بلتستان ریجن کی ایک انتہا منافقانہ نظام جس سے مجھے انتہائی نفرت رہا ہے۔ اور میں کوشش بھی کرتا ہوں کہ ہر جگہ اس نا انصافیوں کے بارے میں بولتا رہا ہوں۔ لیکن جب بات عمل کی آتی ہے تو ہمارے بزرگ خود ہمارے افکار کا جنازہ نکال رہا ہوتا ہے ۔

خیر !! آتے ہیں اپنی اصل موضوع کی جانب ۔ بلتستان ریجن میں شادیاں عموماً دو مہینوں میں ہوتے ہیں ایک ماہ ذی الحجہ میں اور دوسرا ماہ ربیع الاول میں ، اب یہ کیوں ہے ، کیا رواج ہے ، اس کے پیچھے کیا وجہ ہے اس پر ہم بات نہیں کرتے ۔

لیکن شادیوں کے سیزن چلتے ہی مہمانوں کا بازار گرم ہو جاتا ہے ۔ یقین جانیں صرف چالیس سے پچاس ہزار تک ہم محض کارڈ بنانے میں خرچ کرتا ہے جو اور اس میں سے بھی دو قسم کی ہے ، ایک وی آئی پی کارڈ دوسرا نارمل کارڈ ۔

اور یہ کارڈ یقیناً سٹیٹس اور پیسوں کے اعتبار سے تقسیم ہوتا ہے ۔ جس کا جیب جتنا بھاری ہوتا ہے اس کے کارڈ اتنا ہی خوبصورت ہوتا ہے ، مطلب زیادہ خرچہ ۔

خیر !! تین دن پہلے تمام محلے والوں کو شادیوں کی تیاری کے لیے بلایا جاتا ہے ، ان سے گدھوں کی طرح کام لیا جاتا ہے ، اور جب بات انہی محلے والے رشتہ داروں پر آتا ہے تو کھانے میں انہیں اجڑی، بھینس بکریوں کی انتڑیاں اور دیگر گوشت سامنے رکھتے جنہیں شاید کتے بھی نہ کھائے ۔

مہمانوں کے لیے یخنی، ( ایک روایتی سالن ) کوفتہ، موٹا گوشت ، چھوٹا گوشت، روسٹ، دیسی گھی، میٹھا اور دیگر ہزار قسم کی پکوان ۔
جبکہ دو ، تین دن گدھوں کی طرح کام کرنے والوں کے گھر والوں اور ہر مصیبت میں آپ کے ساتھ قدم بہ قدم چلنے والے رشتہ داروں کو کبھی سوپ تو کبھی سادے چاول کے ساتھ ایک سالن سے فارغ کر دیتا ہے۔

یہ انصاف نہیں بلکہ ایک گندی سوچ ہے ہیں جو برسوں سے ہمارے اندر چلتی آ رہی ہیں۔ اور اسکردو کے کچھ علاقوں میں ، ہم نے خواتین کو مٹی پر بیٹھ کر شادیوں میں کھانا سرو کرتے دیکھا ہے ۔

یا انہیں ایک ایسی شامیانے میں رکھا جاتا ہے جہاں دم گھٹ جائے ۔ لیکن مہمانوں کے لیے ہر قسم کی سہولیات موجود ہوتا ہے ۔

خیر !!!
یہ میں نہیں کہتا کہ آپ مہمانوں کو سو قسم کی پکوان نہ بنائے ، اگر آپ کی حیثیت ہرن کا گوشت کھلانے میں ہیں تو انہیں ہرن کا گوشت کھلائے ۔ سو پکوان بنائے لیکن معزرت کے ساتھ یہ دو قومی نظریہ ہضم نہیں ہوتا ۔

اگر آپ مہمانوں کو دس قسم کا پکوان تیار کرتا ہے تو کم از کم پانچ پکوان تو اپنے عزیز رشتہ داروں کے لیے بھی تیار کریں جس نے عمر بھر آپ کے ہر دکھ درد میں ساتھ ہونا ہے ۔

میری مدعا بس یہی ہیں کہ مہمان سب ہے ۔ جو باہر سے آئے وہ بھی مہمان ہے جو محلے سے آئے وہ بھی مہمان ہے ۔

آپ کا حلق صرف دو انچ ہے ، یہاں سے اندر جانے کے بعد پتا نہیں چلتا کہ آپ نے کیا کھایا ہے ۔۔

یہ دقیانوسی تصورات کو ہمیں دور کہیں پھنکنے کی ضرورت ہیں ۔

میرے نزدیک، بات اچھے پکوان کی نہیں بلکہ اچھے اخلاق کی ہے ، اچھی تربیت کی ہے اور اچھی سوچ کی ہے۔ اگر شادیاں کاروبار کا حصہ نہ بنے تو آنے والے مہمان آپ کے گھر سے ایک گلاس پانی پی کر بھی آپ کو سینے سے لگا کر مبارک باد کہ کر خوشی خوشی چلے جائیں گے ورنہ وہی ہوگا جو آج تک ہوتا آ رہا ہے یعنی ( شادی میں اچھی پکوان نہیں بنی تھی ) ۔

نوٹ ۔
تحریر کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں

Hidden Reality Behind the Veil Weddings in Baltistan

50% LikesVS
50% Dislikes

پردے کے پیچھے چھپی اصل حقیقت ۔ بلتستان کی شادیاں ) طہٰ علی تابشٓ بلتستانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں