عنوان: “ہر کوئی اپنی کہانی کا ہیرو ہوتا ہے” محمد دلاور بلتستانی
زندگی میں ہم سب کہانیاں سنتے ہیں۔ دوست اپنی سناتے ہیں، رشتہ دار اپنی سناتے ہیں اور سوشل میڈیا پر لوگ اپنی سناتے ہیں، لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں، کوئی بھی شخص اپنی کہانی میں خود کو غلط ثابت نہیں کرے گا۔ اگر آپ کسی ایک کی بات سن کر فیصلہ کر لیں گے تو آپ دھوکا کھا جائیں گے، کیونکہ ہر انسان جب اپنی زبان کھولتا ہے تو وہ اپنے آپ کو معصوم اور دوسرے کو قصور وار دکھاتا ہے۔ جھگڑے میں دونوں فریق خود کو مظلوم بتائیں گے۔ کاروبار میں نقصان ہو تو ہر بندہ دوسرے پر الزام ڈالے گا۔ رشتوں میں دوری آئے تو ہر طرف سے یہی کہا جائے گا کہ قصور میرا نہیں تھا۔
اس کی وجہ بہت سادہ ہے
انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنی عزت بچانا چاہتا ہے، اس لیے وہ بات کو اپنے فائدے کے حساب سے توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے۔ کچھ باتیں چھپا دیتا ہے کچھ باتیں بڑھا دیتا ہے اور آخر میں جو کہانی بنتی ہے اس میں وہ ہمیشہ صحیح ہوتا ہے۔ تو پھر سچ تک کیسے پہنچیں۔
ایک شخص کی بات سن کر فورا رائے مت بنائیں۔ دوسرے سے بھی پوچھیں کہ اس کا کیا کہنا ہے۔ اکثر آدھی سچائی سب سے بڑا جھوٹ ہوتی ہے۔ صرف الفاظ پر یقین مت کریں، بلکہ عمل دیکھیں، رویہ دیکھیں، حالات دیکھیں۔
جو شخص کہتا کچھ ہے اور کرتا کچھ ہے اس کی بات پر آنکھ بند کر کے بھروسہ مت کریں۔
ہر کہانی میں ایک خاموش کونے ہوتا ہے جہاں اصل سچ چھپا ہوتا ہے۔ سوچیں کہ اس واقعے سے کس کو فائدہ ہوا، کس کو نقصان ہوا، جذبات میں آ کر فیصلہ مت کریں۔
یاد رکھیں، زبان بہت میٹھی بھی ہو سکتی ہے اور بہت خطرناک بھی، زبان سے جنگیں شروع ہوتی ہیں اور زبان سے رشتے بھی ٹوٹتے ہیں۔ اس لیے دوسروں کی سنائی ہوئی کہانی کو اپنی زندگی کا اصول مت بنائیں۔ اپنی آنکھیں کھلی رکھیں۔ اپنا دماغ استعمال کریں، کیونکہ دنیا میں کوئی بھی شخص اپنی کہانی میں خود کو ولن نہیں بنائے گا۔ فیصلہ ہمیشہ آپ نے خود کرنا ہے۔ ورنہ آپ دوسروں کی کہانیوں کے پیچھے چلتے چلتے اپنی زندگی کی سچائی سے بہت دور نکل جائیں گے۔
Everyone Is the Hero of Their Own Story




