column in urdu Youth Is Overwhelmed by Hardship

جوان کی زندگی کب عذاب بن جاتی ہے؟ شبیر حسین کمال

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

جوانی انسانی زندگی کا سب سے خوبصورت، قیمتی اور فیصلہ کن دور شمار ہوتی ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جس میں انسان کے اندر طاقت، حوصلہ، جذبہ اور کچھ کر گزرنے کی صلاحیت اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ نوجوان اپنے مستقبل کے خواب دیکھتا ہے اور انہیں حقیقت کا روپ دینے کے لیے جدوجہد کرتا ہے۔ اگر یہ دور صحیح سمت میں گزرے تو انسان کامیابی، عزت اور خوشحالی حاصل کر لیتا ہے، لیکن اگر جوانی غلط راستوں میں ضائع ہو جائے تو یہی زندگی مشکلات، پریشانیوں اور عذاب میں تبدیل ہو جاتی ہے۔جوان کی زندگی اس وقت عذاب بن جاتی ہے جب وہ اپنی زندگی کے مقصد کو فراموش کر دیتا ہے۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے بے مقصد پیدا نہیں کیا بلکہ ایک خاص مقصد کے تحت دنیا میں بھیجا ہے۔ جب نوجوان اپنی ذمہ داریوں کو بھلا کر صرف خواہشات اور وقتی لذتوں کے پیچھے چل پڑتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ روحانی اور اخلاقی زوال کا شکار ہو جاتا ہے۔ مقصد سے محرومی انسان کو بے چینی، مایوسی اور ذہنی اضطراب میں مبتلا کر دیتی ہے۔جوانی کے عذاب بننے کی ایک بڑی وجہ وقت کا ضیاع بھی ہے۔ نوجوانی کا وقت سیکھنے، ترقی کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا بہترین زمانہ ہوتا ہے۔ جو نوجوان اپنا وقت فضول مشاغل، غیر ضروری تفریحات اور بے فائدہ سرگرمیوں میں ضائع کر دیتے ہیں، وہ بعد میں پچھتاوے کا شکار ہوتے ہیں۔ وقت ایک ایسی نعمت ہے جو ایک بار گزر جائے تو دوبارہ واپس نہیں آتی۔ اس لیے وقت کی ناقدری مستقبل میں مشکلات اور پریشانیوں کا سبب بنتی ہے۔بری صحبت بھی نوجوان کی زندگی کو عذاب میں تبدیل کر دیتی ہے۔ انسان اپنے دوستوں اور ماحول سے بہت زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ اگر نوجوان نیک، باکردار اور تعلیم یافتہ لوگوں کی صحبت اختیار کرے تو اس کے اندر بھی اچھی صفات پیدا ہوتی ہیں، لیکن اگر وہ برے دوستوں کے ساتھ رہے تو آہستہ آہستہ غلط عادات کا شکار ہو جاتا ہے۔ نشہ، جھوٹ، بد اخلاقی اور دیگر برائیاں اکثر بری صحبت ہی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ یہی برائیاں انسان کی عزت، صحت اور مستقبل کو تباہ کر دیتی ہیں۔دین سے دوری بھی نوجوان کی زندگی میں بے سکونی پیدا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی یاد اور عبادت انسان کے دل کو سکون عطا کرتی ہے۔ جب نوجوان نماز، تلاوتِ قرآن اور دینی تعلیمات سے دور ہو جاتا ہے تو اس کے دل میں ایک خلا پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ ظاہری خوشیوں کے باوجود اندرونی سکون محسوس نہیں کر پاتا۔ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:
“اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ”
ترجمہ: “خبردار! اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔” (سورۂ رعد: 28)
والدین کی نافرمانی بھی جوانی کو عذاب میں بدلنے والی اہم وجوہات میں سے ہے۔ والدین اولاد کے سب سے بڑے خیر خواہ ہوتے ہیں۔ ان کی دعائیں زندگی میں برکت اور کامیابی کا سبب بنتی ہیں۔ جو نوجوان والدین کی عزت و اطاعت کرتے ہیں، ان کی زندگی میں سکون اور ترقی آتی ہے، جبکہ نافرمانی انسان کو مختلف مشکلات اور محرومیوں سے دوچار کر دیتی ہے۔آج کے دور میں سوشل میڈیا کا غیر ضروری استعمال بھی نوجوانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اگرچہ ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے بے شمار فوائد ہیں، لیکن ان کا غلط استعمال وقت کے ضیاع، ذہنی دباؤ اور معاشرتی تنہائی کا سبب بنتا ہے۔ بہت سے نوجوان اپنی صلاحیتوں کو مثبت کاموں میں استعمال کرنے کے بجائے گھنٹوں غیر ضروری سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں، جس سے ان کی تعلیمی اور عملی زندگی متاثر ہوتی ہے۔
اس کے برعکس جو نوجوان علم حاصل کرتے ہیں، محنت کو اپنا شعار بناتے ہیں، والدین کا احترام کرتے ہیں، اچھے دوستوں کا انتخاب کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط رکھتے ہیں، ان کی زندگی خوشحال اور بامقصد بن جاتی ہے۔ ایسے نوجوان نہ صرف اپنی ذات کے لیے بلکہ اپنے خاندان، معاشرے اور قوم کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔مختصر یہ کہ جوانی بذاتِ خود عذاب نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ یہ نعمت اس وقت عذاب میں تبدیل ہوتی ہے جب انسان اسے غلط راستوں میں ضائع کر دے اور اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتے۔ اگر نوجوان اپنی زندگی کو علم، عمل، اخلاق اور ایمان کے اصولوں کے مطابق گزاریں تو یہی جوانی ان کی دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ لہٰذا ہر نوجوان کو چاہیے کہ وہ اپنی جوانی کی قدر کرے، اپنے وقت کو مفید کاموں میں صرف کرے اور ایک روشن اور کامیاب مستقبل کی تعمیر کے لیے بھرپور جدوجہد کرے۔

گلگت بلتستان کا مستقبل محض ایک سیاحتی جنت ہونے میں ہے یا اس کی اصل طاقت ان سنجیدہ فکری تحریکوں میں پوشیدہ ہے

خوراک کا عالمی بحران . (صدائے حق) سرچ تحریر:یوسف علی ناشاد

متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کے لیے ای پاسپورٹ فیس کا نیا شیڈول جاری

column in urdu Youth Is Overwhelmed by Hardship

50% LikesVS
50% Dislikes

جوان کی زندگی کب عذاب بن جاتی ہے؟ شبیر حسین کمال

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں