“بلتستان کے نوجوان شادی شدہ لڑکوں میں بڑھتی ہوئی ایک گندی بیماری” طہٰ علی تابش بلتستانی
تاریخ: 23 جولائی، 2026
جب بھی میں نے عورتوں کے حقوق کی بات کی ہے، مجھے ہمیشہ معاشرے کے علمائے کرام اور نوجوانوں کی تنقید کا نشانہ بننا پڑا ہے۔ لیکن جب تک ہمارے معاشرے سے یہ گندگی ختم نہیں ہو جاتی، اس پر پردہ ڈالنے کے بجائے میں ہر شخص کو اس کے بارے میں ضرور بتاؤں گا، تاکہ عورتیں اپنا دفاع خود کر سکیں اور کسی بیٹی کا گھر اجڑنے سے بچ سکے۔مردوں میں یہ بیماری پیچھلے چند سالوں سے مسلسل اور بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ نہ تو اس کا کوئی مکمل علاج سامنے آ رہا ہے اور نہ ہی دین کے پیشوا اس پر کوئی ٹھوس قدم اٹھا رہے ہیں، جبکہ معاشرے کا صرف ایک طبقہ یعنی خواتین ہی اس میں پس رہا ہے۔
عزیزاً
شادی کوئی مذاق یا کھیل نہیں ہے، اور نہ ہی کسی کی ماں بہن آپ کے لیے کوئی رکھیل ہے کہ جب دل بھر گیا، بغیر کسی جواز کے طلاق دے دی۔ بلتستان بالخصوص وادیِ اسکردو میں یہ بیماری بہت تیزی سے پھیل رہی ہے۔ مرد حضرات شادی کے ایک یا دو سال بعد خاتون کو حاملہ کر کے، یا ایک معصوم وجود کی پیدائش کے بعد، بغیر کسی وجہ کے طلاق دے دیتے ہیں۔ کبھی ماں سے بچہ چھین لیا جاتا ہے، تو کبھی آٹھ آٹھ یا دس دس سال کی اولاد اس عورت کے گلے میں ڈال دی جاتی ہے، جو اس معصوم کی تربیت کی خاطر اپنی جوانی اور ہر خواہش قربان کر دیتی ہے۔ دوسری جانب، جب ماں سے بچہ چھین لیا جاتا ہے تو اسے دادی، پھوپھی یا خالہ کے سپرد کر دیا جاتا ہے، جو نہ تو اس کی صحیح تربیت کر پاتی ہیں اور نہ ہی اسے سنبھال سکتی ہیں۔ یوں وہ بچہ آگے چل کر معاشرے کے لیے ایک خطرناک ناسور بن جاتا ہے، جسے ہر شخص اور ہر فرد ایک ظالم اور جابر نظر آتا ہے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق، اسکردو میں ہر سال دو سے تین سو لڑکیوں کو شادی کے ایک یا دو سال بعد بغیر کسی وجہ کے طلاق دے دی جاتی ہے۔
ان میں سے بہت سے لڑکیوں کے ساتھ ایک بچہ بھی ہوتا ہے جو ان کے لیے ایک کٹھن امتحان بن جاتا ہے۔ امتحان اس معنوں میں کہ نہ تو ان کے لیے کوئی مناسب رشتہ آتا ہے، اور جو آتا بھی ہے وہ کسی دوسرے کے بچے کے ساتھ انہیں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اور یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بیشتر مرد کسی دوسرے کی اولاد کو قبول نہیں کرتے، خواہ وہ بچہ کسی کا بھی ہو۔ میری نوجوان خواتین سے گزارش ہے کہ خدارا! چند دنوں کے پیار، محبت اور جھوٹے وعدوں سے بالاتر ہو کر اپنے لائف پارٹنر (شریکِ حیات) کا انتخاب کریں۔
یہ دیکھ لیں کہ کہیں آپ کا ہونے والا شوہر ایک جاہل اور گوار تو نہیں؟ کہیں اس کا دھیان اور محبت صرف بستر کی حد تک تو نہیں؟ کہیں آپ کے ہوتے ہوئے اس کی توجہ کسی اور عورت کی طرف تو نہیں؟ کہیں اس کی نظر صرف آپ کے جسم پر تو نہیں؟
میرے نزدیک یہ زندگی کا سب سے سخت اور اہم فیصلہ ہے، اسے بہت سوچ سمجھ کر کریں۔ محبت، پیار اور دوستی کو ایک طرف رکھ کر یہ سوچیں کہ آپ کا مرد ایک عاقل اور بالغ سوچ رکھتا ہے یا نہیں؟ ورنہ یہ دھوکے بازیاں ہوتی رہیں گی، آپ کی عصمت کا سودا ہوتا رہے گا، اور آپ کے گھر جہنم بنتے رہیں گے۔ دوسری جانب میں ایسے مردوں سے مخاطب ہوں: مکافاتِ عمل ایک فطری قانون ہے۔ اگر آپ کسی کی بہن بیٹی کے ساتھ کھیلیں گے تو فطرت آپ کی بہن بیٹی کو بھی منہ کے بل گرا دے گی۔ ظلم اتنا ہی کریں جتنا خود سہہ سکیں۔
اور میری معاشرے کے ذمہ دار افراد، عدلیہ، وقت کی حکومت اور علمائے کرام سے گزارش ہے کہ کسی کی بیٹی کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے ایسے مردوں کو عبرت ناک سزا دی جائے اور قانون کی پاسداری کرتے ہوئے کڑی سے کڑی سزا سنائی جائے۔
نوٹ:
تحریر کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں اور مصنف کی آواز بنیں تاکہ حکامِ بالا تک ہمارا پیغام پہنچ سکے۔
امید نو . زوبیہ حسیب
column in urdu Young Men of Baltistan




