دنیا کی وفا . شبیر حسین کمال
دنیا ایک عارضی مسافر خانہ ہے، ہمیشہ رہنے کی جگہ نہیں۔ انسان جب اس دنیا میں آتا ہے تو اس کے دل میں مال، دولت، شہرت، اقتدار اور آرام کی خواہش پیدا ہوتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا نے کبھی کسی سے وفا نہیں کی۔ جس نے دنیا کو اپنا سب کچھ سمجھا، وہ آخرکار مایوس ہوا، کیونکہ دنیا کا مزاج بدل جانا ہے۔ آج خوشی ہے تو کل غم، آج صحت ہے تو کل بیماری، آج جوانی ہے تو کل بڑھاپا، اور آخرکار ہر انسان کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔
قرآن مجید ارشاد فرماتا ہے: وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ یعنی دنیا کی زندگی دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی چمک دمک انسان کو اپنی طرف کھینچتی ضرور ہے، مگر اس پر ہمیشہ بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
امام علیؑ فرماتے ہیں۔دنیا ایک گزرگاہ ہے، رہنے کی جگہ نہیں۔ اس لیے عقلمند انسان وہ ہے جو دنیا کو آخرت کی تیاری کا ذریعہ بنائے، نہ کہ اپنی آخری منزل سمجھے۔ مال و دولت، رشتہ دار اور دنیاوی منصب سب یہیں رہ جائیں گے، جبکہ انسان کے ساتھ صرف اس کے نیک اعمال جائیں گے۔واقعۂ کربلا دنیا کی بے وفائی کی سب سے بڑی مثال ہے۔ امام حسینؑ نے دنیاوی حکومت اور اقتدار کے مقابلے میں اللہ کی رضا کو ترجیح دی اور ثابت کر دیا کہ عزت دنیا کی ظاہری کامیابی میں نہیں بلکہ حق پر قائم رہنے میں ہے۔ آج چودہ سو سال گزرنے کے باوجود امام حسینؑ کا نام عزت، حق اور قربانی کی علامت ہے، جبکہ دنیا کی خاطر ظلم کرنے والوں کا نام نفرت اور رسوائی کے ساتھ لیا جاتا ہے۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ دنیا کی عارضی لذتوں میں کھو جانے کے بجائے اپنی آخرت کی فکر کریں، نماز، قرآن، نیکی، خدمتِ خلق اور اہلِ بیتؑ کی محبت کو اپنی زندگی کا سرمایہ بنائیں۔ یہی وہ دولت ہے جو قبر میں بھی روشنی دے گی اور قیامت کے دن نجات کا سبب بنے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا کی حقیقت کو سمجھنے، اس کے دھوکے سے محفوظ رہنے اور آخرت کی دائمی کامیابی حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
column in urdu Worldly Loyalty: A Passing Illusion




