column in urdu Shadow of Floods Looms Again

سیلاب کا سایا پھر منڈلانے لگا ،کیا ہم نے ماضی سے کوئی سبق سیکھا. یاسر دانیال صابری
گلگت بلتستان میں سیلابی تباہ کاریاں عروج پر ہے
گلگت بلتستان ہر سال سیلابی ریلوں، کلاؤڈ برسٹ اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے قدرتی آفات کا سامنا کرتا ہے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ متاثرہ عوام کو بروقت ریلیف اور انصاف فراہم نہیں کیا جاتا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کی جانب سے حکومت کو حقیقت پر مبنی رپورٹس بھیجی جاتی ہیں؟ زمینی حقائق تو اس کے برعکس نظر آتے ہیں، کیونکہ متعدد متاثرہ خاندان آج بھی اپنے جائز حق سے محروم ہیں۔
اس کی ایک مثال میرا اپنا گاؤں کھلتارو ہے، جہاں 2020 اور 2023 کے سیلابی ریلوں نے میری زرعی زمین اور آلو کی پوری فصل تباہ کر دی۔ اس حوالے سے متعدد درخواستیں جمع کرائی گئیں، مگر آج تک نہ کوئی معاوضہ ملا اور نہ ہی درخواستوں کا کوئی سراغ ہے۔ اس تمام نقصان کا ریکارڈ، ویڈیوز اور تصاویر آج بھی سوشل میڈیا پر موجود ہیں، جو اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا نظام مؤثر انداز میں کام نہیں کر رہا۔گزشتہ پھر سیلاب کی نظر ہوئی میری زمین۔۔حراموش اشوگاہ نالے میں کئی بکریوں کے استبل تباہ ہوئے ۔کھلتارو دو پل ،انصر کمپ پل ،کٹ گئی
پاکستان سمیت پوری دنیا موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کی زد میں ہے، اس لیے جدید ارلی وارننگ سسٹم کو فعال بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بروقت اطلاعات نہ ملنے کے باعث لوگوں کو بڑے پیمانے پر مالی اور جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
عوام کی ایک بڑی شکایت یہ بھی ہے کہ سرکاری اداروں میں بغیر سفارش یا ریفرنس کے کام نہیں ہوتے۔ آن لائن نظام موجود ہونے کے باوجود اکثر نیٹ ورک کا بہانہ بنا کر لوگوں کو بار بار دفاتر کے چکر لگوائے جاتے ہیں، جس سے عوام کی مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔
اس وقت جلال آباد، چھموگڑ، اوشکھنداس، ہراموش، بگروٹ اور کھلتارو سمیت کئی علاقے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ بجلی معطل ہے، سڑکیں منقطع ہیں اور کھلتارو مکمل طور پر لاک ڈاؤن جیسی صورتحال کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں عوام دوائیں، خوراک اور دیگر ضروری اشیائے زندگی کیسے حاصل کریں؟حکومتِ گلگت بلتستان، وفاقی حکومت، این ڈی ایم اے، جی بی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ ہے کہ متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر امدادی کارروائیاں تیز کی جائیں، ہیلی کاپٹر کے ذریعے خوراک، ادویات اور دیگر ضروری سامان پہنچایا جائے، بجلی اور سڑکوں کی بحالی پر ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جائے، اور تمام متاثرہ خاندانوں کو شفاف طریقے سے معاوضہ فراہم کیا جائے۔ ساتھ ہی مستقبل میں ایسے نقصانات سے بچنے کے لیے مؤثر ارلی وارننگ سسٹم، حفاظتی پشتوں اور مستقل سیلابی حفاظتی منصوبوں پر فوری عملدرآمد کیا جائے۔
قدرتی آفات کو روکا نہیں جا سکتا، لیکن بہتر منصوبہ بندی، شفاف انتظامیہ اور بروقت امداد کے ذریعے عوام کے نقصانات کو ضرور کم کیا جا سکتا ہے۔ یہی ریاست اور متعلقہ اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
گلگت بلتستان ایک بار پھر قدرتی آفت کی زد میں ہے۔ استور، ہراموش، دنیور، بگروٹ، ہنزہ، سکردو اور دیگر علاقوں میں حالیہ شدید بارشوں، کلاوڈ برسٹ اور سیلابی ریلوں نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ کہیں مکانات تباہ ہوئے، کہیں زرعی زمینیں اور باغات بہہ گئے، کہیں سڑکیں اور پل ٹوٹ گئے،استبل جبکہ کئی علاقوں میں پانی، بجلی اور آمدورفت کا نظام معطل ہو گیا۔ خوش قسمتی سے بعض مقامات پر بڑے جانی نقصان کی اطلاعات نہیں آئیں، لیکن مالی نقصانات اور عوام کی مشکلات انتہائی سنگین ہیں۔
استور کے علاقے لوس داس میں کلاوڈ برسٹ کے باعث ابتدائی اطلاعات کے مطابق متعدد مکانات مکمل یا جزوی طور پر متاثر ہوئے، جبکہ زرعی زمین، فصلیں، درخت اور آبپاشی کا نظام بھی نقصان کا شکار ہوا۔ اسی طرح ہراموش شوتہ ،کھلتارو نالہ، بگروٹ اور چھموگڑھ میں شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں نے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا۔ ہنزہ کے گریلت گنش نالہ میں سیلابی ملبے نے زرعی اراضی کو متاثر کیا، جبکہ شاہراہِ بلتستان پر پل متاثر ہونے سے آمدورفت بھی معطل ہوئی۔ یہ تمام واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان قدرتی خطرات کے حوالے سے ایک حساس خطہ ہے۔
یہ سب کچھ اچانک ہو رہا ہے۔ ماہرین کئی برسوں سے خبردار کر رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید بارشوں، گلیشیئرز کے پگھلنے اور کلاوڈ برسٹ جیسے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے شدید متاثر ہوتے ہیں، حالانکہ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اس کا حصہ نسبتاً کم ہے۔ اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
ہر آفت کے بعد امدادی سرگرمیاں شروع ہو جاتی ہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم آفت آنے سے پہلے بھی اتنی ہی تیاری کرتے ہیں؟ اگر خطرناک علاقوں میں مؤثر ارلی وارننگ سسٹم موجود ہو، موسمی اطلاعات بروقت عوام تک پہنچیں، حساس شاہراہوں کی نگرانی کی جائے، ندی نالوں کی صفائی اور حفاظتی پشتوں کی بروقت مرمت ہو، تو بہت سے نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
سیلاب کے بعد شفاف سروے بھی نہایت ضروری ہے۔ امداد اور معاوضہ حقیقی متاثرین تک پہنچنا چاہیے۔ اگر سروے زمینی حقائق، ریونیو ریکارڈ اور مقامی تصدیق کی بنیاد پر ہو تو ناانصافی کے امکانات کم ہو جاتے ہیں اور عوام کا اعتماد بھی بحال رہتا ہے۔کسی بھی علاقے میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے صرف ہنگامی امداد کافی نہیں۔ گلگت بلتستان اسمبلی اور وفاقی حکومت کو اپنے سالانہ بجٹ میں ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ، ارلی وارننگ سسٹم، حفاظتی دیواروں، پلوں اور سڑکوں کی مضبوط تعمیر، شجرکاری، ریسکیو آلات اور بحالی کے منصوبوں کے لیے مناسب فنڈز مختص کرنے چاہییں۔ ایسی سرمایہ کاری اخراجات نہیں بلکہ مستقبل کے بڑے نقصانات سے بچاؤ کا ذریعہ ہے اس مشکل وقت میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی بھی ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ حکومت، انتظامیہ، ریسکیو ادارے، سماجی تنظیمیں اور مقامی کمیونٹیز اگر باہمی تعاون سے کام کریں تو بحالی کا عمل زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے۔
قدرتی آفات کو روکا نہیں جا سکتا، لیکن ان کے اثرات ضرور کم کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم ہر سانحے کو صرف ایک خبر سمجھ کر نہ بھول جائیں، بلکہ اس سے سبق سیکھیں، اپنی منصوبہ بندی بہتر بنائیں اور ایسے اقدامات کریں جو آنے والے برسوں میں انسانی جانوں، املاک اور قومی وسائل کے تحفظ کو یقینی بنا سکیں۔ یہی ایک ذمہ دار معاشرے اور دوراندیش حکمرانی کی پہچان ہے۔
سیلاب سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر کرنے چاہے
سیلاب اور کلاوڈ برسٹ جیسے قدرتی خطرات کے پیشِ نظر عوام کو چاہیے کہ محکمہ موسمیات اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر مکمل عمل کریں۔ شدید بارشوں کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں، خصوصاً ندی نالوں، دریا کے کناروں، پلوں اور لینڈ سلائیڈنگ والے علاقوں کا رخ نہ کریں۔ اگر کسی علاقے کے لیے ارلی وارننگ یا انخلا کی ہدایت جاری کی جائے تو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں۔ ہنگامی صورتِ حال کے لیے ضروری ادویات، پینے کا پانی، خشک خوراک، ٹارچ، پاور بینک، اہم دستاویزات اور ابتدائی طبی امداد کا سامان پہلے سے تیار رکھیں۔ بچوں، بزرگوں، معذور افراد اور حاملہ خواتین کی حفاظت کو ترجیح دیں۔ بارش کے دوران بجلی کے کھمبوں، ٹوٹی ہوئی تاروں اور تیز بہاؤ والے پانی سے دور رہیں۔ مقامی انتظامیہ، ریسکیو اداروں اور رضاکاروں کے ساتھ تعاون کریں اور غیر مصدقہ افواہوں کے بجائے صرف سرکاری معلومات پر اعتماد کریں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ ارلی وارننگ سسٹم کو مؤثر بنائیں، ندی نالوں کی صفائی، حفاظتی پشتوں کی تعمیر، شجرکاری، خطرناک علاقوں کی مسلسل نگرانی اور بروقت ریسکیو اقدامات کو یقینی بنائیں تاکہ انسانی جانوں اور املاک کو زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھا جا سکے۔

کالم ،میرا سفر ،گمنام لڑکا

شگر ، اسکردو نئی شاہراہ کی فوری میٹلنگ کا مطالبہ، شگر ایویئرنس فورم کے چیئرمین محمد ظہیر عباس شگر ایویئرنس فورم کا شگر

میگنیفیکا ہیومینیٹاس”: انسانی وقار اور مصنوعی ذہانت کا اخلاقی منشور. سیدہ تسکین بخت
column in urdu Shadow of Floods Looms Again

50% LikesVS
50% Dislikes

سیلاب کا سایا پھر منڈلانے لگا ،کیا ہم نے ماضی سے کوئی سبق سیکھا. یاسر دانیال صابری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں