column in urdu A Personal Journey

کالم ،میرا سفر ،گمنام لڑکا
مجھے خاموشی پسند ہے، لیکن کبھی کبھی بہت باتیں کرنے کو دل چاہتا ہے۔ اور جب بھی دل چاہتا ہے کہ میں بہت ساری باتیں کروں، کوئی مجھے غور سے سُنے، تو کوئی سامع نہیں ہوتا۔ پھر میں خود سے باتیں کرنے لگتا ہوں۔ لوگ کہتے ہیں کہ خود سے باتیں کرنے والے پاگل ہیں۔ میں پاگل نہیں ہوں۔ بس جب کوئی نہیں ہوتا، مجھ سے باتیں کرنے والا، تو میں خود سے باتیں کر لیتا ہوں۔ اور خود سے باتیں کرتے کرتے میرا دل چاہتا ہے کہ میں لکھوں، کیونکہ مجھے لکھنا اچھا لگتا ہے۔ میں اپنے دل کی باتیں خود کو لکھ کر بتاؤں۔ کوئی سُنے نہ سُنے، کوئی مسئلہ نہیں۔ کسی کا مل جانا، کسی کو کھو دینا، کبھی ہنسنا تو کبھی رو دینا، کبھی میلوں کا سفر لمحوں میں طے کر دینا اور کبھی لمحوں کا سفر کرتے ہوئے تھک جانا، کبھی وقت کے ساتھ آگے بڑھ جانا اور کبھی رک جانا، کبھی قبولیت کے لیے بار آسمان کی طرف دیکھتے رہنا اور کبھی ہار کر سجدے میں گر جانا، کبھی اتنا صبر کرنا کہ ہر شخص کو مات دے جانا، تو کبھی ایک لفظ پر بکھر جانا، کبھی ٹھوکر کھا کر بھی اٹھ جانا، تو کبھی ٹھوکریں کھا کر دوبارہ اٹھنا۔ اس کا نام ہی زندگی ہے۔ اور زندگی آپ کو ہر رنگ دکھاتی ہے، تاکہ آپ سمجھیں اسے کس طرح گزارنا ہے۔ میں ابھی شاید صبر کے پہلے درجے پر ہوں، اس لیے آج بھی میری زبان پر کوئی نہ کوئی شکوہ آ جاتا ہے۔ مگر میں چاہتا ہوں کہ میں جلد صبر کے اس درجے پر پہنچوں، جن کے لیے میرے رب نے فرمایا ہے: “بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے”۔ مجھے کسی سے بھی قریب ہونا پسند نہیں ہے، کیونکہ یہ لوگ جو زندگی میں قریب ہوتے ہیں، ان سے کسی بھی قسم کی دوری ذہن کو ڈسٹرب کر دیتی ہے۔ چاہے وہ دوری وقت کی قلت ہو، یا نظر انداز کرنے کی اذیت۔ میں بہت لگن سے حاصل کی گئی چیزوں کو ایک پل میں چھوڑ دیتا ہوں۔ بہت محبت سے بنائے گئے رشتوں کو ایک پل میں توڑ دیتا ہوں۔ مگر اس پل کے پیچھے بہت سارے لمحوں کی بے توجہی، بے قدری اور تذلیل چھپی ہوتی ہے۔ وہ دیکھنے میں ایک پل لگتا ہے، مگر حقیقتاً وہ ایک پل نہیں ہوتا، بلکہ صدیاں ہوتی ہیں۔ غلط تھا میں۔ بدنصیب تو وہ ہوتا ہے جس کے دروازے پر محبت روز پانچ بار آتی ہے اور وہ اس محبت پر اپنا دروازہ بند کر دیتا ہے۔ بدنصیب تو وہ ہے جس کو سب مل جاتا ہے مگر خدا نہیں ملتا۔ بدنصیب تو وہ ہے جس پر وہ اپنی محبت کی راہ بند کر دے۔ بدنصیب تو وہ ہے جس کو وہ اتنی توفیق نہیں دیتا کہ وہ اس کی آواز کا جواب دے سکے۔ بدنصیب تو وہ ہے جو نصیب لکھنے والے سے لڑتا رہا اور جو نصیب ہار گیا۔ تعلق، تجربے سے گزر کر اور کئی مان ٹوٹنے کے بعد پیدا ہونے والی خود اعتمادی، ایک مشعلِ راہ کی صورت میں ہمیں اس مقام تک لے جاتی ہے جہاں ہمیں کسی انسانی آسرے کی ضرورت نہیں رہتی۔ مان جتنا مرضی مضبوط ہو، بہرحال ایک نہ ایک دن اسے ٹوٹنا ہوتا ہے۔ اور مان صرف خود نہیں ٹوٹتا، وہ اس شخص کو بھی توڑ دیتا ہے جس نے قطرہ قطرہ محبت جوڑ کر اس مان کو جمع کیا ہوتا ہے۔ یہ جو آنسو باہر بہنے کی بجائے ٹپ ٹپ کرتے دل پر اندر ہی اندر برستے ہیں نا، یہ تیزاب سے بھی گہرا کام کر جاتے ہیں۔ دل کی اوپر والی تہ، جس میں جینے کی خواہش، خوابوں کی دنیا، پانے کی چاہت بس ہوتی ہے نا، آنسو اسی کو ہی سب سے پہلے جلا کر ختم کر دیتے ہیں۔ پھر انسان مسکرانا تو کیا، کسی دوسرے کی مسکان دیکھنا بھی بھول جاتا ہے۔ پھر نہ تو پانے کی چاہ رہتی ہے، نہ حاصل کی خوشی، نہ تو کھونے کا ڈر ہوتا ہے اور نہ ہی لاحاصل کا غم۔ سب سے بڑا مسئلہ اس وقت تنہائی ہے، جب کرنے کو کچھ نہ ہو، نیند بھی نہ آ رہی ہو، نہ کوئی دوست ہو، نہ کوئی دوستی۔ اکیلے بس چاندنی رات میں آسمان کو تکتے رہنا، پھر موبائل کھول کر دیکھنا اور پھر موبائل رکھ دینا۔ اور پھر بور ہو کر موبائل رکھ دینا، آسمان تکتے رہنا، سونے کی ناکام کوش کرتے ہوئے۔ رات کا یہ پہر بری اذیت دیتا ہے۔ میں نے زندگی میں کئی سبق سیکھے، مگر جس سبق نے میری زندگی بدل دی وہ ہے دست برداری۔ دنیا کی ہر شے سے دست بردار ہو جاؤ، سکون پا لو گے۔ یہ بات طے ہے کہ مجھ میں ابھی یہ چیز اس سطح پر موجود نہیں ہے، لیکن جب کسی چیز سے دست بردار ہوا، سکون مل گیا۔ ہم ہر چیز کو اپنا سمجھ کر اس پر حقِ ملکیت جتانے لگتے ہیں۔ بس یہیں سے بے سکونی کی ابتداء ہوتی ہے۔ ہم تو خود بھی اپنے نہیں، پھر کوئی چیز ہماری ملکیت کیسے ہو سکتی ہے؟ ہماری تخلیق کا اصل مقصد بس اخلاص اور خلوص کے ساتھ اپنے فرائض کی ادائیگی ہے۔ خوشیاں بھی کبھی مانگ کر لی جاتی ہیں؟ اگر آپ مانگ کر لے بھی لو تو بھی وہ خوشی آپ کو کبھی سکون دے ہی نہیں پائے گی۔ میں ہمیشہ سے ہی مانگتا آیا۔ یا تو کسی سے رشتہ بنایا نہیں، اگر بنا لیا تو اسے کھونے سے بہت ڈرتا تھا۔ اور ہمیشہ ہی میرے عزیز مجھ سے اتنی بری طرح سے بچھڑے کہ میرے ہاتھ میں صرف ان کی یادیں رہیں۔ اور یوں ایک عمر تک مجھے لگتا رہا کہ میری خوشیاں کچھ ہی مقصود لوگوں تک محدود ہیں۔ میں اپنے رشتوں کو بچانے کے لیے روتا، تڑپتا، منت سماجت کرتا۔ مگر پھر بھی کہیں نہ کہیں تو بچھڑنا ہوتا ہے۔ اور پھر ایسے بچھڑنے کو ذات کی ذلت ہی کہا جاتا ہے۔ بھلا ہم کسی کو اس کی مرضی کے بغیر کیسے روک سکتے ہیں؟ کیسے اسے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے ساتھ چلو، ہماری خوشیوں کا حصہ بنو؟ بھلا خوشیاں بھی کبھی کسی سے مانگ کر لی جا سکتی ہیں؟ شاید کبھی بھی نہیں۔ یہ تو نصیبوں سے ملتی ہیں۔ بچھڑنے والوں کو بچھڑنا ہی ہوتا ہے۔ آج نہیں تو کل سہی۔ جب بچھڑنے والوں کی لمبی فہرست بن گئی، ہر چاہنے والا توڑ کر چلا گیا، تب سمجھ آئی کہ اپنی خوشیاں لوگوں سے وابستہ نہ رکھو۔ انہیں خود سے وابستہ رکھو۔ اپنی ذات کو سمجھو۔ اسے دوسروں کی جھولی میں گرانا چھوڑ دو، ورنہ خالی ہاتھ رہ جاؤ گے۔ بعض دفعہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی سب سے پسندیدہ چیزوں اور لوگوں سے دور کر دیا کرتا ہے۔ مقصد آپ کا دل دکھانا نہیں ہوتا، دراصل آپ کا اس رب کے قریب ہونا مقصود ہوتا ہے۔ اگر کہیں محسوس ہو کہ آپ اکیلے ہو، تو مت بھولنا کہ آپ کم از کم اکیلے نہیں ہو۔ اللہ تعالیٰ کبھی بھی کسی کو اکیلا نہیں کرتا۔ دل کی گہرائیوں سے۔ آپ کی ماں آپ کی ایک پکار پر اتنا تڑپتی ہے، تو وہ کتنا پاس آتا ہوگا۔ کبھی امید نہیں کھونا۔ کبھی اداس نہیں ہونا، کیونکہ وہ کبھی امید توڑتا نہیں ہے۔ وہ دلوں کو جوڑنے والا ہے۔ وہ رحیم و غفور ہے۔ میرے پاس کچھ نہیں ہے اس رب کے سوا۔ مجھے نہیں پتا میرا مستقبل کیا اور کیسا ہوگا۔ میں کب کہاں ہوں گا، کن کے ساتھ ہوں گا۔ مجھے نہیں پتا۔ میں اندھیری وادی میں چل رہا ہوں۔ کالم: از خود گمنام لڑکا

column in urdu A Personal Journey

50% LikesVS
50% Dislikes

کالم ،میرا سفر ،گمنام لڑکا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں