امریکہ کی ہٹ دھرمی اور تنہا ایران. ( صدائے حق) . یوسف علی ناشاد
کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی پکار ہل من ناصر ینصرنا کی صدا آج بھی فضاؤں میں گونج رہی ہے کیا کوئی ہے جو میری مدد کرے کیا کوئی ہے جو ظلم اور جبر کے اس نظام کے خلاف کھڑا ہو یہ صرف کربلا کے میدان میں دی گئی ایک صدا نہیں تھی بلکہ قیامت تک آنے والے تمام حق پرستوں کے لیے ایک دائمی پیغام تھا جب یزید نے اسلام کے حقیقی چہرے کو مسخ کرکے ایک ایسا نظام نافذ کیا جو تعلیمات اسلام کے سراسر خلاف تھا تو نواسہ رسول امام حسین علیہ السلام کو اپنی شرعی اور انسانی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے میدان کربلا میں اترنا پڑایاد رکھنا چاہیے کہ ہر ظلم کے خلاف قیام کرنا حسینیت ہے اور ظالم کا ساتھ دینا یزیدیت ہے پیغام کربلا کسی ایک زمانے یا ایک خطے تک محدود نہیں بلکہ یہ ہر دور کے انسان کے لیے ظلم کے خلاف ایک ابدی منشور ہے تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں کربلا برپا ہوتی رہی ہے البتہ سازوسامان اور تباہی کے اعتبار سے موجودہ دور کی کربلا کہیں زیادہ خطرناک ہے کیونکہ یہ ایٹمی دور ہے اور آج دنیا کے کسی بھی کونے میں جنگ چھڑ جائے تو اس کے اثرات پوری انسانیت پر مرتب ہوتے ہیں
موجودہ دور میں پوری دنیا کے سامنے دو بڑے دجال دو بڑے یزید اور دو بڑے دہشت گرد موجود ہیں جنہیں امریکہ اور اسرائیل کے نام سے جانا جاتا ہے یہ صرف مسلمانوں کے دشمن نہیں بلکہ پوری انسانیت کے دشمن ہیں یہ اپنی اجارہ داری اور عالمی تسلط کے لیے کسی بھی ملک پر جنگ مسلط کرسکتے ہیں لاکھوں انسانوں کی جان لے سکتے ہیں اور پوری دنیا کے امن کو تباہ کرسکتے ہیں گزشتہ دنوں ایران اسرائیل اور امریکہ کے درمیان شروع ہونے والی جنگ میں پہل اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے کی گئی جس کے نتیجے میں سینکڑوں معصوم بچے شہید ہوئے تعلیمی ادارے تباہ ہوئے اور ایران کی اہم شخصیات کو نشانہ بنایا گیا اس جنگ میں رہبر معظم امام خامنہ ای کی شہادت نے ایرانی قوم کو شدید صدمے سے دوچار کردیا اور دنیا بھر کے باضمیر انسان اس سانحے پر غمزدہ دکھائی دیےدوسری جانب اسرائیل مسلسل غزہ کے نہتے اور بھوکے عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑتا رہا عورتوں بچوں اور بوڑھوں کا قتل عام ان کے لیے ایک معمولی بات بن چکی ہے امریکی صدر ٹرمپ متعدد بار کھلے الفاظ میں اسلام دشمنی کا اظہار کرچکے ہیں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ پیغمبروں کو ماننے والوں کو نہیں چھوڑا جائے گا مگر افسوس کہ ایران کے علاوہ بیشتر مسلم ممالک کے ضمیر پر اس کا کوئی اثر نہ ہوامسلمانوں کی یہی بے حسی دراصل امریکہ اور اسرائیل کی طاقت کا سبب بنی ہوئی ہے کئی سال قبل امریکہ نے عالمی میڈیا کے سامنے اعلان کیا تھا کہ ہمارا اصل دشمن ایران ہے حالانکہ اس وقت ایران کے ساتھ کوئی جنگ نہیں تھی اس کے باوجود پینتالیس برس تک ایران پر معاشی پابندیاں عائد رکھی گئیں جس کے نتیجے میں ایران کی معیشت اور ترقی بری طرح متاثر ہوئی
حالیہ جنگ میں بھی بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی جس کے بعد کئی ممالک نے جنگ بندی کی کوششیں شروع کیں پاکستان نے بھی اس سلسلے میں اہم کردار اداکیاسوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ایران اور امریکہ کے وفود کے ساتھ پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے بھی سفارتی کردار ادا کیا اور متعدد شرائط کے بعد جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے گئے جس سے پوری دنیا نے سکھ کا سانس لیا اور امید پیدا ہوئی کہ اب شاید خطے میں امن قائم ہوجائے گا
جنگ بندی کے بعد ایران نے اپنے رہبر معظم کی تدفین کا فیصلہ کیا دنیا بھر سے وفود ایران پہنچے پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے بھی شرکت کی اور ایک تاریخی اجتماع منعقد ہوا جس میں دو سے ڈھائی کروڑ افراد نے شرکت کی ایسا عظیم اجتماع تاریخ میں کم ہی دیکھنے میں آیا ہے اس کے بعد رہبر معظم کے جسد خاکی کو نجف اور کربلا لے جایا گیا جہاں لاکھوں عاشقان نے اپنے رہبر کو خراج عقیدت پیش کیا
ایسے غم کے ماحول میں جب پوری ایرانی قوم اپنے رہبر کی جدائی پر سوگوار تھی شیطان بزرگ امریکہ نے امن معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اچانک دوبارہ ایران پر حملہ کردیا جس کے جواب میں ایران نے امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا اور جوابی کارروائی کرتے ہوئے کئی اہم تنصیبات پر حملے کیے امریکہ اور اسرائیل مل کر ایران پر حملہ آور ہیں اور ایران تنہا دور جدید کی کربلا میں کئی یزیدوں کے مقابل کھڑا ہے
ٹرمپ نے معاہدے کی خلاف ورزی کرکے نہ صرف ہٹ دھرمی بلکہ عالمی قوانین کی بھی کھلی خلاف ورزی کی ہے اگر مسلم دنیا اپنا دینی اور اخلاقی فریضہ ادا کرتی تو آج اسلام اور انسانیت کے دشمنوں کو اس قدر جرات نہ ہوتی مگر افسوس کہ بہت سے مسلمان تماشائی بنے بیٹھے ہیں بلکہ بعض نے امریکہ کو اپنے اڈے فراہم کرکے ان قوتوں کی مدد کی جو مسلمانوں کے خلاف برسرپیکار ہیں آخر یہ بے حسی کب تک جاری رہے گی امریکہ کسی کو چھوڑنے والا نہیں آج ایران نشانے پر ہے کل کوئی اور ہوگا اگر مسلمان متحد ہوجائیں تو یہ دونوں دہشت گردطاقتیں ہمیشہ کے لیے شکست کھا سکتی ہیں موجودہ جنگ گزشتہ تمام جنگوں سے زیادہ خطرناک ہے اگر اسے نہ روکا گیا تو یہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے اور ایک عالمی جنگ کی صورت اختیار کرسکتی ہےایرانی قوم شہادت کے لیے پہلے سے تیار ہے وہاں بچے نوجوان اور ضعیف سب اپنے وطن اور اپنے عقیدے کے دفاع کے لیے میدان میں اترنے کو تیار ہیں اے توحید کے ماننے والو اے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتیو اے مسلم حکمرانو اور مذہبی رہنماؤ تم کس منہ سے اپنے نبی کے سامنے حاضر ہوگے اگر تم نے ظلم کے خلاف آواز بلند نہ کی سپر پاور نہ امریکہ ہے نہ کوئی اور طاقت بلکہ سپر پاور صرف اللہ کی ذات ہے اور ایران نے اپنے استقامت اور جرأت سے یہ ثابت کیا ہے اگر مسلم دنیا تھوڑی سی غیرت اور اتحاد کا مظاہرہ کرے تو اللہ کے یہ سپاہی ان دجالوں کو عبرت کا نشان بنا سکتے ہیں اے مسلمان بھائیو کلمہ کی لاج رکھو اذان کی حرمت کا خیال کرو اپنے نبی کے امتی ہونے کا حق ادا کرو ایران تو آخری دم تک مقابلہ کرتا رہے گا خواہ اس کی پوری قوم شہادت کا جام پی لے مگر جب تمہاری باری آئے گی تو تم کیا کرو گے کیا تم امریکی نظام کے سامنے سر جھکا دو گے یا ایک غیرت مند مسلمان کی طرح ظلم کے خلاف کھڑے ہوگےمیں دنیا بھر کے مسلمانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ خود کو مسلمان ہونے کا عملی ثبوت دو اگر ایسی صورتحال صحابہ کرام کے دور میں پیش آتی تو کیا وہ خاموش رہتے یا ظلم کے خلاف قیام کرتے اپنے دلوں سے ان دجالوں کا خوف اس طرح نکال دو جس طرح ایران نے نکال دیا ہےہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان تمام مسلمانوں کو ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کی توفیق عطا فرمائے اللہ ایران کو فتح استقامت اور کامیابی عطا فرمائے اور پوری امت مسلمہ کو اتحاد و یکجہتی کی نعمت سے سرفراز فرمائے آمین۔
column in urdu America’s Stubbornness and a Lone Iran: A Critical Analysis




