زمین کی خوبصورتی کیسے کم ہو رہی ہے؟ صنف: فکری کالم . بتول فاطمہ
زمین صرف مٹی، پہاڑوں، دریاؤں اور سمندروں کا نام نہیں، بلکہ یہ ہماری زندگی کا وہ خوبصورت گھر ہے جس میں انسان، جانور، پرندے اور بے شمار جاندار نسلوں سے آباد ہیں۔ کبھی یہی زمین اپنی ہریالی، صاف پانی، نیلے آسمان، گھنے جنگلات اور پرندوں کی چہچہاہٹ سے انسان کے دل کو سکون بخشتی تھی، مگر آج ترقی کی دوڑ میں ہم اسی خوبصورتی کو آہستہ آہستہ اپنے ہاتھوں سے برباد کر رہے ہیں۔
جنگلات زمین کے پھیپھڑے ہیں جو اسے آکسیجن فراہم کرتے ہیں۔ جب ہم ہاؤسنگ سوسائٹیز، سڑکوں اور فیکٹریوں کے لیے درختوں اور جنگلات کو کاٹتے ہیں تو زمین کا ہرا رنگ پھیکا پڑنے لگتا ہے۔ درخت صرف ہمیں سایہ نہیں دیتے بلکہ ہوا کو صاف کرتے، درجہ حرارت کو متوازن رکھتے اور بے شمار پرندوں و جانوروں کو گھر فراہم کرتے ہیں۔ جب جنگلات ختم ہوتے ہیں تو صرف درخت نہیں کٹتے، بلکہ ایک پوری دنیا اجڑ جاتی ہے۔
کبھی صبح سویرے پرندوں کی چہچہاہٹ سے آنکھ کھلتی تھی۔ درختوں پر بیٹھے پرندے اپنی سریلی آوازوں سے فضا کو زندہ رکھتے تھے، لیکن آج بڑے شہروں میں پرندوں کی آوازیں شور، ٹریفک اور مشینوں کے شور میں دب گئی ہیں۔ قدرتی مسکن ختم ہونے کے باعث بہت سے پرندے اور جانور نقل مکانی پر مجبور ہیں، جبکہ بعض نایاب انواع معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ہم نے اپنے آرام اور تعمیرات کے لیے ان مخلوقات سے ان کا گھر چھین لیا ہے۔
کبھی دریاؤں اور ندی نالوں کا پانی اتنا شفاف ہوتا تھا کہ اس کے نیچے موجود ریت اور تیرتی ہوئی مچھلیاں صاف دکھائی دیتی تھیں۔ آج پلاسٹک کے کچرے، صنعتی فضلے، کیمیکلز اور گندے نالوں نے پانی کے ان قدرتی ذخائر کو آلودہ کر دیا ہے۔ یہی پانی جب آبی مخلوقات کے لیے زہر بن جائے تو ان کی زندگی بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جس پانی کے بغیر انسان چند دن بھی زندہ نہیں رہ سکتا، ہم اسی پانی کو آلودہ کرنے میں ذرا بھی نہیں جھجکتے۔
صاف اور نیلا آسمان بھی اب کئی شہروں میں دھوئیں اور سموگ کے پردے میں چھپ جاتا ہے۔ گاڑیوں کا دھواں، فیکٹریوں کا اخراج اور ایندھن کا بے دریغ استعمال فضا کو آلودہ کر رہا ہے۔ وہ ہوا جو کبھی انسان کو تازگی بخشتی تھی، آج آلودگی اپنے ساتھ لے کر آتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم نے ترقی تو حاصل کر لی، مگر اس ترقی کی قیمت اپنی صحت اور قدرتی ماحول سے ادا کر رہے ہیں۔
سچی بات تو یہ ہے کہ ہم نے ترقی کی دوڑ میں زمین کو مٹیریل سے تو سجا لیا، لیکن اس کا قدرتی زیور، یعنی اس کا حسن اور زندگی، چھین لیا۔
زمین کی خوبصورتی واپس کیسے لائی جائے؟
یہ سوال صرف حکومتوں سے نہیں بلکہ ہم سب سے ہے۔ اگر ہر انسان اپنی زندگی میں کم از کم پانچ درخت لگائے اور ان کی مناسب پرورش کرے تو چند برسوں میں ہماری بستیاں دوبارہ ہری بھری ہو سکتی ہیں۔ درخت لگانا کافی نہیں، انہیں زندہ رکھنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔
پلاسٹک ہماری زمین اور پانی کا بڑا دشمن ہے۔ ہمیں ایک بار استعمال ہونے والے پلاسٹک کو کم کرنا ہوگا اور کپڑے یا دوبارہ استعمال ہونے والے تھیلوں کو عام کرنا ہوگا۔ گھروں اور بازاروں کا کچرا سڑکوں، ندیوں اور دریاؤں میں پھینکنے کے بجائے مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانا بھی ضروری ہے۔
فیکٹریوں کے فضلے کو براہِ راست دریاؤں میں پھینکنے پر سخت پابندی ہونی چاہیے اور صنعتی اداروں میں پانی صاف کرنے والے پلانٹس لازمی ہونے چاہئیں۔ اسی طرح کوئلے اور پٹرول پر انحصار کم کرکے شمسی اور ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی کے استعمال کو فروغ دینا چاہیے تاکہ فضا کو آلودگی سے بچایا جا سکے۔
زمین ہمیں ہمارے آباؤ اجداد سے ورثے میں نہیں ملی، بلکہ ہم نے اسے آنے والی نسلوں سے ادھار لیا ہے۔ اگر ہم نے آج اپنی ذمہ داری محسوس نہ کی تو آنے والی نسلیں صاف ہوا، شفاف پانی، گھنے جنگلات اور پرندوں کی وہ دنیا شاید صرف کتابوں میں دیکھ سکیں گی۔
ہم سب مل کر ہی اس خوبصورت سیارے کو بچا سکتے ہیں، کیونکہ زمین صرف ہمارا گھر نہیں، ہماری زندگی ہے۔ اگر زمین محفوظ ہے تو ہمارا مستقبل محفوظ ہے، اور اگر ہم نے اسے برباد کر دیا تو اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ہم صرف ایک خوبصورت دنیا کی یاد چھوڑ جائیں گے۔
خبر سے آگے کی حقیقت . سلیم خان ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
فریاد کرے تو کس سے کرے. آمینہ یونس، بلتستانی
Beauty of the Earth Fading Away




