معاشرے کے اندر ہمیشہ غلط مرد ہی کیوں؟ شبیر حسین کمال
ہمارے معاشرے میں ایک عجیب رویہ عام ہوتا جا رہا ہے کہ جب بھی کسی گھر، خاندان یا معاشرے میں کوئی غلط واقعہ پیش آتا ہے تو سب سے پہلے انگلی مرد کی طرف اٹھائی جاتی ہے۔ اگر شوہر اور بیوی کے درمیان اختلاف ہو تو کہا جاتا ہے کہ مرد ہی ظالم ہوگا، اگر کسی رشتے میں تلخی ہو تو فوراً مرد کو قصوروار قرار دے دیا جاتا ہے، اور اگر کوئی تعلق خراب ہو جائے تو یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ غلطی بھی مرد ہی کی ہوگی۔ سوال یہ ہے کہ کیا معاشرے میں ہمیشہ غلط مرد ہی ہوتا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ غلطی کا تعلق جنس سے نہیں بلکہ کردار سے ہوتا ہے۔ جس طرح ایک مرد غلط ہو سکتا ہے، اسی طرح ایک عورت بھی غلطی کر سکتی ہے۔ انسان ہونے کی حیثیت سے ہر شخص میں اچھائی اور برائی دونوں کا امکان موجود ہے۔ کسی کو صرف مرد ہونے کی وجہ سے مجرم اور کسی کو صرف عورت ہونے کی وجہ سے مظلوم سمجھ لینا انصاف نہیں۔
ہمارے معاشرے میں بعض اوقات عورت کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے، اسے ظلم کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس کے حقوق دبائے جاتے ہیں اور اس کی آواز نہیں سنی جاتی۔ ایسے معاملات میں مرد کی غلطی کو غلط کہنا ضروری ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ جہاں عورت غلط ہو، وہاں اس کی غلطی کو بھی غلط کہا جائے۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ہم شخصیات نہیں بلکہ عمل اور کردار کو دیکھیں۔کبھی ایک شوہر اپنی بیوی کے ساتھ زیادتی کرتا ہے، لیکن کبھی بیوی بھی شوہر کی عزت، جذبات یا حقوق کو نظر انداز کرتی ہے۔ کبھی باپ اولاد پر سختی کرتا ہے، مگر کبھی اولاد بھی والدین کی نافرمانی اور بے ادبی کرتی ہے۔ کبھی بھائی بہن کے حق پر قبضہ کرتا ہے، مگر کبھی بہن بھائی کے ساتھ ناانصافی کرتی ہے۔ اسی طرح دفتر، کاروبار، دوستی اور رشتوں میں بھی غلطی کسی ایک جنس کی میراث نہیں۔
ہمیں یہ سوچ بدلنے کی ضرورت ہے کہ مرد ہونا ظلم کی علامت اور عورت ہونا معصومیت کی ضمانت ہے۔ دونوں تصورات غلط ہیں۔ اچھا مرد وہ ہے جو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے، دوسروں کے حقوق ادا کرتا ہے، اپنی طاقت کا غلط استعمال نہیں کرتا اور کمزور کے ساتھ رحم و انصاف سے پیش آتا ہے۔ اسی طرح اچھی عورت وہ ہے جو اپنے کردار، زبان، رویے اور ذمہ داریوں کا خیال رکھتی ہے اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرتی ہے۔معاشرے کی اصلاح اس وقت ممکن ہوگی جب ہم الزام تراشی کے بجائے انصاف کو اختیار کریں گے۔ اگر ایک مرد غلط ہے تو اسے مرد ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ غلط کام کرنے کی وجہ سے غلط کہیں۔ اور اگر ایک عورت غلط ہے تو اسے عورت ہونے کی وجہ سے معاف نہ کریں، بلکہ اس کی غلطی کو بھی اسی معیار پر پرکھیں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ہم ہر گھریلو اختلاف کو فوراً ظلم کا نام نہ دیں۔ بعض اوقات میاں بیوی کے درمیان معمولی اختلافات ہوتے ہیں، جنہیں بات چیت، برداشت اور سمجھ داری سے حل کیا جا سکتا ہے۔ ہر اختلاف میں ایک فریق کو فرشتہ اور دوسرے کو شیطان بنا دینا مسئلے کو حل نہیں کرتا بلکہ مزید بڑھا دیتا ہے۔
ہمیں اپنے بچوں کو بھی یہی تعلیم دینی چاہیے کہ عزت، انصاف، وفاداری، سچائی اور ذمہ داری صرف مرد یا عورت کے لیے مخصوص صفات نہیں۔ یہ ہر انسان کی ذمہ داری ہیں۔ جس معاشرے میں مرد اور عورت دونوں اپنے کردار کا احتساب کریں گے، وہاں رشتے مضبوط ہوں گے اور نفرتیں کم ہوں گی۔
آخر میں ہمیں خود سے یہ سوال کرنا چاہیے: کیا ہم واقعی انصاف چاہتے ہیں یا صرف اپنی پسند کے شخص کو درست ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ اگر ہمیں انصاف چاہیے تو پھر معیار ایک ہونا چاہیے۔ غلطی مرد کرے یا عورت، غلطی کو غلط کہنا چاہیے؛ ظلم مرد کرے یا عورت، ظلم کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے؛ اور اچھائی مرد کرے یا عورت، اس کی قدر کرنی چاہیے۔
معاشرہ تب ہی بہتر ہوگا جب ہم یہ کہنا چھوڑ دیں گے کہ “ہمیشہ مرد ہی غلط ہوتا ہے” اور اس کے بجائے کہیں گے غلط وہ ہے جو غلط کرتا ہے، چاہے وہ مرد ہو یا عورت؛ اور درست وہ ہے جو حق، انصاف اور اخلاق کا ساتھ دے، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔”
خبر سے آگے کی حقیقت . سلیم خان ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
فریاد کرے تو کس سے کرے. آمینہ یونس، بلتستانی
Always Seen as the Wrongdoers in Society




