Afsana The Two of Us 0

افسانہ . ہم دونوں ہیں آمینہ یونس ،بلتستانی
آسیہ کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ اس کی نظریں ہسپتال کے ایمرجنسی کے دروازے پر جمی ہوئی تھیں۔ اس نے ایک لمحے کے لیے بھی پلک نہ جھپکی۔ اسے ڈر تھا کہ اگر اس نے آنکھ جھپکی تو نہ جانے کیا ہو جائے۔ ایمرجنسی کے سامنے سے لوگوں کا ہجوم گزر رہا تھا، سب اپنی اپنی بولی بول رہے تھے، مگر آسیہ کو ان سب سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے اس کے کان سن ہونا گئے ہوں اور اسے کچھ سنائی نہ دے رہا ہو۔ اسی اثنا میں کئی لوگ آ کر اس کے دائیں بائیں بیٹھ گئے اور اس سے پوچھنے لگے: “انہیں کیا ہوا ہے؟” “یہ سب کیسے ہوا؟” “تم نے ہمیں بتایا کیوں نہیں؟” پھر بھی آسیہ کے انداز میں کوئی جنبش نہ ہوئی۔ تب بھائی پریشان ہو کر اسے اپنے قریب لے آئے اور آہستہ سے اس کے کندھے پر تھپکی دینے لگے۔ آسیہ نے آنکھیں بند کر لیں اور اندر کا غبار آنسوؤں کی صورت بھائی کا دامن بھگونے لگا۔ سب خاموشی سے اسے دیکھ رہے تھے۔ اچانک ایمرجنسی کا دروازہ کھلا اور سفید کوٹ میں ملبوس نرس باہر آئی۔ “افتخار احمد کے ساتھ کون ہے؟” یہ سنتے ہی آسیہ ایک جھٹکے سے اٹھی۔ “جی… جی… میں ہوں… کیا انہیں ہوش آ گیا ہے؟” نرس نے جواب دیا: “جی، مریض کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔ وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔” آسیہ تیر کی طرح اندر گئی۔ ڈاکٹر نے کہا: “آپ زیادہ بات نہ کیجیے گا۔” یہ کہہ کر ڈاکٹر نرس کو ہدایات دیتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔ وہ افتخار کے بیڈ کے پاس دو زانو بیٹھ گئی اور قطرہ قطرہ آنسو بہاتے انہیں دیکھنے لگی۔ افتخار احمد نے آہستہ سے آنکھیں کھول کر آسیہ کو دیکھا اور مسکرانے کی کوشش کی۔ آسیہ نے دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا کہ افتخار زندہ ہیں۔ جب افتخار احمد کو کمرے میں منتقل کیا گیا تو ایک بار پھر آسیہ سوالوں کی زد میں آ گئی۔ یہ دیکھ کر افتخار کچھ کہنا چاہتے تھے مگر درد نے انہیں خاموش رکھا۔ تبھی آسیہ نے سر جھکا لیا اور مجرم کی طرح بولنے لگی: “افتخار کی اس حالت کی ذمہ دار میں ہوں۔” بڑے بھائی نے حیرت سے بہن کو دیکھا تو وہ ہاتھ مروڑتے ہوئے نظریں جھکا گئی۔ “کئی دنوں سے میں نیٹ پر سونے کی انگوٹھیاں دیکھ رہی تھی۔ وہ بہت خوبصورت تھیں اور میرا دل بھی مچل اٹھا کہ میں بھی ایک انگوٹھی لوں۔ جب میں نے یہ بات افتخار سے کہی تو انہوں نے کہا کہ ابھی ممکن نہیں۔ ان کی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ میں چیخ پڑی۔ ابھی نہیں تو کب؟ کیا ساری زندگی میں اسی طرح حسرت کرتی رہوں گی؟ تم نے مجھے دیا ہی کیا ہے؟” میں اپنے ہوش میں نہیں تھی اور افتخار خاموشی سے مجھے دیکھ رہے تھے۔ پھر افتخار نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا: “میری طرف دیکھو۔ جتنی میری تنخواہ ہے، میں کوشش کرتا ہوں کہ زیادہ نہیں تو تم لوگوں کی چھوٹی چھوٹی خواہشیں پوری کر سکوں۔ بچوں کی فیس، گھر کی قسط اور مہینے بھر کے خرچے نکالنے کے بعد میرے پاس کیا بچتا ہے، یہ تم بھی جانتی ہو۔ اور روز بہ روز بڑھتی مہنگائی… میں ابھی تمہیں سونے کی انگوٹھی نہیں دلا سکتا۔ ہاں، میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ جب گھر کی قسطیں مکمل ہو جائیں گی تو تم اپنی خواہش پوری کر لینا۔” میں نے افتخار کا ہاتھ جھٹک دیا اور روتے ہوئے کمرے میں جا کر بند ہو گئی۔ بچے باہر سے دروازہ پیٹ پیٹ کر تھک گئے مگر میں نے دروازہ نہ کھولا۔ افتخار الگ منت سماجت کر رہے تھے مگر میرے ذہن پر تو سونے کی وہ چمک سوار تھی جس کے آگے میں رشتوں کی اہمیت بھولنے لگی تھی۔ شوہر کی محبت، دن رات کی محنت، گھر کے لیے کی گئی جدوجہد اور میری خواہش پر خریدا گیا وہ خوبصورت گھر، سب میرے ذہن سے محو ہو چکا تھا۔ جب بہت دیر تک میں نے دروازہ نہ کھولا تو مجھے افتخار کی آواز آئی: “آسیہ، دروازہ کھولو۔ ابھی میرے پاس پیسے نہیں ہیں، میں کسی دوست سے ادھار لے آتا ہوں۔ تم باہر آ جانا، دعا کرنا مجھے پیسے مل جائیں، میں جا رہا ہوں۔” پھر رات گئے ہسپتال سے فون آیا اور کہا گیا: “آپ جلدی ہسپتال پہنچیں، افتخار احمد کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے اور وہ شدید زخمی ہیں۔” یہ کہتے کہتے آسیہ سسکنے لگی۔ بھائی نے آہستہ سے کہا: “یہ سوشل میڈیا بھی گھروں کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ میں تمہیں عقل مند سمجھتا تھا۔ عورت کا اصل زیور اس کا شوہر اور اس کے بچے ہوتے ہیں، مگر تم بھی وہی نکلی جو مادی چیزوں کے لیے گھر، بچے اور محبت کو داؤ پر لگا دیتی ہے۔ مجھے تم سے بہت افسوس ہوا، آسیہ۔” آسیہ نے بھائی کا ہاتھ تھاما، سب کی طرف دیکھا اور ندامت بھرے لہجے میں کہا: “میں غلط تھی بھیا۔ سونے کے بغیر زندگی گزاری جا سکتی ہے مگر رشتوں کے بغیر نہیں۔ یہ بات مجھے افتخار کو موت کے منہ میں دیکھ کر سمجھ آئی کہ میں اپنی ضد میں ایسی چیز کے پیچھے بھاگ رہی تھی جو زندگی کی ضرورت بھی نہیں تھی اور اپنی خوشیوں کو خود مٹانے چلی تھی۔ اللہ نے مجھ جیسی گناہ گار پر کرم کیا۔” اتنے میں افتخار کراہنے لگے تو وہ فوراً ان کے سرہانے آ گئی۔ افتخار نے اس کا ہاتھ تھاما اور محبت سے کہا: “جو کچھ ہوا اسے بھول جاؤ۔ وہ ماضی تھا۔ حال میں جیو، جہاں ہمارے بچوں کی ہنسی ہے… اور ہم دونوں ہیں۔” یہ کہہ کر انہوں نے آسیہ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔
Afsana: The Two of Us

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!
50% LikesVS
50% Dislikes

افسانہ . ہم دونوں ہیں آمینہ یونس ،بلتستانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں