urdu news update When Dreams Depart

” جب خواب ہجرت کر جاتے ہیں” تنویر حسین
صبح کا وقت تھا۔ ایک ماں نے ناشتے کی میز پر بیٹے کی پسندیدہ چائے رکھی، مگر کپ ٹھنڈا ہوتا گیا۔ بیٹا اب اس گھر میں نہیں تھا۔ وہ ہزاروں میل دور ایک اجنبی سرزمین پر اپنے خوابوں کی قیمت وصول کرنے گیا تھا؛ وہ خواب جنہیں اس کے والدین نے اپنی خواہشوں کا گلا گھونٹ کر پروان چڑھایا تھا۔ یہ صرف ایک گھر کی کہانی نہیں، بلکہ آج کے پاکستان کے ہزاروں گھروں کی خاموش داستان ہے۔
ایک زمانہ تھا جب والدین اپنے بچوں کو یہ کہہ کر تعلیم دلواتے تھے کہ “پڑھو، یہی تمہارا مستقبل ہے۔” آج بھی وہی والدین اپنی جمع پونجی، زیورات، زمینیں اور عمر بھر کی کمائی بچوں کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں۔ سرکاری جامعات میں محدود نشستیں اور نجی اداروں کی بھاری فیسیں اس خواب کو اور مہنگا بنا دیتی ہیں۔ لیکن جب ڈگری ہاتھ میں آتی ہے تو نوجوان کے سامنے روزگار کے دروازے بند ملتے ہیں۔
یہ المیہ صرف بے روزگاری کا نہیں، قومی ترجیحات کا بھی ہے۔ تعلیم اور صحت کسی بھی مہذب ریاست کی بنیاد ہوتے ہیں۔ یہی دو شعبے قوم کے فکری اور جسمانی مستقبل کی ضمانت بنتے ہیں۔ لیکن اگر انہی شعبوں میں نئی آسامیوں کے بجائے اداروں کو محدود، ضم یا ختم کیا جائے، مستقل ملازمتوں کی جگہ عارضی بندوبست کو ترجیح دی جائے اور بھرتیوں کا عمل برسوں تعطل کا شکار رہے، تو اس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ نوجوان اپنے وطن سے محبت کے باوجود مجبور ہو کر ہجرت کرتا ہے۔ وہ صرف ایک مسافر نہیں بنتا بلکہ اپنے بوڑھے والدین کی دعاؤں، اپنے بچوں کی مسکراہٹوں اور اپنے رشتوں کی حرارت سے بھی دور ہو جاتا ہے۔ ہوائی اڈوں پر رخصت ہوتے چہروں کی نمی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ اکثر یہ سفر شوق کا نہیں، مجبوری کا ہوتا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک انہی پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں کو کھلے دل سے قبول کرتے ہیں۔ ہمارے ڈاکٹر وہاں کے اسپتالوں کی شان بنتے ہیں، ہمارے اساتذہ غیر ملکی جامعات میں علم بانٹتے ہیں، ہمارے انجینئر اور آئی ٹی ماہرین عالمی اداروں کی کامیابی میں حصہ ڈالتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو صلاحیت دنیا کے لیے قیمتی ہے، وہ اپنے وطن میں بوجھ کیوں محسوس کی جاتی ہے؟
نجی شعبے کا فروغ اپنی جگہ قابلِ قبول ہو سکتا ہے، مگر ریاست اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے دستبردار نہیں ہو سکتی۔ اگر تعلیم اور صحت میں نجکاری کی طرف پیش رفت کی جا رہی ہے تو اس کے ساتھ نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع، شفاف بھرتیاں، تحقیق کے مراکز اور پیشہ ورانہ ترقی کے راستے بھی کھولنا ناگزیر ہیں۔ نجکاری کا مقصد ریاستی ذمہ داریوں سے فرار نہیں بلکہ عوامی خدمت کے معیار کو بہتر بنانا ہونا چاہیے۔
قومیں اپنے نوجوانوں سے صرف محنت نہیں لیتیں، انہیں اعتماد بھی دیتی ہیں۔ جب نوجوان کو یقین ہو کہ اس کی قابلیت کی قدر ہوگی، تو وہ اپنی توانائی اسی سرزمین کی تعمیر میں صرف کرتا ہے۔ لیکن جب اسے برسوں انتظار، غیر یقینی اور مایوسی کے سوا کچھ نہ ملے تو ہجرت ایک انتخاب نہیں، ایک ناگزیر راستہ بن جاتی ہے۔
پاکستان کو سڑکوں، پلوں اور عمارتوں کے ساتھ ساتھ انسانی سرمایہ بھی بچانا ہوگا۔ ایک ایسا نظام تشکیل دینا ہوگا جہاں ڈگری صرف دیوار کی زینت نہ بنے بلکہ باعزت روزگار کا وسیلہ بھی ہو۔ جہاں استاد کو عزت، ڈاکٹر کو مواقع اور محقق کو تحقیق کا ماحول میسر ہو۔ جہاں نوجوان اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے سرحد پار جانے پر مجبور نہ ہو۔
تاریخ گواہ ہے کہ قومیں اس وقت کمزور نہیں ہوتیں جب ان کے وسائل کم ہو جائیں، بلکہ اس وقت کمزور ہوتی ہیں جب ان کے ذہین لوگ امید کھو بیٹھیں۔ پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ اس کی نوجوان نسل ہے۔ اگر یہی سرمایہ خاموشی سے دوسرے ملکوں کی ترقی میں صرف ہوتا رہا تو خسارہ صرف معیشت کا نہیں، قوم کے مستقبل کا ہوگا۔
اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو اعداد و شمار نہیں، انسان سمجھیں؛ انہیں بوجھ نہیں، مستقبل مانیں۔ ریاست کی ذمہ داری صرف ڈگریاں دینے تک محدود نہیں، بلکہ ایسے مواقع پیدا کرنا بھی ہے جہاں ہر اہل نوجوان اپنے وطن میں عزت، روزگار اور امید کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ کیونکہ جب خواب اپنے ہی وطن میں زندہ رہتے ہیں تو قومیں بھی زندہ رہتی ہیں، لیکن جب خواب ہجرت کر جائیں تو صرف لوگ نہیں جاتے، قوموں کا مستقبل بھی ان کے ساتھ رخصت ہونے لگتا ہے۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

urdu news update When Dreams Depart

50% LikesVS
50% Dislikes

” جب خواب ہجرت کر جاتے ہیں” تنویر حسین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں