urdu news gilgit-baltistan-traffic-accidents-safety-rules 0

ٹریفک حادثات کی بڑھتی ہوئی شرح اور حفاظتی اقدامات . یاسر دانیال صابری
گلگت بلتستان اپنی قدرتی خوبصورتی، بلند و بالا پہاڑوں، حسین وادیوں اور سیاحتی مقامات کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے، لیکن بدقسمتی سے یہاں کے عوام ایک ایسے مسئلے سے بھی دوچار ہیں جو ہر سال درجنوں خاندانوں کو غم اور اندوہ میں مبتلا کر دیتا ہے۔ یہ مسئلہ ٹریفک حادثات کا ہے۔ آئے روز کسی نہ کسی مقام پر حادثات کی خبریں سننے کو ملتی ہیں جن میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ کئی گھرانوں کے چراغ بجھ جاتے ہیں، کئی بچے یتیم اور کئی والدین اپنے جوان بیٹوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

حال ہی میں ہیزل کے مقام پر پیش آنے والا افسوسناک واقعہ پورے گلگت بلتستان کے لیے ایک المناک سانحہ تھا، جہاں ایک جوان باپ اور اس کا بیٹا حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ ایسے واقعات صرف ایک خاندان کا نقصان نہیں ہوتے بلکہ پورا معاشرہ اس دکھ کو محسوس کرتا ہے۔

گلگت بلتستان کے بیشتر علاقوں میں سڑکیں انتہائی دشوار گزار ہیں۔ کہیں تیز موڑ ہیں، کہیں کھائیاں ہیں اور کہیں سڑک کے کنارے حفاظتی انتظامات موجود نہیں۔ سڑکوں کے کناروں پر جو لوہے کی حفاظتی رکاوٹیں یا دیواریں نصب کی جاتی ہیں انہیں گارڈ ریل (Guard Rail) یا حفاظتی بیریئر کہا جاتا ہے۔ ان کا مقصد گاڑیوں کو گہری کھائیوں میں گرنے سے بچانا ہوتا ہے، لیکن بدقسمتی سے گلگت بلتستان کے بیشتر خطرناک مقامات پر یہ حفاظتی گارڈ ریل موجود نہیں ہیں۔

بہت سے حادثات صرف اس وجہ سے رونما ہوتے ہیں کہ گاڑی بے قابو ہونے کے بعد سیدھی کھائی میں جا گرتی ہے۔ اگر ان مقامات پر مضبوط حفاظتی دیواریں، گارڈ ریل یا پروٹیکٹو وال موجود ہوں تو حادثات کی شدت کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

گلگت بلتستان میں حادثات کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ تیز رفتاری ہے۔ بعض ڈرائیور مقررہ رفتار کی پابندی نہیں کرتے اور خطرناک موڑوں پر بھی تیز رفتاری سے گاڑی چلاتے ہیں۔ دوسری وجہ سڑکوں کی خراب حالت ہے۔ کئی رابطہ سڑکیں آج بھی کچی ہیں جبکہ بعض پکی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ تیسری وجہ گاڑیوں کی ناقص حالت ہے۔ بریک، ٹائر اور دیگر فنی خرابیاں بھی حادثات کا سبب بنتی ہیں۔

ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ٹریفک پولیس اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ گاڑیوں کی فٹنس چیک کریں، ڈرائیوروں کے لائسنسوں کی جانچ کریں اور غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کے خلاف کارروائی کریں۔ گاڑی مالکان کی بھی ذمہ داری ہے کہ طویل سفر سے پہلے اپنی گاڑیوں کی مکمل جانچ کروائیں تاکہ دوران سفر کسی قسم کی خرابی پیش نہ آئے۔

مسافروں اور ڈرائیوروں کو چاہیے کہ سفر سے پہلے موسم کی صورتحال، سڑک کی حالت اور راستے کی نوعیت سے آگاہی حاصل کریں۔ بارش، برفباری، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کے دوران غیر ضروری سفر سے اجتناب کرنا چاہیے۔

گزشتہ برس ایک سیاحتی گاڑی گہری کھائی میں جا گری۔ گاڑی دور ہونے اور موبائل سگنل نہ ہونے کی وجہ سے بروقت امداد نہ پہنچ سکی اور قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔ اگر وہاں حفاظتی گارڈ ریل موجود ہوتی یا ایمرجنسی سسٹم بہتر ہوتا تو شاید نقصان کم ہو سکتا تھا۔

شاہراہ قراقرم سمیت گلگت، راولپنڈی، چترال، غذر، استور اور دیگر علاقوں کی سڑکوں پر اکثر احتجاج، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کی وجہ سے آمدورفت متاثر ہوتی ہے۔ تتہ پانی اور دیگر مقامات پر گزشتہ برسوں میں سیلابی ریلوں نے سڑکوں کو شدید نقصان پہنچایا جس کی وجہ سے مسافروں کو کئی کئی دن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

وفاقی اور صوبائی اداروں خصوصاً وزارت مواصلات اور متعلقہ حکام کو چاہیے کہ تمام خطرناک مقامات کی نشاندہی کرکے وہاں مضبوط پروٹیکٹو وال، گارڈ ریل اور حفاظتی بیریئر نصب کریں۔ جہاں سڑک کے ساتھ گہری کھائیاں اور دریا موجود ہیں وہاں حفاظتی اقدامات فوری طور پر کیے جائیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا کے وہ ممالک جہاں ٹریفک قوانین سخت ہیں وہاں حادثات کی شرح نسبتاً کم ہے۔ قانون کی پابندی، رفتار کی حد، گاڑیوں کی جانچ اور ڈرائیوروں کی تربیت حادثات میں نمایاں کمی لا سکتی ہے۔

سیاحوں کو بھی چاہیے کہ وہ گلگت بلتستان کے پہاڑی راستوں کی نزاکت کو سمجھیں۔ بعض اوقات غیر مقامی ڈرائیور علاقے کی سڑکوں، خطرناک موڑوں اور موسمی حالات سے ناواقف ہوتے ہیں جس کی وجہ سے حادثات پیش آتے ہیں۔ پہاڑی علاقوں میں محتاط ڈرائیونگ اور ٹریفک قوانین کی پابندی انتہائی ضروری ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت، متعلقہ ادارے، ڈرائیور، گاڑی مالکان اور عوام سب مل کر اس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔ ایک حادثہ صرف ایک فرد کو نہیں بلکہ پورے خاندان کو متاثر کرتا ہے۔ کئی مائیں عمر بھر اپنے بیٹوں کا انتظار کرتی رہ جاتی ہیں اور کئی بچے اپنے والدین کے سائے سے محروم ہو جاتے ہیں۔

اگر سڑکوں کی تعمیر و مرمت، حفاظتی گارڈ ریل، سخت ٹریفک قوانین، گاڑیوں کی فٹنس اور ڈرائیوروں کی تربیت پر توجہ دی جائے تو یقیناً گلگت بلتستان میں ٹریفک حادثات کی شرح میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ انسانی جانوں کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، کیونکہ ایک جان کا نقصان پورے خاندان کی زندگی بدل دیتا ہے۔

گلگت بلتستان میں ٹریفک حادثات کی اہم وجوہات

تیز رفتاری (Overspeeding)
خطرناک پہاڑی اور تنگ سڑکیں
حفاظتی گارڈ ریل (Guard Rail) کا فقدان
خراب یا ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکیں
ڈرائیور کی غفلت یا لاپرواہی
دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال
نیند یا تھکاوٹ کی حالت میں ڈرائیونگ
غیر محفوظ اوور ٹیکنگ
گاڑیوں کی ناقص فٹنس
خراب بریک یا گھسے ہوئے ٹائر
بارش، برفباری، دھند اور لینڈ سلائیڈنگ
ٹریفک قوانین پر عمل نہ کرنا

گارڈ ریل (Guard Rail) کیوں ضروری ہیں؟

گلگت بلتستان کی اکثر سڑکیں گہری کھائیوں، دریاؤں اور خطرناک موڑوں کے ساتھ واقع ہیں۔ ایسے مقامات پر گارڈ ریل (Guard Rail) یا حفاظتی بیریئر نصب کرنے سے گاڑیوں کو کھائی میں گرنے سے بچایا جا سکتا ہے، جس سے حادثات کی شدت اور جانی نقصان میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔

محفوظ ڈرائیونگ کے بنیادی اصول

1۔ ہمیشہ سیٹ بیلٹ استعمال کریں

ڈرائیور اور تمام مسافروں کو سیٹ بیلٹ لازمی باندھنی چاہیے، جبکہ بچوں کے لیے چائلڈ سیفٹی سیٹ کا استعمال ضروری ہے۔

2۔ رفتار مقررہ حد میں رکھیں

پہاڑی علاقوں میں ہمیشہ محتاط رفتار سے گاڑی چلائیں، خاص طور پر خطرناک موڑوں، بارش یا برفباری کے دوران۔

3۔ دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون استعمال نہ کریں

ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون کا استعمال توجہ ہٹا دیتا ہے، جو حادثات کی بڑی وجہ بن سکتا ہے۔

4۔ گاڑی کی فٹنس چیک کریں

سفر سے پہلے درج ذیل چیزوں کی چیک ضرور کریں:

بریک
ٹائر
انجن آئل
ہیڈ لائٹس
بیک لائٹس
انڈیکیٹر
وائپر
کولنٹ
بیٹری
ہارن
لاین تبدیل کرنے کا درست طریقہ

لاین تبدیل کرتے وقت درج ذیل مراحل پر عمل کریں:

-ریئر ویو مرر (Rear View Mirror) دیکھیں۔
-متعلقہ سائیڈ مرر چیک کریں۔
-بلائنڈ اسپاٹ (Blind Spot) گردن گھما کر دیکھیں۔
-کم از کم تین سیکنڈ پہلے انڈیکیٹر دیں۔
-راستہ مکمل محفوظ ہونے پر ہی لین تبدیل کریں۔
-بلائنڈ اسپاٹ (Blind Spot) کیا ہے؟

بلائنڈ اسپاٹ گاڑی کے اطراف کا وہ حصہ ہوتا ہے جو آئینوں میں واضح نظر نہیں آتا۔ اسی لیے صرف مررز پر انحصار نہ کریں بلکہ لین تبدیل کرنے سے پہلے مختصر طور پر گردن موڑ کر بھی دیکھیں۔

اوور ٹیکنگ کے اہم اصول

صرف اس صورت میں اوور ٹیک کریں جب:

سامنے سے کوئی گاڑی نہ آ رہی ہو۔
سڑک واضح دکھائی دے رہی ہو۔
ڈبل مسلسل لائن نہ ہو۔
خطرناک موڑ یا پل نہ ہو۔
رفتار محفوظ ہو۔

ہرگز اوور ٹیک نہ کریں:

اندھے موڑ (Blind Turn) پر
چوراہے پر
پل پر
بارش یا دھند میں
ٹریفک سگنلز کا مطلب
ریڈ سگنل (Red Signal)
مکمل طور پر رک جائیں۔
زیبرا کراسنگ کا احترام کریں۔
پیدل چلنے والوں کو پہلے راستہ دیں۔
ریڈ سگنل توڑنا قانوناً جرم ہے۔
یلو سگنل (Yellow Signal)
رفتار کم کریں۔
رکنے کے لیے تیار ہو جائیں۔
سگنل عبور کرنے کے لیے رفتار ہرگز نہ بڑھائیں۔
گرین سگنل (Green Signal)
احتیاط کے ساتھ آگے بڑھیں۔
دونوں اطراف کا جائزہ ضرور لیں۔
موٹر سائیکل سواروں اور پیدل چلنے والوں کا خیال رکھیں۔

اسٹاپ سائن (STOP Sign)

اس سائن کا مطلب ہے:

گاڑی مکمل طور پر روکیں۔
دائیں اور بائیں دیکھیں۔
راستہ محفوظ ہونے پر ہی آگے بڑھیں۔
یوٹرن لیتے وقت احتیاط
پہلے انڈیکیٹر دیں۔
سامنے سے آنے والی ٹریفک کو راستہ دیں۔
صرف مقررہ مقام سے یوٹرن لیں۔
موڑ کاٹتے وقت کیا کریں؟
رفتار کم کریں۔
انڈیکیٹر استعمال کریں۔
آئینے چیک کریں۔
پیدل چلنے والوں کو ترجیح دیں۔
پہاڑی علاقوں میں محفوظ ڈرائیونگ
کم گیئر استعمال کریں۔
مسلسل بریک دبانے سے گریز کریں۔
ڈھلوان پر انجن بریک استعمال کریں۔
اندھے موڑ پر ہارن بجائیں۔
رات کے وقت لو بیم (Low Beam) استعمال کریں۔
خراب موسم میں ڈرائیونگ

بارش، برفباری، دھند یا لینڈ سلائیڈنگ کے دوران:

رفتار کم رکھیں۔
گاڑیوں سے مناسب فاصلہ رکھیں۔
ہیڈ لائٹس آن رکھیں۔
غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
سیاحوں کے لیے اہم مشورے
ممکن ہو تو مقامی تجربہ کار ڈرائیور کی خدمات حاصل کریں۔
رات کے وقت غیر ضروری سفر نہ کریں۔
سڑک کے درمیان گاڑی کھڑی کر کے تصاویر نہ بنائیں۔
موسم اور سڑک کی صورتحال معلوم کر کے سفر کریں۔
فرسٹ ایڈ کٹ، پانی اور ضروری سامان ساتھ رکھیں۔
حکومت اور متعلقہ اداروں کے لیے سفارشات
خطرناک مقامات پر گارڈ ریل اور حفاظتی دیواریں تعمیر کی جائیں۔
سڑکوں کی بروقت مرمت کی جائے۔
جدید ٹریفک سائن بورڈ نصب کیے جائیں۔
اسپیڈ کیمرے نصب کیے جائیں۔
ایمرجنسی ریسکیو سسٹم کو مزید مؤثر بنایا جائے۔
ڈرائیور ٹریننگ پروگرام شروع کیے جائیں۔
گاڑیوں کی فٹنس کا سختی سے معائنہ کیا جائے۔
ٹریفک قوانین پر بلاامتیاز عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
ڈرائیوروں کی ذمہ داریاں
ہمیشہ ٹریفک قوانین کی پابندی کریں۔
رفتار مقررہ حد میں رکھیں۔
دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون استعمال نہ کریں۔
گاڑی کی بروقت سروس کروائیں۔
سیٹ بیلٹ لازمی باندھیں۔
غیر ضروری اوور ٹیکنگ سے گریز کریں۔
نشے یا شدید تھکاوٹ کی حالت میں گاڑی نہ چلائیں۔
طویل سفر کے دوران وقفے وقفے سے آرام کریں۔

urdu news gilgit-baltistan-traffic-accidents-safety-rules

50% LikesVS
50% Dislikes

ٹریفک حادثات کی بڑھتی ہوئی شرح اور حفاظتی اقدامات . یاسر دانیال صابری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں