urdu Ghazal 0

غزل . گھر سے نکلے تو ذہن میں اپنے. وہ زمانے کی چال رکھتی ہے. یاسمین اختر طوبیٰ (گوجرہ، پاکستان)
غزل

خوب حسن و جمال رکھتی ہے
خو د کو وہ بے مثال رکھتی ہے

قید کرنے دلِ مخاطَب کو
شوخ نظروں کے جال رکھتی ہے

جب زباں کھولے پھول جھڑتے ہیں
لہجہ وہ باکمال رکھتی ہے

گھر سے نکلے تو ذہن میں اپنے
وہ زمانے کی چال رکھتی ہے

ہجر کے دشت میں بھی وہ روشن
اک چراغِ وصال رکھتی ہے

وقت کی دھوپ، غم کی بارش میں
مسکراہٹ سنبھال رکھتی ہے

روز اب پوچھتی ہے حالِ دل
میرا کتنا خیال رکھتی ہے

وہ فقط حسن کی اسیر نہیں
فکر بھی باکمال رکھتی ہے

رازِ ہستی سمجھنے کی خاطر
منفرد سا خیال رکھتی ہے

بے سبب تو نہیں مچی ہے دھوم
کچھ تو طوبیٰ کمال رکھتی ہے

✒️ یاسمین اختر طوبیٰ
(گوجرہ، پاکستان)

urdu Ghazal

50% LikesVS
50% Dislikes

غزل . گھر سے نکلے تو ذہن میں اپنے. وہ زمانے کی چال رکھتی ہے. یاسمین اختر طوبیٰ (گوجرہ، پاکستان)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں