urdu column in urdu Fragrance of Emotion and the Freshness of Thought

احساس کی خوشبو اور فکر کی شادابی: ایک ادبی اور صحافتی جائزہ.ڈاکٹر فیصل سعید، ٹورانٹو کینیڈا

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

یاسمین اختر طوبیٰ اردو ادب کی ایک ایسی دلنشیں اور معتبر آواز ہیں جو علمی و ادبی تحقیق کا وقار اور تدریس کا حسن یکجا طور سے بلند کرتی ہے۔ ایک معزز مذہبی گھرانے کے پاکیزہ ماحول نے جہاں ان کے فکری شعور کو جلا بخشی، وہاں ان کے والدِ گرامی، احمد علی صاحب، کی عسکری خدمات نے ان کے رگ و پے میں حبِ وطن، خودداری اور بے مثال استقلال کا رنگ بھر دیا۔ ۲۵ دسمبر کو کوئٹہ (بلوچستان) کی وادیوں میں جنم لینے والی یہ شائستہ مزاج شخصیت اب پنجاب کے شہر گوجرہ کی فضاؤں کو اپنے علمی نور سے منور کر رہی ہے۔ انہوں نے ایم اے اردو اور پنجابی، بی۔ایڈ اور ایم۔ایڈ کے علمی مدارج طے کرنے کے بعد ایم فل اردو میں طلائی تمغہ اپنے نام کیا، اور اب پی۔ایچ۔ڈی اردو کی ریسرچ اسکالر کے طور پر زبان و ادب کے لسانی، فکری اور تحقیقی جہات کو نئی وسعتیں دینے میں مصروف ہیں۔

​درس و تدریس کے میدان میں ان کا وجود کسی سایہ دار اور ثمر آور شجر کی مانند ہے۔ وہ طالب علموں کو لفظ کی تقدیس، فکر کی بے کراں وسعت اور تحقیق کے سچے آداب سے سرفراز کرتی ہیں۔ ان کی شخصیت میں ایک شاعر کا لطیف اور حساس دل، ایک محقق کی نکتہ رس نظر اور ایک معلم کی بے لوث شفقت اس طرح گھل مل گئی ہے کہ وہ اردو ادب کے افق پر امیدوں کا ایک نیا سحر انگیز در مصفا کھول رہی ہیں۔

یاسمین اختر طوبیٰ کی تحریریں جب بھی ادبی جرائد اور اخبارات کی زینت بنتی ہیں، اپنے ہمراہ ایک مہکتا ہوا اسلوب لاتی ہیں۔ ان کا اندازِ بیاں سادہ، سلیس اور سیدھا دل کے نہاں خانوں میں اتر جانے والا ہے۔ انہوں نے صحافت کے کھردرے کینوس پر ادب کے شوخ اور دلنشیں رنگ بکھیر کر کالم نگاری کو ایک نیا وقار بخشا ہے۔

روزنامہ ’جہان‘ (اسلام آباد) کے تازہ صفحات پر بکھری محترمہ یاسمین اختر طوبیٰ کی تحریر ”روٹی کا فلسفہ: ذائقہ یا ضرورت“ محض ایک کالم نہیں، بلکہ مادہ پرستی کے اس قحط الرجال میں دل کو گداز کرنے والا ایک فکری نغمہ ہے۔ یہ عہدِ حاضر کی بے ہنگم مادی دوڑ، نمود و نمائش کی ہوس اور انسانی جذبوں کی پامالی پر ایک دھیما سا نوحہ بھی ہے اور روح کو بیدار کرنے والی ایک دردمندانہ صدا بھی۔

کالم نگار نے “روٹی” کو محض پیٹ بھرنے کا ذریعہ نہیں مانا، بلکہ اسے انسانی جذبوں، احساسات اور سماجی تفاوت کو پرکھنے کا ایک پیمانہ بنایا ہے۔ مصنفہ نے ایک طرف تپتی دھوپ میں محنت کر کے لوٹنے والے دہقان کی کچی پکی روٹی، ہری مرچ اور پیاز کی چٹنی کو کائنات کی لذیذ ترین ضیافت قرار دیا ہے، اور دوسری طرف عالی شان گاڑیوں میں سفر کرنے والے ان امیروں کا تذکرہ کیا ہے جو انواع و اقسام کے کھانوں کے باوجود بے زار اور بھوک کی سچی لذت سے محروم ہیں۔ مضمون کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ انسان نے “ضرورت” کو “خواہش” میں بدل دیا ہے۔ جب ضرورت حد سے تجاوز کر جائے تو لذت مٹ جاتی ہے۔

اس مضمون کی شروعات ہی ایک خوبصورت منظر نگاری سے ہوتی ہے: “دوپہر کا سورج آسمان پر پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ کھیتوں سے لوٹتے ہوئے ایک بوڑھے کسان نے اپنے کندھے پر رکھا پھاوڑا نیچے رکھا” … یہ منظر کشی قاری کو فوراً اس ماحول کا حصہ بنا دیتی ہے۔

آگے چل کر مصنفہ نے زندگی کے دو بالکل متضاد رخوں کو آمنے سامنے لا کر سچائی کو نکھار دیا ہے:
1. پیاس اور دھوپ سے نڈھال کسان جس کی بیوی پیار سے ٹھنڈا پانی اور خشک روٹیاں پیش کرتی ہے۔
2. ایک دولت مند شخص جو مہنگے ترین ہوٹل سے کھانا کھا کر نکلتا ہے لیکن اس کے چہرے پر مایوسی اور بیزاری ہے۔
یہ تضاد قاری کو جھنجھوڑنے اور سوچنے پر مجبور کرنے میں بے حد کامیاب رہا ہے۔

مضمون کا دوسرا حصہ فلسفیانہ باریکیوں سے لبالب ہے۔ مصنفہ کے چند جملے نثر کا اعلیٰ نمونہ ہیں مثلاً “بھوک وہ جادو ہے جو خشک روٹی کو نعمت بنا دیتی ہے اور اس کے بغیر سونے کی پلیٹ میں سجا ہوا کھانا بھی بے لطف محسوس ہوتا ہے۔”

روزے کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے مصنفہ نے بہت خوبصورت نکتہ اٹھایا ہے کہ روزہ صرف ایک عبادت نہیں، بلکہ انسان کے احساسات کی تربیت کا نام ہے تاکہ وہ بھوک کی اصل لذت اور محروم طبقوں کے دکھ کو محسوس کر سکے۔

یہ جملہ کہ “ملنے کی خوشی اسی کے حصے میں آتی ہے جس نے جدائی کی راتیں کاٹی ہوں”، اس کالم کو صحافت کی حد سے نکال کر باقاعدہ ادب کے زمرے میں شامل کر دیتا ہے.

اگرچہ یہ کالم ادبی اور فکری لحاظ سے انتہائی جاندار ہے، تاہم اس میں مزید نکھار کے لیے چند پہلوؤں پر غور کیا جا سکتا ہے:

1) مضمون کے آخری حصے میں “کامیابی اور ناکامی”، “بارش اور خشک سالی”، اور “ملاقات و جدائی” کے استعارے یکے بعد دیگرے لائے گئے ہیں۔ اگرچہ یہ مثالیں فلسفے کو سہارا دیتی ہیں، لیکن روٹی اور بھوک کے بنیادی موضوع سے قاری کا دھیان تھوڑا بھٹکتا محسوس ہوتا ہے۔

2) کسان اور امیر آدمی کے تقابل کے فوراً بعد بچپن کی یادوں کا تذکرہ (شام ڈھلتے ہی گلی میں کرکٹ کھیلنا) خوبصورت تو ہے، لیکن اگر اس ربط کو تھوڑا اور ہموار کیا جاتا تو تحریر کا بہاؤ مزید نکھر جاتا۔

یاسمین اختر طوبیٰ کا یہ کالم موجودہ دور کی مادہ پرستانہ بے حسی کا ایک بہترین اور شفابخش حل تجویز کرتا ہے۔ یہ قاری کے دل پر یہ نقش چھوڑنے میں مکمل کامیاب رہا ہے کہ حقیقی مسرت نعمتوں کے انبار میں نہیں، بلکہ ان کی سچی طلب، تڑپ اور شکر گزاری کے احساسِ جمیل میں پوشیدہ ہے۔

​یہ کالم صرف پڑھنے کے لیے نہیں، بلکہ مصروفِ دہر انسان کے لیے اپنے رویوں کی بازخوانی کرنے اور دل کے آئینے کو صاف کرنے کا ایک دلنشیں دعوت نامہ ہے۔

urdu column in urdu Fragrance of Emotion and the Freshness of Thought

100% LikesVS
0% Dislikes

احساس کی خوشبو اور فکر کی شادابی: ایک ادبی اور صحافتی جائزہ.ڈاکٹر فیصل سعید، ٹورانٹو کینیڈا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں