Unexplained Sadness 0

اداسیاں بے وجہ سی. محمد عابد رشید
کبھی کبھی زندگی میں ایسی اداسیاں اتر آتی ہیں جن کی کوئی واضح وجہ نہیں ہوتی۔ نہ کوئی خاص غم سامنے ہوتا ہے، نہ کسی نے دل دکھایا ہوتا ہے، مگر پھر بھی دل بوجھل، آنکھیں نم اور طبیعت خاموش سی رہتی ہے۔ انسان خود سے پوچھتا ہے کہ آخر دل کیوں اداس ہے؟ مگر جواب کہیں نہیں ملتا۔ یہ بے وجہ سی اداسیاں دراصل ہمیشہ بے وجہ نہیں ہوتیں۔ کبھی یہ مسلسل برداشت کی ہوئی تکلیفوں کا نتیجہ ہوتی ہیں، کبھی اپنوں کی بے رخی کا، کبھی ان خوابوں کا جو آنکھوں میں سج کر حقیقت نہ بن سکے، اور کبھی ان باتوں کا جنہیں ہم نے مسکرا کر دل کے اندر دفن کر دیا ہوتا ہے۔ انسان دوسروں کو تسلی دیتے دیتے خود کو تسلی دینا بھول جاتا ہے۔ سب کے دکھ سنتا ہے، سب کے آنسو پونچھتا ہے، سب کے لیے مضبوط بن کر کھڑا رہتا ہے، مگر جب تنہائی میں اپنے دل کی آواز سنتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اندر کہیں بہت کچھ ٹوٹ چکا ہے۔
کچھ اداسیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جو کسی شخص کی کمی نہیں بلکہ اپنے ہی وجود سے تھکن کا احساس ہوتی ہیں۔ انسان دنیا کی بھیڑ میں رہتے ہوئے بھی خود کو تنہا محسوس کرتا ہے۔ بات کرنے کو بہت سے لوگ ہوتے ہیں، مگر دل کی بات سمجھنے والا کوئی ایک بھی نہیں ہوتا۔ ایسے لمحوں میں خود کو کمزور سمجھنے کی ضرورت نہیں۔ خاموش ہو جانا بھی کبھی کبھی دل کا علاج ہوتا ہے۔ کچھ وقت اپنے لیے نکالیے، اپنے رب کے سامنے دل کھولیے، دعا کیجیے، کیونکہ جو بات دنیا نہیں سمجھ سکتی، اللہ تعالیٰ اسے بھی جانتا ہے جو ہم لفظوں میں بیان نہیں کر پاتے۔ یاد رکھیے، ہر اداسی ہمیشہ نہیں رہتی۔ رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، صبح ضرور آتی ہے۔ دل کے زخم کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں، وقت انہیں آہستہ آہستہ بھر دیتا ہے۔

بس خود کو تھامے رکھیے…
کچھ اداسیاں بے وجہ سی ضرور ہوتی ہیں، مگر ان کے بعد آنے والی خوشیاں بھی کبھی کبھی بے حساب ہوتی ہیں۔

Unexplained Sadness

50% LikesVS
50% Dislikes

اداسیاں بے وجہ سی. محمد عابد رشید

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں