انسان کون سی عزت کا طلب گار ہوتا ہے؟ شبیر کمال
انسان کی زندگی میں عزت کی خواہش ایک فطری چیز ہے۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ لوگ اسے اچھے نام سے یاد کریں، اس کی بات کو اہمیت دیں، اس کے ساتھ اچھا سلوک کریں اور معاشرے میں اسے احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے۔ عزت انسان کے دل کی ایک ایسی ضرورت ہے جسے دولت، لباس، عہدہ یا دنیا کی بڑی سے بڑی چیز بھی مکمل طور پر پورا نہیں کر سکتی۔
لیکن سوال یہ ہے کہ انسان آخر کس عزت کا طلب گار ہوتا ہے؟ کیا وہ عزت جو دولت کی وجہ سے ملتی ہے؟ کیا وہ عزت جو کسی عہدے یا منصب کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے؟ یا پھر وہ عزت جو انسان کے کردار، اخلاق اور اچھے عمل کی وجہ سے دلوں میں پیدا ہوتی ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں عزت کی کئی شکلیں ہیں۔ بعض لوگ دولت مند شخص کو عزت دیتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس مال و دولت ہوتی ہے۔ بعض لوگ بڑے عہدے والے انسان کے سامنے احترام سے پیش آتے ہیں، کیونکہ اس کے پاس اختیار ہوتا ہے۔ لیکن ایسی عزت اکثر انسان کے ساتھ اس وقت تک رہتی ہے جب تک اس کے پاس دولت، منصب یا طاقت موجود ہو۔ جیسے ہی دولت ختم ہو جائے یا عہدہ چھن جائے، بہت سے لوگ اپنا رویہ بھی بدل لیتے ہیں۔
اس کے برعکس ایک عزت وہ ہے جو انسان کے کردار سے پیدا ہوتی ہے۔ ایک سچا، ایماندار، نرم مزاج اور دوسروں کا احترام کرنے والا شخص اگر غریب بھی ہو تو لوگ اسے عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس کے پاس شاید بڑی گاڑی نہ ہو، بڑا گھر نہ ہو، کوئی اعلیٰ عہدہ نہ ہو، لیکن اس کا اچھا اخلاق لوگوں کے دلوں میں اس کے لیے جگہ بنا دیتا ہے۔اصل عزت یہ ہے کہ انسان کی غیر موجودگی میں بھی لوگ اس کے بارے میں اچھے الفاظ استعمال کریں۔ اصل عزت یہ ہے کہ کسی ضرورت مند کو یقین ہو کہ اگر وہ اس شخص کے پاس جائے گا تو اسے مایوس نہیں کیا جائے گا۔اصل عزت یہ ہے کہ انسان طاقت رکھنے کے باوجود کمزور کو نہ دبائے، دولت رکھنے کے باوجود غریب کو حقیر نہ سمجھے اور علم رکھنے کے باوجود جاہل انسان کا مذاق نہ اڑائے۔
قرآن کریم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ کے نزدیک عزت کا معیار مال، خاندان، رنگ، زبان یا منصب نہیں بلکہ تقویٰ ہے۔ انسان جتنا اللہ سے قریب اور اپنے کردار میں پاکیزہ ہوگا، اتنا ہی حقیقی عزت کا مستحق ہوگا۔ہم اکثر لوگوں سے عزت چاہتے ہیں لیکن خود دوسروں کو عزت دینا بھول جاتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری بات سنی جائے، مگر دوسروں کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہمارے ساتھ نرمی کریں، مگر ہم دوسروں سے سختی سے پیش آتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری غلطیوں کو معاف کیا جائے، مگر دوسروں کی چھوٹی سی غلطی بھی برداشت نہیں کرتے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ عزت مانگنے سے نہیں، کردار سے حاصل ہوتی ہے۔ انسان دوسروں کو عزت دے گا تو اس کے لیے بھی عزت کے دروازے کھلیں گے۔کسی کی عزت کو مجروح کرکے انسان اپنی عزت قائم نہیں کر سکتا۔
آخرکار انسان کو ایسی عزت کی تلاش کرنی چاہیے جو وقت کے ساتھ ختم نہ ہو۔ دولت ختم ہوسکتی ہے، عہدہ چھن سکتا ہے، خوبصورتی ماند پڑ سکتی ہے اور دنیا کی تعریف بھی بدل سکتی ہے، لیکن اچھا کردار انسان کے بعد بھی زندہ رہتا ہے۔
لہٰذا انسان کو لوگوں سے صرف عزت لینے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے بلکہ دوسروں کو عزت دینے والا بننا چاہیے۔ کیونکہ حقیقی عزت وہ نہیں جو انسان لوگوں سے مانگے، بلکہ وہ ہے جو اس کے اخلاق، کردار اور عمل کو دیکھ کر لوگوں کے دلوں میں خود پیدا ہو جائے۔
Truly Seek
چراغِ علم سے چراغِ فکر تک . نسرین امیرزمان




