سختیوں سے گزرنے والے ہی مہربانی کی اصل قدر جانتے ہیں. محمد عابد رشید
“جنہوں نے سختیاں دیکھی ہوں، وہی مہربانی کی قدر جانتے ہیں۔ زندگی ہر انسان کو ایک جیسی راہوں پر نہیں چلاتی۔ کسی کے راستے پھولوں سے سجے ہوتے ہیں اور کسی کو کانٹوں پر چل کر منزل تک پہنچنا پڑتا ہے۔ کچھ لوگ آسائشوں میں پلتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ حالات کی سخت دھوپ میں خود کو مضبوط بناتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جس انسان نے خود دکھ، محرومی، بے بسی اور مشکلات کا سامنا کیا ہو، وہ دوسروں کے درد کو زیادہ گہرائی سے محسوس کرتا ہے۔ سختیاں انسان کو صرف توڑتی نہیں، اسے سمجھدار بھی بناتی ہیں۔ جو شخص کبھی کسی کے سامنے اپنی ضرورت بیان کرتے ہوئے جھجکا ہو، وہ کسی دوسرے کی مجبوری کا مذاق نہیں اڑاتا۔ جس نے کبھی تنہائی میں آنسو بہائے ہوں، وہ کسی کے چہرے پر چھپی اداسی کو جلد پہچان لیتا ہے۔ جس نے خود کسی کے ایک اچھے لفظ کا سہارا محسوس کیا ہو، وہ جانتا ہے کہ کبھی کبھی چند حوصلہ افزا الفاظ بھی انسان کو دوبارہ جینے کا حوصلہ دے دیتے ہیں۔ مہربانی ہمیشہ بڑی چیز کا نام نہیں۔ کبھی کسی کی بات خاموشی سے سن لینا، کبھی پریشان شخص کو حوصلہ دے دینا، کبھی کسی کی عزتِ نفس کا خیال رکھنا اور کبھی صرف یہ کہہ دینا کہ “فکر نہ کریں، میں آپ کے ساتھ ہوں” بھی بہت بڑی مہربانی ہوتی ہے۔ زندگی کا ایک خوبصورت اصول ہے کہ انسان کو دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کرنا چاہیے جس کی اسے خود ضرورت کے وقت خواہش رہی ہو۔ اگر ہم نے کبھی مشکل وقت دیکھا ہے تو ہمیں دوسروں کے مشکل وقت میں ان کا ہاتھ تھامنا چاہیے۔ اگر ہم نے کبھی کسی کی شفقت سے سکون پایا ہے تو ہمیں بھی کسی کے لیے سکون کا سبب بننا چاہیے۔
یاد رکھیے، دولت انسان کو آسائش دے سکتی ہے، عہدہ انسان کو اختیار دے سکتا ہے، لیکن اچھا کردار ہی انسان کو انسانوں کے دلوں میں جگہ دیتا ہے۔ دنیا میں ہر شخص کسی نہ کسی جنگ سے گزر رہا ہے۔ کچھ جنگیں نظر آتی ہیں اور کچھ مسکراہٹوں کے پیچھے چھپی ہوتی ہیں۔ اس لیے کسی کے حالات جانے بغیر اس پر فیصلہ صادر نہ کریں۔ ممکن ہے جس شخص کو آپ مضبوط سمجھ رہے ہیں، وہ اندر سے کسی سہارے کا منتظر ہو۔ جنہوں نے زندگی کی سختیاں دیکھی ہوں، وہ جانتے ہیں کہ کسی کے لیے آسانی پیدا کرنا کتنی بڑی نیکی ہے۔ اسی لیے وہ چھوٹی سی محبت کو بھی معمولی نہیں سمجھتے، ایک مخلص دعا کو بھی قیمتی سمجھتے ہیں اور ایک سچے ساتھ کو زندگی کا خوبصورت تحفہ مانتے ہیں۔ آئیے، ہم کسی کی مشکل کا سبب بننے کے بجائے اس کی آسانی بنیں، کسی کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے بجائے مرہم رکھیں، اور جہاں ممکن ہو وہاں محبت، احترام اور مہربانی بانٹیں۔ کیونکہ آخرکار انسان کی اصل پہچان یہ نہیں کہ اس نے زندگی سے کتنا حاصل کیا، بلکہ یہ ہے کہ اس نے دوسروں کی زندگی میں کتنی آسانی، کتنی امید اور کتنی محبت پیدا کی۔اللہ ہمیں ایسا دل عطا فرمائے جو دوسروں کا درد سمجھ سکے، کسی کے لیے بوجھ نہیں بلکہ سہارا بنے، اور ہماری ذات کسی کے لیے آسانی اور خوشی کا سبب بن جائے۔ آمین۔
چراغِ علم سے چراغِ فکر تک . نسرین امیرزمان
Endure Hardships




