چراغِ علم سے چراغِ فکر تک . نسرین امیرزمان
کچھ لوگ زندگی کے اوراق پلٹتے ہوئے وقت کی گرد میں گم ہو جاتے ہیں، اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے عزم، کردار اور فکری ریاضت سے وقت کے اوراق پر اپنی ایسی تحریر ثبت کر جاتے ہیں جسے زمانہ مدتوں پڑھتا رہتا ہے۔ کچھ لوگ عمر کا سفر طے کرتے ہیں، جبکہ کچھ اپنی عمر کو علم و آگہی، تدبر و تحقیق اور تخلیق و تعمیر کے چراغوں سے منور کر دیتے ہیں۔ ملک محمد شاکر بہاولپوری کا شمار انہی صاحبانِ فکر و بصیرت میں ہوتا ہے جنہوں نے زندگی کو محض سانسوں کی آمد و رفت نہیں سمجھا بلکہ اسے علم کی جستجو، فکر کی آبیاری، تدریس کی پاسداری اور قلم کی ریاضت سے عبارت کر دیا۔
ان کی ’’نقوشِ حیات‘‘ کا مطالعہ کیا جائے تو ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت کا نقش ابھرتا ہے جس کے خدوخال میں معلم کی شفقت، محقق کی ژرف نگاہی، مصنف کی فکری جولانی، ادیب کی جمالیاتی حس اور علم دوست انسان کی بے لوث جستجو یکجا دکھائی دیتی ہے۔ ان کے سفر کی سب سے روشن علامت استقامت ہے۔ حالات کی آندھیاں چلتی رہیں، زمانے کے تیور بدلتے رہے، مصروفیات کے ہجوم نے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کیں، مگر علم سے ان کی وابستگی اور قلم سے ان کا رشتہ کبھی ماند نہ پڑا۔
ملک محمد شاکر بہاولپوری کے نزدیک تعلیم محض چند اسناد، درجات اور ملازمت کے دروازے کھولنے والی کوئی رسمی کلید نہیں بلکہ تہذیبِ نفس، تطہیرِ کردار اور تعمیرِ شعور کا ایک مقدس وسیلہ ہے۔ یہی تصور ان کی شخصیت میں منصبِ معلم کو محض پیشہ نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے ایک فکری امانت اور اخلاقی ذمہ داری میں ڈھال دیتا ہے۔ ان کے نزدیک درس گاہ اینٹوں اور دیواروں کا مجموعہ نہیں بلکہ وہ مقدس آستانہ ہے جہاں نسلوں کے اذہان تراشے جاتے ہیں، کردار تشکیل پاتے ہیں اور مستقبل کے نقوش مرتب ہوتے ہیں۔
ان کے تعلیمی سفر کے مختلف مراحل ان کی علمی استقامت کے گواہ ہیں۔ تدریس کے میدان میں انہوں نے محض معلومات منتقل کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ شعور کی شمع روشن کرنے کو ترجیح دی۔ ان کے لیے ایک استاد کا منصب کتاب کے الفاظ پڑھا دینا نہیں بلکہ طالب علم کے اندر سوال کی چنگاری پیدا کرنا، جستجو کی راہ دکھانا اور کردار کی بنیاد مضبوط کرنا ہے۔ یہی وصف انہیں محض معلم نہیں بلکہ ایک مربی اور فکری رہنما کے مقام پر فائز کرتا ہے۔
ان کی شخصیت کا دوسرا تابندہ پہلو تصنیف و تالیف ہے۔ 2019ء سے شروع ہونے والا ان کا تصنیفی سفر وقت کے ساتھ ایک وسیع علمی افق میں تبدیل ہوتا گیا۔ مختلف کتابیں، مضامین، تحقیقی مقالات اور فکری تحریریں ان کے مطالعے کی وسعت اور ذہنی بالیدگی کا پتا دیتی ہیں۔ ان کے ہاں موضوع محض چند الفاظ کا عنوان نہیں بنتا بلکہ ایک ایسا دریچہ بن جاتا ہے جس سے فکر کے نئے منظرنامے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ وہ موضوع کو چھوتے نہیں، اس کی تہہ میں اترنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی تحقیقی مزاج ان کی تحریروں کو محض اظہارِ خیال سے بلند کر کے فکری کاوش کا درجہ عطا کرتا ہے۔
ان کی تحقیقی جہت بالخصوص قابلِ تحسین ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ کی تفہیمِ قرآن و حدیث اور فقہی استنباط کے حوالے سے ان کا تحقیقی مقالہ اس امر کی شہادت ہے کہ ان کا قلم دینی موضوعات کو صرف جذباتی وابستگی کے زاویے سے نہیں دیکھتا بلکہ تحقیق، استدلال، مطالعے اور علمی تناظر کی روشنی میں ان کا جائزہ لیتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں عقیدت اور تحقیق ایک دوسرے کی ضد نہیں رہتیں بلکہ علم کی ایک متوازن صورت اختیار کر لیتی ہیں۔
ملک محمد شاکر بہاولپوری کی فکری کائنات کا دائرہ کسی ایک موضوع تک محدود نہیں۔ اسلامی تاریخ، قرآنِ حکیم، سیرتِ طیبہ، معاشرت، تہذیب، تعلیم، انسانی اقدار اور اخلاقی شعور جیسے موضوعات ان کے قلم کی جولانی کے مختلف زاویے ہیں۔ موضوعات کا یہ تنوع ان کے وسیع المطالعہ ذہن کی گواہی دیتا ہے۔ وہ ادب کو زندگی سے کاٹ کر دیکھنے کے قائل نہیں۔ ان کے نزدیک قلم اگر انسان کے باطن میں چراغ نہ جلائے، کردار میں شائستگی نہ پیدا کرے اور معاشرے کے فکری افق پر کوئی روشن لکیر نہ کھینچے تو الفاظ کی ساری آرائش محض لفظی ملمع کاری بن کر رہ جاتی ہے۔
ان کے ہاں علم ایک جامد ذخیرہ نہیں بلکہ ایک رواں دریا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ جو ذہن اپنی گزشتہ کامیابیوں کے سائے میں بیٹھ جائے، اس کی فکری تازگی رفتہ رفتہ زائل ہونے لگتی ہے۔ اسی لیے ان کی شخصیت میں خود احتسابی اور مسلسل جستجو نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ وہ حاصل شدہ منزل پر قیام کے بجائے نئی راہوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ یہی طلبِ نو، یہی شوقِ جستجو اور یہی فکری بے قراری ایک عام قلم کار کو صاحبِ فکر مصنف میں تبدیل کرتی ہے۔
ان کی مصروفیات کے باوجود ادبی سرگرمیوں سے وابستگی بھی ان کے زندہ اور متحرک شعور کی علامت ہے۔ مختلف تحریری منصوبے، تحقیقی موضوعات، تصنیفی سرگرمیاں اور ادبی کاوشیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ان کے لیے قلم محض اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ زندگی سے مکالمے کا ایک معتبر ذریعہ ہے۔ 2024ء اور اس کے بعد کے علمی و تصنیفی منصوبے بھی ان کے اس مسلسل شوقِ تحریر کی گواہی دیتے ہیں۔
آج کا عہد تیز رفتاری کا عہد ہے۔ معلومات کے انبار ہیں مگر مطالعے کی گہرائی کم ہوتی جا رہی ہے۔ الفاظ کی فراوانی ہے مگر فکر کی تہہ داری نایاب ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ کتاب ہاتھ میں ہے مگر ذہن اسکرینوں کے ہجوم میں الجھا ہوا ہے۔ ایسے زمانے میں ملک محمد شاکر بہاولپوری جیسے اہلِ قلم کی موجودگی کسی فکری غنیمت سے کم نہیں۔ ان کی زندگی یہ پیغام دیتی ہے کہ علم کی پیاس عمر کی محتاج نہیں ہوتی، جستجو کی کوئی آخری منزل نہیں ہوتی اور قلم اگر مقصد سے وابستہ ہو تو وقت کی گرد بھی اس کی روشنائی کو دھندلا نہیں سکتی۔
ملک محمد شاکر بہاولپوری محض ایک نام نہیں بلکہ ایک فکری رویے کا استعارہ ہیں۔ وہ اس یقین کی علامت ہیں کہ علم انسان کے اندر بصیرت پیدا کرتا ہے، مطالعہ اس کے افق کو وسعت دیتا ہے اور قلم اسے اپنے عہد سے مکالمے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔ ان کے نزدیک علم اگر کردار کی خوشبو سے خالی ہو تو ادھورا ہے، اور ادب اگر انسانی شعور کو بیدار نہ کرے تو اس کی معنوی تاثیر محدود رہ جاتی ہے۔
ان کی زندگی کا حقیقی اعزاز شاید کوئی ایک کتاب، کوئی ایک سند یا کوئی ایک منصب نہیں۔ ان کا اصل سرمایہ وہ فکری اثر ہے جو ان کی تدریسی خدمات، تحقیقی کاوشوں اور تحریری ورثے کے ذریعے ایک ذہن سے دوسرے ذہن تک منتقل ہو رہا ہے۔ یہی اثر کسی صاحبِ قلم کی اصل میراث ہوتا ہے۔ کتابیں وقت کے ساتھ پرانی ہو سکتی ہیں، مگر ایک بیدار خیال نسلوں کے اندر نئے سوال پیدا کرتا رہتا ہے۔
ملک محمد شاکر بہاولپوری کی داستان دراصل ایک ایسے چراغ کی داستان ہے جو خود جلنے کا حوصلہ رکھتا ہے تاکہ دوسروں کے راستے روشن ہو سکیں۔ ان کا قلم اگر اسی عزم، اسی علمی ریاضت اور اسی فکری دیانت کے ساتھ رواں رہا تو آنے والے زمانے میں ان کی ادبی شناخت مزید مستحکم اور ان کا علمی نقش مزید گہرا ہوگا۔
کیونکہ وقت صرف چہروں کو نہیں پرکھتا، وہ کردار کو پرکھتا ہے۔ کردار سے فکر جنم لیتی ہے، فکر سے تحریر وجود میں آتی ہے، اور تحریر جب صداقت، علم اور اخلاص سے معمور ہو جائے تو وہ محض کاغذ پر ثبت حروف نہیں رہتی بلکہ زمانے کے حافظے کا حصہ بن جاتی ہے۔
ملک محمد شاکر بہاولپوری کا سفر ابھی اختتام پذیر نہیں ہوا۔ یہ تو ایک جاری باب ہے۔ ایک ایسا باب جس کے آئندہ صفحات ابھی علم کی روشنائی، تحقیق کی گہرائی، ادب کی خوشبو اور تخلیق کی تازگی کے منتظر ہیں۔ چراغِ علم سے چراغِ فکر تک ان کا یہ سفر اسی وقت معنویت پاتا ہے جب ایک چراغ دوسرے چراغ کو روشن کرتا ہے۔ شاید یہی کسی اہلِ علم کی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ اس کے بعد بھی روشنی باقی رہے۔
Lamp of Knowledge to the Light




