سفرِ زیست. بتول فاطمہ
زندگی ایک سفر ہے؛ ایسا سفر جس کا آغاز ہمارے اختیار میں نہیں اور اختتام بھی ہماری مرضی سے نہیں ہوتا۔ ہم اس دنیا میں خالی ہاتھ آتے ہیں، پھر وقت کے ساتھ ہمارے ہاتھوں میں رشتے، محبتیں، خواب، خواہشیں، کامیابیاں اور ناکامیاں آتی جاتی رہتی ہیں۔ ہم زمین پر اپنے حصے کے چند دن گزارتے ہیں، کچھ لوگوں سے ملتے ہیں، کچھ کو کھو دیتے ہیں، کچھ یادیں دل میں سمیٹ لیتے ہیں اور کچھ زخم وقت کے حوالے کر دیتے ہیں۔ پھر ایک دن یہی سفر ہمیں وہاں لے جاتا ہے، جہاں سے کوئی مسافر واپس نہیں آتا۔
بچپن میں زندگی کتنی سادہ ہوتی ہے! چھوٹی سی چیز خوشی دے دیتی ہے۔ بارش میں بھیگنا، کاغذ کی کشتی چلانا، مٹی سے کھیلنا، ماں کی آواز پر دوڑتے ہوئے گھر آنا اور باپ کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر بازار جانا؛ یہ سب معمولی واقعات ہوتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے بعد یہی معمولی لمحے زندگی کی سب سے قیمتی یادیں بن جاتے ہیں۔
پھر بچپن آہستہ آہستہ جوانی میں بدل جاتا ہے۔ آنکھوں میں خواب اتر آتے ہیں اور دل میں کچھ بننے، کچھ پانے اور کچھ کر گزرنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ ہم مستقبل کی فکر میں حال کو بھولنے لگتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ جب ہماری فلاں خواہش پوری ہو جائے گی، تب ہم خوش ہوں گے؛ جب حالات بہتر ہوں گے، تب سکون سے زندگی گزاریں گے؛ جب منزل مل جائے گی، تب راستے کی خوب صورتی دیکھیں گے۔
مگر زندگی کسی کے انتظار میں نہیں رکتی۔
آج، کل بن جاتا ہے؛ اور کل، گزرے ہوئے وقت کا حصہ۔ ہم اپنی منزلوں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں، جبکہ ہماری زندگی خاموشی سے ہمارے قدموں کے نیچے سے پھسلتی رہتی ہے۔
اس سفر میں ہمیں بہت سے لوگ ملتے ہیں۔ کچھ چند قدم ساتھ چلتے ہیں اور پھر کسی موڑ پر جدا ہو جاتے ہیں۔ کچھ برسوں تک ساتھ رہتے ہیں اور کچھ ہماری زندگی کا ایسا حصہ بن جاتے ہیں کہ ان کے بغیر اپنے وجود کا تصور بھی مشکل لگتا ہے۔ مگر وقت کا اصول ہے؛ جو آیا ہے، اسے کبھی نہ کبھی جانا ہے۔
بعض جدائیاں ہمیں توڑ دیتی ہیں۔ کسی اپنے کا بچھڑ جانا انسان کو اندر سے خالی کر دیتا ہے۔ کبھی کسی کی آواز یاد آتی ہے، کبھی اس کا اندازِ گفتگو، کبھی اس کی مسکراہٹ اور کبھی کوئی معمولی سی بات دل میں ایک پورا زمانہ زندہ کر دیتی ہے۔ تب احساس ہوتا ہے کہ انسان چلا جاتا ہے، مگر اس کی یادیں کہیں نہیں جاتیں۔
سفرِ زیست صرف لوگوں کے بچھڑنے کا نام نہیں؛ اس سفر میں ہم اپنے اندر کے کئی وجود بھی کھو دیتے ہیں۔ بچپن کی بے فکری، نوجوانی کے کچھ خواب، دل کی کچھ خواہشیں اور زندگی کے کچھ حسین تصورات وقت کی گرد میں کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ انسان بدلتا رہتا ہے؛ حالات اسے بدلتے ہیں، تجربات اسے سمجھاتے ہیں اور وقت اسے خاموشی سے بہت کچھ سکھا دیتا ہے۔
زندگی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہر شخص اپنے اندر ایک جنگ لڑ رہا ہے۔ جو شخص ہمیں خوش نظر آتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ اندر سے بھی خوش ہو۔ جو خاموش ہے، ضروری نہیں کہ اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں۔ بعض اوقات ایک مسکراہٹ کے پیچھے برسوں کا دکھ چھپا ہوتا ہے۔ اس لیے کسی کے ساتھ نرمی سے پیش آنا، کسی کی بات سن لینا اور کسی کے دکھ کو معمولی نہ سمجھنا بھی ایک بڑی نیکی ہے۔
ہم اکثر محبت اور معافی کو بھی کل پر چھوڑ دیتے ہیں۔ کسی سے کہنا ہو کہ ’’تم میرے لیے اہم ہو‘‘، تو زبان رک جاتی ہے۔ کسی سے معافی مانگنی ہو تو انا درمیان میں آ جاتی ہے۔ کسی کا دل دکھا دیا ہو تو سوچتے ہیں؛ وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ مگر زندگی نے کب کسی کو یہ یقین دلایا ہے کہ کل ضرور آئے گا؟
اس لیے جو کہنا ہے، آج کہہ دینا چاہیے۔ جسے معاف کرنا ہے، اسے معاف کر دینا چاہیے۔ جس سے محبت ہے، اسے محبت کا یقین دلانا چاہیے۔ اور جہاں ممکن ہو، کسی کی زندگی میں آسانی پیدا کر دینی چاہیے۔ کیونکہ جب سفر ختم ہو گا تو ہمارے پاس اپنی نیتوں کے سوا کچھ نہیں بچے گا؛ نہ دولت، نہ عہدہ، نہ شہرت اور نہ دنیا کی وہ چیزیں جنہیں حاصل کرنے کے لیے ہم نے اپنی عمر کے بہترین دن گزار دیے۔
آخرکار انسان کے ساتھ اس کا کردار جاتا ہے۔ لوگ اسے اس لیے یاد رکھتے ہیں کہ وہ کیسا تھا؛ اس نے دوسروں کے ساتھ کیسا سلوک کیا، کس کے کام آیا، کس کے دل کو سہارا دیا اور کس کے لیے مشکل وقت میں کھڑا ہوا۔
ایک دن ہمارا سفر بھی ختم ہو جائے گا۔ گھر وہیں ہو گا، راستے وہیں ہوں گے، لوگ اپنی زندگیوں میں مصروف ہوں گے، مگر ہم ان راستوں پر چلنے کے لیے موجود نہیں ہوں گے۔ شاید کسی کمرے میں ہماری تصویر ہو گی، کسی کتاب میں ہمارا نام، کسی دل میں ہماری یاد اور کسی زبان پر ہمارے لیے دعا۔
تب شاید حقیقت پوری طرح سمجھ آئے گی کہ زندگی دراصل حاصل کرنے کا نام نہیں تھی؛ یہ تو گزرنے والے لمحوں کو معنی دینے کا نام تھی۔
ہم اس زمین پر چند روز کے مسافر ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم ہمارا سفر کتنا باقی ہے، مگر اتنا ضرور معلوم ہے کہ ہر گزرتا ہوا دن ہمیں اختتام کے قریب لے جا رہا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ اپنے حصے کے دن شکووں میں نہیں، شکر میں گزاریں؛ نفرت میں نہیں، محبت میں گزاریں؛ دوسروں کو گرانے میں نہیں، سہارا دینے میں گزاریں۔
کیونکہ آخر میں سوال یہ نہیں ہو گا کہ ہم نے دنیا سے کتنا حاصل کیا؛ سوال یہ ہو گا کہ ہم دنیا میں رہ کر کیا چھوڑ گئے؟
شاید یہی زندگی کا اصل سبق ہے، اور یہی سفرِ زیست کی سب سے خوب صورت حقیقت بھی۔
Journey of Life




