Hate to Hope 0

کیا آپ کو بھی اس ملک سے نفرت تو نہیں ہو رہی ؟ اگر ایسا ہے تو یہ آرٹیکل آپ کے لیے ہیں ۔ آخر تک ضرور پڑھے ۔طہٰ علی تابش بلتستانی

تاریخ: 14 اگست، 2026ء
کبھی کبھی اپنے پڑھے لکھے نوجوانوں کی مایوسی دیکھ کر دل اس قدر کڑھتا ہے کہ خون کے آنسو رونے کو دل چاہتا ہے۔ ادارے کے چپڑاسی سے لے کر سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے چھوٹے چھوٹے بچوں تک، ہر کوئی اس ملک کو کوستا نظر آتا ہے۔ اوپر سے سوشل میڈیا نے اس قدر منفی تاثرات پھیلا دیے ہیں کہ آنے والی نسل اس ملک کو ایک قید خانے سے زیادہ کچھ سمجھتی ہی نہیں ہے۔آپ مہنگائی پر واویلہ کرتے ہیں، لیکن اس مہنگائی میں ان ہیروز کو بھول جاتے ہیں جو مختلف این جی اوز کی شکل میں لاکھوں لوگوں کی مدد کر رہے ہیں۔آپ پرائیویٹ اور سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹروں کو برا بھلا کہتے ہیں، لیکن ان ڈاکٹروں کو بھول جاتے ہیں جن کے اپنے ذاتی کلینک نہیں ہیں اور جو گاؤں کے ستر فیصد مریضوں کا، ہسپتال پہنچنے سے پہلے اپنے گھروں پر مفت علاج کرتے ہیں۔
آپ معصوم بچیوں پر ہونے والے ظلم و زیادتی پر تبصرہ تو کرتے ہیں، لیکن گٹر کے نالوں، پارکوں کے بینچوں، کچرے کے ڈھیروں، اور ہوٹلوں و ہسپتالوں میں لاوارث چھوڑ دیے جانے والے معصوم بچوں کو سنبھالنے اور ان کی پرورش کرنے والے ایدھی فاؤنڈیشن جیسے اداروں کو بھول جاتے ہیں۔آپ مدرسے میں بچوں کے ساتھ ناخوشگوار واقعات کو سوشل میڈیا پر اچھالتے ہیں، لیکن 22 ہزار مدارس میں موجود ان کروڑوں معصوم بچوں کے بارے میں کبھی نہیں سوچتے جنہیں والدین اور ریاست پالنے سے قاصر تھے، تو مدارس نے انہیں پناہ دی۔آپ اپنے بچے کے مستقبل کے بارے میں اس قدر پریشان ہیں کہ ریاست کو دن رات گالیاں دیتے ہیں، لیکن کبھی ان یتیم خانوں کے بارے میں نہیں سوچتے جو لاکھوں بچوں کی مفت تعلیم اور پرورش کی ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہیں۔آپ کو اسکول سے باہر 2.5 کروڑ بچے نظر آتے ہیں، لیکن یتیم خانوں اور فلاحی اداروں میں پناہ گزین لاکھوں بچے نظر نہیں آتے۔آپ کو فرقہ واریت شیعہ، سنی، وہابی یا دیوبندی کی بنیاد پر ہونے والی خون خرابی تو نظر آتی ہے، لیکن زلزلے، سیلاب اور دھماکوں میں زخمیوں کو بغیر کسی تعصب کے خون کا عطیہ دینے والے انسان نظر نہیں آتے۔آپ کو کولر سے بندھے ہوئے گلاس کی بے بسی تو نظر آتی ہے، لیکن مخلوقِ خدا کی سہولت کے لیے فی سبیل اللہ کولر لگانے والا شخص یاد نہیں آتا۔آپ کو درگاہوں پر ہونے والی خرافات تو نظر آتی ہیں، لیکن ان درگاہوں پر لاکھوں غریبوں کے لیے تقسیم ہونے والا مفت کھانا نظر نہیں آتا۔
آپ کو خواتین پر تیزاب پھینکنے والے درندے تو نظر آتے ہیں، لیکن بسوں اور ویگنوں میں خواتین کو اپنی نشست دے کر خود دروازے پر لٹک کر سفر کرنے والا بااخلاق جوان نظر نہیں آتا۔آپ کو دھماکوں میں بکھرے لاشیں نظر آتی ہیں، لیکن وہ ایمبولینس ڈرائیور اور امدادی ملازمین نظر نہیں آتے جو آگ، گولی اور دہشت گردی کی پروا کیے بغیر چوبیس گھنٹے ڈیوٹی دے رہے ہوتے ہیں۔عزیز دوستو!
نفرت ملک سے نہیں بلکہ خراب سسٹم سے کرو۔ میں مانتا ہوں کہ اس ملک ہزاروں مسائل ہیں کرپشن ہے، مہنگائی ہے، ناانصافی اور امن و امان کے مسائل ہیں۔ لیکن یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اگر کسی ادارے میں دس افسران کرپٹ ہیں، تو گیارہواں ایماندار بھی موجود ہے۔اگر کچھ تاجر مافیا بن چکے ہیں، تو کچھ خدا پرست بھی ہیں۔ اگر معاشرے میں برائی پھیلانے والے لوگ ہیں، تو ایسے مثبت لوگ بھی موجود ہیں جو مظلوموں کے لیے پورے معاشرے سے لڑ رہے ہوتے ہیں۔
جہاں برے لوگ ہیں وہاں اچھے لوگ بھی موجود ہیں، لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہمارے ذہن برائی دیکھنے اور منفی باتیں سننے کے عادی ہو چکے ہیں۔ ہمیں ہر چیز میں خرابی نظر آنے لگی ہے، اور ہم اس قدر منفی ہو چکے ہیں کہ اگر کوئی شخص مثبت سوچے یا کام کرے، تو ہم اس پر بھی شک کرنے لگتے ہیں۔عزیز دوستو!
ہم مڈل کلاس کے لوگ ہیں؛ ہمارے آباؤ اجداد نے اسی سر زمین پر زندگی گزاری، ہم بھی اسی ملک میں رہ رہے ہیں اور ہماری آنے والی نسلوں کا مسکن بھی یہی ہوگا۔ باقی جن کا یہ ملک نہیں تھا، وہ کب کے اپنے پورے خاندان کے ساتھ باہر منتقل ہو چکے ہیں۔ ان چند فیصد لوگوں کی وجہ سے ہم کیوں اس ملک کو برا بھلا کہیں؟ کیوں اپنے وطن سے بدظن ہوں؟ ہمیں اس نظام سے شکایت ہے، تو ہم خود اس نظام کو بدل سکتے ہیں اپنی نئی سوچ، مثبت فکر اور تعلیم کے ذریعے ۔یہ تحریر آپ کو صرف جذباتی کرنے کے لیے نہیں بلکہ ایک حقیقت کا احساس دلانے کے لیے ہے، کیونکہ اس ملک میں ہم نے ہی رہنا ہے۔ باقی اگر آپ نے جنگ لڑنی ہے تو اس کے خراب سسٹم اور مافیاز کے خلاف لڑیں۔اور ان شاء اللہ وہ دن دور نہیں جب ہم سب اس ملک کی قدر کریں گے اور اپنے اپنے حصے کا چراغ جلائیں گے، تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ اور یقیناً ناامیدی کفر ہے!

نوٹ:
اگر آپ اس ملک کو اپنا سمجھتے ہیں، تو اس تحریر کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ یہ ہر شخص تک پہنچ سکے اور ہر کوئی اپنے حصے کا چراغ جلا سکے۔

جزاکم اللہ خیراً۔

پاکستان ہمیشہ پائندہ باد!

Hate to Hope:

50% LikesVS
50% Dislikes

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں