Does Divorce Happen 0

طلاق کیوں ہوتی ہے؟ رشتے ٹوٹنے سے پہلے ہمیں کیا بچانا ہوگا. محمد عابد رشید
شادی صرف دو افراد کا نہیں بلکہ دو خاندانوں، دو سوچوں اور دو زندگیوں کا سفر ہے۔ یہ رشتہ محبت، اعتماد، برداشت اور احترام سے مضبوط ہوتا ہے، مگر جب محبت کی جگہ انا، برداشت کی جگہ ضد اور اعتماد کی جگہ شک لے لے تو مضبوط رشتے بھی کمزور پڑنے لگتے ہیں۔
طلاق عموماً کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں ہوتی۔ گھریلو ناچاقی، ایک دوسرے کو وقت نہ دینا، مالی مشکلات، بے روزگاری، غصہ، بداعتمادی، جھوٹ، نشہ، تشدد اور رشتہ داروں کی غیرضروری مداخلت جیسے عوامل میاں بیوی کے درمیان فاصلے پیدا کرتے ہیں۔ لیکن سب سے خطرناک مرحلہ وہ ہوتا ہے جب گفتگو ختم ہو جاتی ہے۔
اختلاف ہر رشتے کا حصہ ہے، مگر اختلاف کو انا کی جنگ بنا دینا مسئلہ ہے۔ میاں بیوی کو ایک دوسرے کو شکست دینے کے بجائے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایک دوسرے کی بات سننا، احساسات کو سمجھنا اور غلطی تسلیم کرنا کمزوری نہیں بلکہ رشتے کو مضبوط بنانے کی علامت ہے۔
والدین اور رشتہ داروں کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ ہر ازدواجی اختلاف کو خاندانوں کا مسئلہ بنا دینا مناسب نہیں۔ ضرورت کے وقت مثبت اور غیرجانبدارانہ رہنمائی ہونی چاہیے، جبکہ میاں بیوی کی نجی زندگی اور فیصلوں کا احترام بھی ضروری ہے۔
طلاق کی شرح کم کرنے کے لیے شادی سے پہلے نوجوانوں کو صرف رسومات اور اخراجات نہیں بلکہ ازدواجی ذمہ داری، برداشت، مالی منصوبہ بندی، باہمی احترام اور اختلاف حل کرنے کا شعور دینا ہوگا۔ اسی طرح شدید اختلاف کی صورت میں سمجھدار افراد، مستند کونسلر یا ماہرِ نفسیات سے بروقت رہنمائی لینا بھی مفید ہو سکتا ہے۔
تاہم یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ رشتہ بچانے کا مطلب ظلم برداشت کرنا نہیں۔ مارپیٹ، دھمکیاں، مسلسل تذلیل اور ذہنی یا جسمانی تشدد کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ جہاں ظلم موجود ہو وہاں تحفظ اور عزت کو اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
آخرکار رشتے صرف وعدوں سے نہیں، رویوں سے قائم رہتے ہیں۔ اگر میاں بیوی ایک دوسرے کو سمجھنے، سننے اور عزت دینے کی کوشش کریں تو بہت سے گھر ٹوٹنے سے بچ سکتے ہیں۔
رشتہ ٹوٹنے کے بعد پچھتاوے سے بہتر ہے کہ ٹوٹنے سے پہلے محبت، اعتماد، گفتگو اور احترام کو بچا لیا جائے۔
تحریر: محمد عابد رشید

Does Divorce Happen

50% LikesVS
50% Dislikes

طلاق کیوں ہوتی ہے؟ رشتے ٹوٹنے سے پہلے ہمیں کیا بچانا ہوگا. محمد عابد رشید

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں