Disabled Daughter 0

اپاہج بیٹی !! طہٰ علی تابش بلتستانی
آج کی یہ تحریر یقیناً ایک ایسی درد ناک حقیقت پر مبنی ہے کہ دردِ دل رکھنے والے شاید اسے پڑھ کر رو پڑیں۔ حال ہی میں میری بہن ہسپتال میں داخل تھیں، ڈاکٹروں نے آپریشن کا مشورہ دیا تو ہمیں مجبوراً انہیں داخل کروانا پڑا۔

الحمد للہ! آپریشن کامیاب رہا اور ڈسچارج ہونے تک انہیں تین دن ہسپتال میں ہی رکھا گیا۔ اسی وجہ سے مجھے بھی کئی کئی گھنٹے ہسپتال میں گزارنے پڑے۔

وہاں میں روزانہ بہت کچھ دیکھتا تھا؛ ہر شخص کی ایک الگ کہانی تھی۔ ایک شخص پچھلے سترہ دنوں سے ہسپتال کی چھت پر سو رہا تھا کیونکہ کہیں اور بیٹھنے یا سونے کی جگہ نہیں تھی۔ اسی طرح ایک شخص شگر کے بہت دور دراز علاقے سے آیا ہوا تھا اور پیسے نہ ہونے کے باعث دن میں صرف ایک وقت کی روٹی کھاتا تھا۔

لیکن ان تمام واقعات میں سے ایک واقعہ ایسا تھا جس نے مجھے قلم اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو گئے، میرا ذہن اسی کردار کے گرد گھومنے لگا اور میں دل ہی دل میں دعا کرنے لگا کہ اللہ تعالیٰ بیٹیوں کے والدین کو سلامت رکھے۔

یہ کردار ایک انتہائی نحیف اور کمزور خاتون کا تھا۔ شاید تقدیر کا فیصلہ تھا یا کسی حادثے کا نتیجہ کہ وہ دونوں پاؤں سے محروم تھیں۔ وہ بچوں کی طرح اپنے ہاتھوں کے سہارے گھٹنوں کے بل چل رہی تھیں۔

میں کرسی پر بیٹھا یہ منظر دیکھ رہا تھا. پہلے تو میں نے سوچا کہ شاید بیمار ہوں گی، چکر آ رہے ہوں گے، اسی لیے اس طرح چل رہی ہیں۔

لیکن غور کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ معذور تھیں۔ ان کے ارد گرد ہزاروں انسان نما حیوان موجود تھے جو محض تماشائی بنے ہوئے تھے۔ لوگ ان پر ترس تو کھا رہے تھے لیکن اس بہن کی مدد کے لیے کوئی آگے نہیں بڑھ رہا تھا۔

میں اس بہن کو سلام پیش کرتا ہوں کہ وہ کسی سے مدد کی بھیک نہیں مانگ رہی تھیں بلکہ اپنی مدد آپ کے تحت چل رہی تھیں۔ جب میں نے یہ منظر دیکھا تو میرے قدم بے اختیار ان کی طرف بڑھ گئے۔ میں نے ان کے پاس نیچے بیٹھ کر سلام کیا اور کہا: “میری بہن! آپ تھوڑا انتظار کریں، میں آپ کے لیے ویل چیئر لے کر آتا ہوں۔” وہ رکیں اور بولیں: “خدا تمہاری مدد کرے!”
میں فوراً وہاں سے گیا اور ایک ویل چیئر لے کر آیا۔ انہیں اس پر بٹھایا اور پوچھا: “بہن! آپ نے کہاں جانا ہے؟”

انہوں نے بتایا: “بھائی! میں نے میل وارڈ میں جانا ہے، وہاں میرے والد صاحب بیمار ہیں۔ ڈاکٹروں نے کچھ دوائیاں لکھ کر دی تھیں، بس وہی لینے گئی تھی۔”

یہ سن کر میرے قدم رک گئے اور میں خاموش ہو گیا۔ میرے پاس مزید کوئی سوال نہیں تھا۔ انہوں نے خود ہی آگے بتایا: “میرے تین بھائی ہیں جو شادی کے بعد الگ ہو چکے ہیں۔ ایک ابھی کویت میں ہے اور دو راولپنڈی میں اپنی فیملیز کے ساتھ مقیم ہیں۔ اب گھر میں صرف میں، میری والدہ اور میرے ابو ہیں۔ والدہ خود بیمار ہیں، اس لیے وہ ہسپتال نہیں آ سکیں اور مجھے اپنے والد صاحب کے پاس رکنا پڑا۔ بس تقدیر نے پاؤں سے محروم کر دیا ہے، اس لیے تھوڑی بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔”

میں جذباتی طور پر ٹوٹ چکا تھا۔ الفاظ میرا ساتھ نہیں دے رہے تھے اور میں اپنے آنسوؤں کو حلق میں ضبط کیے بیٹھا تھا۔ میں نے جلدی سے انہیں خدا حافظ کہا اور وہاں سے نکل گیا۔
اب کی بار میری آنکھوں میں آنسو تھے، دل ٹوٹا ہوا تھا اور پہلی بار مرد ہونے پر شرمندگی محسوس ہو رہی تھی۔

شادی کے بعد اکثر ہمیں صرف بیوی کے حقوق یاد رہتے ہیں؛ ہم ماں باپ کو تنہا چھوڑ کر اسلام آباد اور راولپنڈی جیسے شہروں میں سیٹل ہو جاتے ہیں اور ہمیں صرف ایک ہی حق یاد رہتا ہے بیوی کا حق۔

یہ ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت ہے کہ شادی کے بعد بیٹے بہت بدل جاتے ہیں۔ ان کے لیے محض اپنی بیوی اور بچے ہی عزیز رہ جاتے ہیں۔

پھر جب مکافاتِ عمل کی گھڑیاں تیزی سے گھومنے لگتی ہیں تو ہم ماتم کر رہے ہوتے ہیں۔ خود پاکستان میں ایسی ہزاروں کہانیاں موجود ہیں جہاں بچے باہر اپنی بیگمات کے ساتھ سیٹل ہیں اور ماں باپ کو اولڈ ہاؤسز (اولڈ ایج ہومز) میں بھیج دیا گیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ زندگی کی گھڑی بڑی تیزی سے گھوم رہی ہے؛ اس وقت آپ کے چہرے کا رنگ زرد نہیں ہونا چاہیے جب آپ کے اپنے بچے بھی آپ کو اولڈ ہاؤسز میں بھیج رہے ہوں گے۔
اور جن لوگوں کو بیٹیاں بوجھ لگتی ہیں، وہ اس واقعے سے سبق حاصل کریں۔ وقت آنے پر آپ کی بیٹی ہی آپ کے لیے بیٹا بن جاتی ہے، جبکہ وہ بیٹے جن پر آپ لاکھوں روپے خرچ کر کے انہیں انجینئر، ڈاکٹر، وکیل یا پروفیسر بناتے ہیں، وہ کل اپنے بہتر مستقبل کی دوڑ میں آپ کو تنہا چھوڑ جاتے ہیں۔

لہذا بیٹیوں کے معاملے میں تفریق نہ کریں۔ بیٹی اگر اپاہج بھی ہو تو وہ زندگی کے آخری لمحات میں باپ کے سرہانے موجود ہوتی ہے۔
۔۔
تحریر پسند آئے تو آگے شیئر ضرور کریں۔

Disabled Daughter

50% LikesVS
50% Dislikes

اپاہج بیٹی !! طہٰ علی تابش بلتستانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں