Column: The Veil of Wealth 0

کالم : دولت کا پردہ. لیکچرار عزت علی پارا چنار
انسان کی اصل پہچان اس کی دولت، لباس یا ظاہری وجاہت نہیں بلکہ اس کا کردار، اخلاق اور باطن ہے۔ مگر معاشرہ اکثر انسان کو اس کے کردار کے آئینے میں نہیں، دولت کے ترازو میں تولتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات دولت انسان کے عیوب پر ایسا پردہ ڈال دیتی ہے کہ خامیاں بھی کمال دکھائی دینے لگتی ہیں اور کمزوریاں بھی وجاہت کا لباس پہن لیتی ہیں۔
دولت بذاتِ خود کوئی عیب نہیں، یہ زندگی کی ضرورت بھی ہے اور بہت سی نیکیوں کا وسیلہ بھی بن سکتی ہے۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں دولت کردار کا متبادل بن جائے۔ جب جیب بھاری ہو تو لہجے کی تلخی کو لوگ درگزر کر دیتے ہیں، بد اخلاقی کو مصروفیت کا نام دے دیتے ہیں، تکبر کو خود اعتمادی سمجھ لیتے ہیں اور نااہلی کو اثر و رسوخ کی چادر میں چھپا دیتے ہیں۔ یوں دولت انسان کے عیوب کو مٹاتی نہیں، صرف ان کی نمائش کم کر دیتی ہے۔
ایک غریب شخص کی معمولی لغزش بھی لوگوں کی نگاہ میں بڑی خطا بن جاتی ہے، لیکن صاحبِ ثروت کی بڑی سے بڑی کوتاہی کو بھی لوگ مصلحت، مجبوری یا حالات کا نام دے کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہی معاشرتی رویہ دولت کو ایک ایسے پردے میں بدل دیتا ہے جس کے پیچھے انسان کا اصل چہرہ چھپ جاتا ہے۔ غریب کی خاموشی کو کمزوری اور امیر کی خاموشی کو وقار سمجھا جاتا ہے، غریب کا اعتماد گستاخی اور امیر کا تکبر رعب کہلاتا ہے۔
دولت صرف عیوب ہی نہیں چھپاتی، کبھی کبھی عیب کو خوبی کا روپ بھی دے دیتی ہے۔ جس شخص میں علم کم ہو، دولت اسے محفل کا مرکز بنا دیتی ہے ، جس میں اخلاق کی کمی ہو، مال و منصب اسے عزت کے القاب عطا کر دیتے ہیں ، جس میں صلاحیت نہ ہو، تعلقات اور وسائل اس کی راہ ہموار کر دیتے ہیں۔ یوں معاشرہ شخصیت کو نہیں، اس کے گرد موجود دولت کے ہالے کو دیکھنے لگتا ہے۔
لیکن دولت کا یہ پردہ ہمیشہ قائم نہیں رہتا۔ وقت ایک ایسا آئینہ ہے جو ہر چہرے سے نقاب اتار دیتا ہے۔ جب دولت کا چراغ بجھتا ہے، منصب چھن جاتا ہے اور مفاد رکھنے والے لوگ ایک ایک کرکے دور ہونے لگتے ہیں تو انسان اپنے اصل وجود کے ساتھ تنہا رہ جاتا ہے۔ تب معلوم ہوتا ہے کہ جسے لوگ عزت سمجھ رہے تھے، وہ دراصل دولت کا اثر تھا ، جسے شخصیت کا وقار سمجھا گیا، وہ محض وسائل کی چمک تھی۔
اصل دولت انسان کا کردار ہے۔ مال انسان کو آسائش دے سکتا ہے، مگر سکون نہیں، لوگوں کو قریب لا سکتا ہے، مگر مخلص نہیں بنا سکتا ، دروازے کھول سکتا ہے، مگر دلوں میں جگہ نہیں خرید سکتا۔ دلوں پر حکومت دولت سے نہیں، اخلاق سے ہوتی ہے۔ انسان کے جانے کے بعد اس کی جائیداد نہیں، اس کا کردار لوگوں کی یاد میں زندہ رہتا ہے۔ہمیں چاہیے کہ دولت کو اپنی شناخت بنانے کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا وسیلہ بنائیں۔ ایسا مال کیا جو انسان کو محل تو دے مگر محبت سے محروم کر دے؟ ایسی شہرت کیا جو نام تو بلند کر دے مگر کردار کو پست کر دے؟ حقیقی کامیابی یہ ہے کہ انسان کے پاس دولت بھی ہو اور انکسار بھی، اختیار بھی ہو اور انصاف بھی، شہرت بھی ہو اور کردار بھی۔ آخرکار دولت صرف عیوب پر پردہ ڈال سکتی ہے، انہیں ختم نہیں کر سکتی۔ کردار ہی وہ آئینہ ہے جس میں انسان کی حقیقی صورت دکھائی دیتی ہے۔ اس لیے دولت کو اپنے چہرے کا نقاب نہیں، اپنے کردار کی تعمیر کا وسیلہ بنانا چاہیے کیونکہ وقت کی گردش میں دولت کم یا زیادہ ہو سکتی ہے، مگر اچھا کردار وہ سرمایہ ہے جو انسان کے بعد بھی اس کا تعارف بن کر زندہ رہتا ہے۔

Column: The Veil of Wealth

50% LikesVS
50% Dislikes

کالم : دولت کا پردہ. لیکچرار عزت علی پارا چنار

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں