محرم الحرام: حق و صداقت، قربانی اور کردار کا پیغام. شاہ حسین شکور
اسلامی سال کا آغاز محرم الحرام کے مقدس مہینے سے ہوتا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں صرف ایک نئے سال کی ابتدا کا احساس نہیں دلاتا بلکہ ماضی کے عظیم واقعات سے سبق سیکھنے اور اپنی زندگی کا جائزہ لینے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ محرم الحرام صبر، استقامت، ایثار اور حق کے لیے ثابت قدم رہنے کا پیغام دیتا ہے۔
تاریخِ اسلام میں واقعۂ کربلا ایک ایسا عظیم باب ہے جو رہتی دنیا تک انسانیت کو روشنی دکھاتا رہے گا۔ میدانِ کربلا میں حضرت امام حسینؑ اور ان کے جانثار ساتھیوں نے ظلم و ناانصافی کے مقابلے میں حق، اصول اور سچائی کا ساتھ دیتے ہوئے عظیم قربانی پیش کی۔ یہ قربانی ہمیں بتاتی ہے کہ طاقت اور تعداد ہمیشہ کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتیں، بلکہ بلند کردار اور سچے اصول ہی انسان کو تاریخ میں زندہ رکھتے ہیں۔
کربلا کا اصل پیغام یہی ہے کہ انسان کو مشکل حالات میں بھی اپنے اصولوں، انصاف اور سچائی کو نہیں چھوڑنا چاہیے۔ حضرت امام حسینؑ کی جدوجہد ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ باطل کے سامنے خاموشی اختیار کرنا آسان ہو سکتا ہے، لیکن حق کی حفاظت کے لیے حوصلہ اور قربانی درکار ہوتی ہے۔
علامہ اقبالؒ نے اسی جذبۂ قربانی اور عظمتِ کردار کو خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے:
شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ مالِ غنیمت، نہ کشور کشائی
یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عظیم مقصد کے لیے دی جانے والی قربانی دنیاوی فائدوں سے کہیں بلند ہوتی ہے۔ کربلا ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ عزت، اصول اور حق کی حفاظت ہی حقیقی کامیابی ہے۔
آج کے دور میں جب معاشرہ مختلف مسائل، اختلافات اور چیلنجز سے گزر رہا ہے، ہمیں محرم الحرام کے پیغام کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے رویوں میں برداشت، اپنے معاملات میں دیانت داری اور اپنے معاشرے میں بھائی چارے کو فروغ دینا ہوگا۔
اگر ہم کربلا کے پیغام کو صرف الفاظ تک محدود رکھنے کے بجائے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا لیں تو ہم ایک بہتر اور پرامن معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
محرم الحرام ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ حق کی راہ پر چلنے والے کردار کبھی ختم نہیں ہوتے، بلکہ ان کی قربانیاں آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بن جاتی ہیں۔
تحریر: شاہ حسین شکور ،بلتستانی
column in urdu Truth, Sacrifice, and Moral Character




