ہم جیسے ہیں ایسے کیوں ہیں؟ فکری کالم، بتول فاطمہ
ہم تکاثر کرنے والے، جمع کرنے والے، مال و دولت پر وقت صرف کرنے والے، اپنی زندگیاں کھپا دینے والے کیوں ہیں؟ قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تکاثر نے ہمیں غافل کر دیا، مگر ہم پھر بھی جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اس دنیا میں دل لگانے والے، اسی دنیا میں جان اور عمر لگا دینے والے، آخرت کی نشانیوں سے بے خبر کیوں ہیں؟
ہم مسلمان گھرانوں میں پیدا ہو کر قرآن و سنت پر عمل نہ کرنے والے، ادھ مرے مسلمان کیوں ہیں؟ زبان پر اسلام، ہاتھ میں قرآن، مگر کردار میں انصاف کہاں ہے؟ ہم اشرف المخلوقات، ظالم حکمران، ظالم مرد اور ظالم گھر کے افراد کیوں ہیں؟ اپنے سے کمزور انسان کو اس پر ظلم کرنے والے بے حس کیوں ہیں؟
ہم اپنے جسموں پر انسانی لباس اوڑھے ہوئے ہیں، مگر اندر سے بے حد حیوان، سفاک کیوں ہیں؟ قرآن ہمیں بار بار انصاف کا حکم دیتا ہے، مگر ہم بار بار ناانصافیاں کرتے ہیں۔ حقوق العباد، حقوق الناس اور حقوق اللہ میں ہم اتنے لاعلم کیوں ہیں؟ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ کسی کا حق دبانا صرف انسان کا حق نہیں، بلکہ اپنے رب کے سامنے جواب دہی ہے۔
جن رسم و رواج سے ہمیں چھڑانے کے لیے انبیائے کرام بھیجے گئے، آسمانی کتابیں نازل ہوئیں، ہم انہی رسموں سے چمٹے ہوئے، انہی زنجیروں کے اسیر، حقیقتوں سے منہ موڑے ہوئے کیوں ہیں؟ ہم اپنے اندر بیماریاں پیدا کیے ہوئے، انجان بن جانے والے کیوں ہیں؟ رشتوں کو ڈس دینے والے، رشتے توڑنے والے، کسی انسان کی زندگی برباد کر دینے والے بے رحم کیوں ہیں؟
ہم محبت کے نام پر مطلب نکالنے والے، محبت کی آڑ میں دوسروں کو برہنہ کرنے والے، کسی کی عزت کو تماشہ بنانے والے کیوں ہیں؟ بے جان جسموں کو نوچ ڈالنے والی گدھوں کی طرح اندر سے مردہ ضمیر والے کیوں ہیں؟
کئی دور گزر گئے۔ ہم سنتے رہے کہ انسان اشرف المخلوقات ہے، مگر اب تو جانور بھی ہم سے گھبراتے ہیں۔ ہم انسان ہیں یا حیوان؟
مال جمع کر کے قارون بننے والے، لوگوں پر ظلم و ستم کرنے والے، دکھاوا کرنے والے، فرعون جیسے کیوں ہیں؟ سامری کی طرح بہکا دینے والے، لوگوں کے ذہن بدلنے والے کیوں ہیں؟
ہم وہ کیوں ہیں جو لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر ان کے اعتماد کو توڑتے، ان کے ساتھ جنسی زیادتی کرتے اور انہیں تنہا چھوڑ دیتے ہیں؟ ہم وہ کیوں ہیں جن کے اندر بچوں کو دیکھ کر شفقت کے بجائے وحشت جاگ جاتی ہے، جو معصوم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کر کے انہیں بلیک میل کرتے ہیں اور ان کی معصومیت کو اپنی خواہش کا شکار بناتے ہیں؟
شاید مسئلہ ہماری دنیا نہیں، ہمارے دل ہیں؛ ہم قرآن کو پڑھتے ہیں، مگر اسے کردار میں اتارتے نہیں۔ ہم رب کو مانتے ہیں، مگر رب کے احکام بھول جاتے ہیں۔
ہم نے انسانیت کہاں کھو دی؟ ہمیں اشرف المخلوقات کہا گیا تھا، درندہ بننے کے لیے نہیں پیدا ہوئے۔ نہ جانے ہم جیسے ہیں، ایسے کیوں ہیں؟
Thought-Provoking Column
0



