کیا آپ جانتے ہیں کہ 1993 میں دیوسائی کے وسیع میدانوں میں ہمالیائی بھورے ریچھوں کی تعداد محض 19 رہ گئی تھی، جو دہائیوں کی انتھک کوششوں کے بعد اب بڑھ کر 78 تک پہنچ چکی ہے؟ یہ اعداد و شمار جہاں جنگلی حیات کے تحفظ کی کامیابی کا ثبوت ہیں، وہاں اس نازک ماحولیاتی نظام کی حساسیت کو بھی واضح کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سطح سمندر سے 4,114 میٹر کی اوسط بلندی پر واقع اس “دیوؤں کی سرزمین” کا سفر ہر مہم جو سیاح کی خواہش ہوتی ہے، مگر دشوار گزار راستوں کا خوف، بلندی کی وجہ سے طبیعت کی خرابی اور جنگلی حیات سے متعلق لاعلمی اکثر اس تجربے کو پریشان کن بنا دیتی ہے۔
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!اگر آپ بھی ان چیلنجز کی وجہ سے ہچکچاہٹ کا شکار ہیں، تو یقین جانیے کہ درست معلومات اور شعور ہی ایک یادگار مہم جوئی کی بنیاد ہے۔ اس دیوسائی نیشنل پارک گائیڈ کا مقصد آپ کو وہ تمام مستند تفصیلات فراہم کرنا ہے جو آپ کے سفر کو نہ صرف محفوظ بلکہ ماحولیاتی طور پر ذمہ دارانہ بھی بنا سکیں۔ اس تحریر میں ہم آپ کو دیوسائی پہنچنے کے بہترین راستوں، نایاب ہمالیائی بھورے ریچھ کے مشاہدے کے آداب اور 2026 کے تازہ ترین سفری ضوابط سے آگاہ کریں گے، تاکہ آپ دنیا کی اس دوسری بلند ترین سطح مرتفع کے حسن کو اس کے تمام تر وقار کے ساتھ دیکھ سکیں۔
اہم نکات
- دیوسائی کا مطلب ‘دیوؤں کی زمین’ ہے، یہ دنیا کی دوسری بلند ترین سطحِ مرتفع ہے جو 3000 مربع کلومیٹر پر محیط ایک منفرد جغرافیائی خطہ ہے۔
- اس دیوسائی نیشنل پارک گائیڈ کی مدد سے آپ وسط جولائی سے ستمبر کے آغاز تک اسکردو کے راستے اپنے سفر کی بہترین منصوبہ بندی کر سکتے ہیں۔
- نایاب ہمالیائی بھورے ریچھ کے مشاہدے اور شاؤسر جھیل کے سحر انگیز مناظر کو دیکھنے کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر سے آگاہی حاصل کریں۔
- بلندی کی وجہ سے ہونے والی طبیعت کی خرابی (Altitude Sickness) سے بچنے کے عملی طریقے اور ماحول دوست سیاحت کے رہنما اصول جانیے۔
- علاقے کی معاشی ترقی میں ذمہ دارانہ سیاحت کے کردار اور مقامی قوانین کی پاسداری کی اہمیت کو تفصیل سے سمجھیں۔
دیوسائی نیشنل پارک: دنیا کی بلند ترین سطحِ مرتفع کا تعارف
دیوسائی کا نام سنتے ہی ذہن میں ایک ایسی طلسماتی جگہ کا تصور ابھرتا ہے جہاں زمین آسمان سے باتیں کرتی ہے۔ مقامی زبان میں دیوسائی کا لفظی مطلب ‘دیوؤں کی زمین’ ہے، اور یہاں کی لامتناہی وسعت کو دیکھ کر یہ نام بالکل سچ معلوم ہوتا ہے۔ یہ سطح مرتفع تقریباً 3,584 مربع کلومیٹر کے وسیع رقبے پر پھیلی ہوئی ہے، جو اسے تبت کے بعد دنیا کی دوسری بلند ترین ہموار سطح بناتی ہے۔ اس دیوسائی نیشنل پارک گائیڈ کے ذریعے ہم اس خطے کی اہمیت کو محض ایک سیاحتی مقام کے طور پر نہیں، بلکہ ایک عالمی ماحولیاتی اثاثے کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
1993 میں اسے نیشنل پارک کا درجہ دینے کا بنیادی مقصد یہاں کی نایاب جنگلی حیات، خصوصاً ہمالیائی بھورے ریچھ کی نسل کو معدومیت سے بچانا تھا۔ آج یہ پارک گلگت بلتستان کی سیاحتی معیشت میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ سال 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق، گلگت بلتستان میں تقریباً دس لاکھ ملکی اور بیس ہزار سے زائد غیر ملکی سیاحوں کی آمد ریکارڈ کی گئی، جس میں دیوسائی کا حصہ انتہائی نمایاں رہا۔ یہ مقام نہ صرف محققین کے لیے ایک تجربہ گاہ ہے بلکہ فطرت کے شیدائیوں کے لیے سکون کا گہوارہ بھی ہے۔
جغرافیائی محلِ وقوع اور بلندی
جغرافیائی طور پر یہ منفرد مقام اسکردو، استور اور کھرمنگ کے اضلاع کے سنگم پر واقع ہے۔ دیوسائی نیشنل پارک کا تعارف اس کی اوسط بلندی 4,114 میٹر (13,497 فٹ) بتاتا ہے، جہاں آکسیجن کی کمی اور موسم کی شدت ایک عام بات ہے۔ مقامی بلتی باشندے اسے ‘غبیارسہ’ یعنی موسم گرما کی جگہ کہتے ہیں کیونکہ سال کے آٹھ ماہ یہاں برف کی دبیز چادر بچھی رہتی ہے۔ حالیہ برسوں میں پارک کی انتظامی حدود کو مزید واضح کیا گیا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی انسانی مداخلت کو روک کر اس کے قدرتی حسن کو برقرار رکھا جا سکے۔
تاریخی اور افسانوی پس منظر
دیوسائی کی لوک داستانیں اتنی ہی قدیم ہیں جتنا کہ یہ پہاڑ خود ہیں۔ قدیم روایات کے مطابق یہاں کبھی دیو مالائی مخلوق بستی تھی، جس کی وجہ سے عام انسان یہاں قدم رکھنے سے کتراتے تھے۔ تاریخی طور پر یہ علاقہ بلتستان اور کشمیر کے درمیان ایک اہم تجارتی گزرگاہ کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے، جہاں سے قافلے لداخ اور وسطی ایشیا تک جاتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ قدیم راستہ ایک محفوظ پناہ گاہ میں تبدیل ہو گیا، جہاں اب انسانوں اور فطرت کے درمیان ایک نازک توازن برقرار رکھنے کی شعوری کوششیں کی جا رہی ہیں۔
- رقبہ: 3,584 مربع کلومیٹر
- درجہ: نیشنل پارک (قائم شدہ 1993)
- اہمیت: ہمالیائی بھورے ریچھ کی واحد مستحکم پناہ گاہ
سفر کی منصوبہ بندی: دیوسائی کب اور کیسے جائیں؟
دیوسائی کا سفر کوئی عام پکنک نہیں بلکہ ایک باقاعدہ مہم جوئی ہے جس کے لیے وقت کا صحیح انتخاب اور مکمل تیاری ناگزیر ہے۔ عام طور پر پارک سیاحوں کے لیے 10 جون سے اکتوبر کے آخری ہفتے تک کھلا رہتا ہے، لیکن اگر آپ یہاں کے مشہور جنگلی پھولوں اور ہریالی کا بھرپور نظارہ کرنا چاہتے ہیں تو وسط جولائی سے اگست کے آخر تک کا وقت بہترین ہے۔ یہ وہی عالمی اہمیت کا حامل مقام ہے جو اپنی منفرد خصوصیات کی بنا پر یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ کی عبوری فہرست میں بھی شامل ہے۔ اسکردو سے دیوسائی پہنچنے کے لیے صدپارہ جھیل کا راستہ سب سے زیادہ مستعمل ہے، جہاں سے تقریباً دو گھنٹے کی مسافت پر آپ پارک کی حدود میں داخل ہو جاتے ہیں۔
دوسری جانب استور سے براستہ چلم چوکی بھی یہاں پہنچا جا سکتا ہے، جو کہ طویل مگر انتہائی خوبصورت راستہ ہے۔ ایک اہم بات جو اس دیوسائی نیشنل پارک گائیڈ میں واضح کرنا ضروری ہے وہ گاڑی کا انتخاب ہے۔ یہاں کے پتھریلے اور کچے راستوں کے لیے صرف فور بائی فور (4×4) جیپ ہی موزوں ہے۔ عام گاڑیاں نہ صرف راستے میں خراب ہو سکتی ہیں بلکہ آپ کے لیے خطرناک بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔ یاد رہے کہ جولائی اور اگست میں یہاں سیاحوں کا رش زیادہ ہوتا ہے، اس لیے اپنی سواری کا انتظام پہلے سے کر لینا بہتر ہے۔
موسم اور موزوں لباس
دیوسائی میں موسم پل بھر میں بدلتا ہے۔ دھوپ جتنی تیز ہوتی ہے، بادل آتے ہی سردی اتنی ہی شدید ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ جولائی میں بھی درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گر سکتا ہے۔ سیاحوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ساتھ گرم جیکٹس، واٹر پروف کوٹ اور اونی ٹوپیاں لازمی رکھیں۔ اس کے علاوہ بلندی پر سورج کی شعاعیں جلد کو متاثر کر سکتی ہیں، اس لیے سن بلاک اور معیاری چشمے کا استعمال بھی ضروری ہے۔
لاجسٹکس اور قیام و طعام
پارک کے اندر قیام کے لیے ‘بڑا پانی’ اور ‘کالا پانی’ کے مقامات کیمپنگ کے لیے موزوں ترین ہیں۔ اگرچہ وہاں کچھ عارضی ڈھابے موجود ہوتے ہیں، لیکن بہتر ہے کہ آپ اپنی ضرورت کا خشک راشن اور پینے کا صاف پانی ساتھ رکھیں۔ مقامی گائیڈز کی خدمات حاصل کرنا ایک دانشمندانہ فیصلہ ہے کیونکہ وہ نہ صرف راستوں سے واقف ہوتے ہیں بلکہ جنگلی حیات کے مشاہدے میں بھی آپ کی بہتر رہنمائی کر سکتے ہیں۔ گلگت بلتستان کی سیاحت سے متعلق مزید تازہ ترین خبروں اور اپڈیٹس کے لیے آپ ہماری ویب سائٹ کا مطالعہ کر سکتے ہیں جہاں ہم علاقے کی معاشی اور سیاحتی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

دیوسائی کے قدرتی عجائبات اور نایاب جنگلی حیات
دیوسائی محض ایک وسیع و عریض میدان نہیں بلکہ زندگی سے بھرپور ایک ایسا انوکھا مسکن ہے جہاں فطرت اپنے تمام تر رنگوں کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ اس دیوسائی نیشنل پارک گائیڈ کا ایک اہم پہلو یہاں کی وہ نایاب جنگلی حیات ہے جو دنیا کے دیگر حصوں میں تقریباً ناپید ہو چکی ہے۔ یہاں قدم رکھتے ہی آپ کا استقبال سنہری مرغ (Golden Marmots) کی مخصوص سیٹیوں سے ہوتا ہے جو دھوپ سینکنے کے لیے اپنے بلوں سے باہر نکل آتے ہیں۔ ان کے علاوہ یہاں تبتی بھیڑیا، ہمالیائی آئی بیکس اور سرخ لومڑی بھی پائی جاتی ہے، جو اس بلند ترین سطحِ مرتفع کے ماحولیاتی نظام کو متوازن رکھتے ہیں۔
سب سے زیادہ توجہ کا مرکز ہمالیائی بھورا ریچھ ہے، جس کے تحفظ کے لیے حکومتِ گلگت بلتستان نے غیر معمولی اقدامات کیے ہیں۔ دیوسائی نیشنل پارک کی سرکاری ویب سائٹ کے فراہم کردہ ڈیٹا کے مطابق، ان ریچھوں کی آبادی جو 1993 میں صرف 19 رہ گئی تھی، 2022 تک بڑھ کر 78 تک پہنچ چکی تھی۔ اگرچہ حالیہ رپورٹوں میں یہ تعداد 75 کے قریب ساکن نظر آتی ہے، لیکن یہ اب بھی اس نسل کی بقا کے لیے ایک کامیاب پناہ گاہ ہے۔ یہاں کے رنگ برنگے پھول اور جڑی بوٹیاں، جن کی تعداد 342 سے زائد بتائی جاتی ہے، جولائی اور اگست میں پورے میدان کو ایک خوبصورت قالین میں بدل دیتی ہیں۔
شاؤسر جھیل کا جادو
شاؤسر جھیل، جسے مقامی زبان میں ‘اندھی جھیل’ بھی کہا جاتا ہے، سطح سمندر سے 4,142 میٹر کی بلندی پر واقع دنیا کی بلند ترین جھیلوں میں سے ایک ہے۔ اس جھیل کی سب سے بڑی کشش اس کے شفاف پانی میں نانگا پربت کا عکس ہے، جو صاف موسم میں ایک حیرت انگیز منظر پیش کرتا ہے۔ فوٹوگرافی کے شوقین افراد کے لیے صبح سویرے یا غروبِ آفتاب کا وقت بہترین ہے جب روشنی کی لہریں پانی پر جادوئی اثر پیدا کرتی ہیں۔ نگر ویلی کی جھیلوں کے برعکس، شاؤسر ایک وسیع ہموار میدان کے بیچوں بیچ واقع ہے، جو اسے ایک منفرد جغرافیائی انفرادیت عطا کرتا ہے۔
نایاب ہمالیائی بھورا ریچھ
بھورا ریچھ دیوسائی کے ماحولیاتی نظام میں ایک ‘امبریلا سپیشیز’ کی حیثیت رکھتا ہے، یعنی اس کا تحفظ دیگر کئی اقسام کی زندگیوں کو بچانے کا سبب بنتا ہے۔ سیاحوں کو سختی سے ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ان جانوروں سے کم از کم 100 میٹر کا فاصلہ برقرار رکھیں اور انہیں کھانا کھلانے یا تنگ کرنے سے مکمل گریز کریں۔ انسانی مداخلت اور شور و گل ان کی قدرتی زندگی پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ گلگت بلتستان کی جنگلی حیات کے تحفظ اور سیاحتی پالیسیوں میں ہونے والی نئی تبدیلیوں سے باخبر رہنے کے لیے آپ ہماری ویب سائٹ پر تازہ ترین تجزیے پڑھ سکتے ہیں جو آپ کو علاقے کے زمینی حقائق سے آگاہ رکھیں گے۔
سیاحوں کے لیے اہم ہدایات اور ماحولیاتی ذمہ داری
دیوسائی کا سفر جتنا سحر انگیز ہے، اتنا ہی یہ آپ سے ذمہ داری اور شعور کا تقاضا بھی کرتا ہے۔ ایک مستند دیوسائی نیشنل پارک گائیڈ کا مقصد صرف راستوں کی نشاندہی نہیں، بلکہ اس نازک ماحولیاتی نظام کی بقا کے لیے آپ کو ذہنی اور جسمانی طور پر تیار کرنا بھی ہے۔ سطح سمندر سے غیر معمولی بلندی اور انسانی بستیوں سے دوری جہاں ایک انوکھا ایڈونچر فراہم کرتی ہے، وہاں یہاں چھوٹی سی لاپرواہی بھی بڑے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ یاد رہے کہ دیوسائی محض ایک تفریحی مقام نہیں بلکہ ایک حساس حیاتیاتی پناہ گاہ ہے جہاں انسانی مداخلت کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
صحت اور احتیاطی تدابیر
بلندی کی بیماری (Altitude Sickness) یہاں آنے والے سیاحوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ چونکہ دیوسائی کی اوسط بلندی 4,000 میٹر سے زائد ہے، اس لیے آکسیجن کی کمی سر درد، متلی اور سانس لینے میں دشواری کا باعث بن سکتی ہے۔ اس سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ بتدریج بلندی پر جائیں۔ اسکردو پہنچنے کے فوراً بعد دیوسائی کا رخ کرنے کے بجائے ایک دن قیام کریں تاکہ آپ کا جسم ماحول سے ہم آہنگ ہو سکے۔ سفر کے دوران پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں اور اپنی فرسٹ ایڈ کٹ میں سر درد، پیٹ کی خرابی اور بلندی کی بیماری کی مخصوص ادویات لازمی رکھیں۔ ہنگامی صورتحال میں قریبی طبی امداد کے لیے اسکردو شہر ہی واحد بڑا مرکز ہے، اس لیے اپنی صحت پر سمجھوتہ نہ کریں۔
ماحولیاتی تحفظ: ہمارا فرض
گلگت بلتستان کی حکومت اور محکمہ جنگلی حیات نے دیوسائی کو “پلاسٹک فری زون” قرار دینے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں۔ “گرین ٹورزم” کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے سیاحوں پر لازم ہے کہ وہ اپنا تمام کوڑا کرکٹ، خصوصاً پلاسٹک کی بوتلیں اور ریپرز، واپس شہر لے کر جائیں۔ یہاں کی زمین انتہائی حساس ہے؛ کیمپنگ کے دوران گھاس پر براہ راست آگ جلانا یہاں کی نایاب نباتات کو مستقل طور پر نقصان پہنچا سکتا ہے، لہذا صرف پورٹیبل چولہے استعمال کریں۔
- وائلڈ لائف قوانین: جنگلی جانوروں، خصوصاً بھورے ریچھ کو کھانا کھلانا یا ان کے قریب جانے کی کوشش کرنا نہ صرف خطرناک ہے بلکہ قانوناً جرم بھی ہے۔
- جرمانے: پارک کی حدود میں گندگی پھیلانے یا قواعد کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
- ثقافتی احترام: مقامی بلتی اور شینا روایات کا احترام کریں اور مقامی آبادی کی نجی زندگی میں مداخلت سے گریز کریں۔
مقامی ثقافت اور ماحولیاتی تحفظ کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ یہاں کے باشندے صدیوں سے ان پہاڑوں اور میدانوں کے محافظ رہے ہیں، اور بطور سیاح ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان کے ورثے کا احترام کریں۔ ہمارے پلیٹ فارم کا مشن آپ کو نہ صرف معلومات فراہم کرنا ہے بلکہ ایک ذمہ دار شہری کے طور پر آپ کے اندر شعور بیدار کرنا بھی ہے، تاکہ دیوسائی کا یہ قدرتی حسن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اسی طرح محفوظ رہے۔
آئیے دیوسائی کے تحفظ اور ذمہ دارانہ سیاحت کا عہد کریں
دیوسائی کا سفر محض ایک تفریحی دورہ نہیں بلکہ قدرت کے ایک عظیم الشان شاہکار سے براہ راست مکالمہ ہے۔ ہم نے اس دیوسائی نیشنل پارک گائیڈ میں تفصیل سے دیکھا کہ کس طرح درست وقت کا انتخاب، فور بائی فور سواری کی ضرورت اور بلندی کی بیماری سے بچاؤ کی تدابیر آپ کے اس تجربے کو محفوظ اور یادگار بنا سکتی ہیں۔ شاؤسر جھیل کے شفاف پانیوں میں نانگا پربت کا عکس اور ہمالیائی بھورے ریچھ کی بڑھتی ہوئی آبادی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ یہ مقام ہماری توجہ اور احترام کا مستحق ہے۔
گلگت بلتستان کی سیاحت کے بدلتے ہوئے تناظر اور مقامی روایات کے گہرے ادراک کے لیے مستند معلومات کا ہونا ناگزیر ہے۔ ہمارا ادارہ گلگت بلتستان کی مستند خبریں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ سیاحت اور ثقافت کا بہترین تجزیہ پیش کرنے میں اپنی مثال آپ ہے۔ خطے کے دیگر پوشیدہ مقامات اور 2026 کے سفری ضوابط کی تفصیلات کے لیے گلگت بلتستان میں سیاحت کے مواقع: 2026 کی مکمل گائیڈ دیکھیں تاکہ آپ کی ہر مہم جوئی باخبر اور بامقصد ہو۔ آپ کی ذمہ دارانہ سیاحت ہی اس “دیوؤں کی سرزمین” کے حسن کو آنے والی نسلوں کے لیے بھی برقرار رکھ سکتی ہے۔ خوشگوار سفر!
اکثر پوچھے گئے سوالات
کیا دیوسائی میں موبائل سگنل آتے ہیں؟
دیوسائی نیشنل پارک کے بیشتر حصوں میں موبائل سگنل بالکل دستیاب نہیں ہیں۔ صرف بعض بلند مقامات پر ‘ایس کام’ (SCOM) کے سگنل آ سکتے ہیں، لیکن ان پر مکمل بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ بہتر ہے کہ آپ اپنے اہل خانہ کو پہلے ہی مطلع کر دیں کہ آپ چند گھنٹوں کے لیے نیٹ ورک سے باہر ہوں گے تاکہ وہ کسی پریشانی کا شکار نہ ہوں۔
کیا ہم اپنی چھوٹی گاڑی (Sedan) میں دیوسائی جا سکتے ہیں؟
چھوٹی گاڑیوں (Sedan) میں دیوسائی کا سفر کرنا آپ کی گاڑی اور آپ کی حفاظت کے لیے انتہائی پرخطر ہو سکتا ہے۔ اس دیوسائی نیشنل پارک گائیڈ کے مطابق یہاں کے راستے کچے، پتھریلے اور پہاڑی نالوں پر مشتمل ہیں، اس لیے صرف فور بائی فور (4×4) جیپ ہی استعمال کریں۔ عام گاڑیاں نہ صرف راستے میں پھنس سکتی ہیں بلکہ ان کے نچلے حصے کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ رہتا ہے۔
دیوسائی میں رات گزارنے کے لیے بہترین جگہ کونسی ہے؟
پارک کی حدود میں کوئی باقاعدہ ہوٹل یا گیسٹ ہاؤس موجود نہیں ہے، اس لیے رات گزارنے کا واحد ذریعہ کیمپنگ ہے۔ ‘بڑا پانی’ اور ‘کالا پانی’ کیمپنگ کے لیے مقبول ترین مقامات ہیں جہاں بنیادی سہولیات اور عارضی ڈھابے دستیاب ہوتے ہیں۔ اگر آپ کیمپنگ کے لیے تیار نہیں ہیں، تو بہتر ہے کہ صبح سویرے اسکردو سے نکلیں اور شام تک واپس شہر پہنچ جائیں۔
کیا دیوسائی نیشنل پارک میں داخلے کی کوئی فیس ہے؟
جی ہاں، پارک میں داخلے کے لیے فیس وصول کی جاتی ہے جو کہ انتظامیہ کی جانب سے ہر سال مقرر کی جاتی ہے۔ 2026 کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق، پاکستانی شہریوں کے لیے یہ فیس 500 روپے، مقامی افراد کے لیے 100 روپے، جبکہ غیر ملکی سیاحوں کے لیے 20 ڈالر یا اس کے مساوی رقم مقرر ہے۔ یہ رقم پارک کے انتظامی امور اور جنگلی حیات کے تحفظ کے منصوبوں پر خرچ کی جاتی ہے۔
کیا ریچھوں سے سیاحوں کو کوئی خطرہ ہو سکتا ہے؟
ہمالیائی بھورا ریچھ فطرتاً انسانوں سے دور رہنا پسند کرتا ہے اور عام حالات میں حملہ آور نہیں ہوتا۔ تاہم، ریچھوں سے کم از کم 100 میٹر کا محفوظ فاصلہ رکھنا اور انہیں کھانا کھلانے سے مکمل گریز کرنا لازمی ہے۔ اگر آپ انتظامیہ کے بتائے ہوئے ٹریکس پر رہیں اور شور و غل سے پرہیز کریں تو ریچھوں سے کسی قسم کے خطرے کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔
دیوسائی جانے کے لیے اسکردو بہتر ہے یا استور؟
اسکردو کا راستہ دیوسائی پہنچنے کے لیے زیادہ مستعمل ہے کیونکہ یہ نسبتاً مختصر ہے اور یہاں سے جیپیں آسانی سے دستیاب ہو جاتی ہیں۔ دوسری جانب استور کا راستہ ان سیاحوں کے لیے بہترین ہے جو چلم چوکی کے خوبصورت مناظر دیکھنا چاہتے ہیں۔ زیادہ تر مہم جو سیاح اسکردو سے داخل ہو کر استور کی طرف سے نکلنے کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ وہ دونوں اضلاع کے منفرد جغرافیائی مناظر کا مشاہدہ کر سکیں۔




