column in urdu 0

باشعور عوام ہی مضبوط جمہوریت کی بنیاد ہیں. شبیر حسین کمال
جمہوریت کسی بھی ملک کا وہ نظام ہے جس میں عوام کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ ایک مضبوط جمہوریت صرف آئین، اسمبلی یا حکومت سے قائم نہیں ہوتی بلکہ اس کی اصل طاقت باشعور عوام ہوتے ہیں۔اگر عوام اپنے حقوق، ذمہ داریوں اور ووٹ کی اہمیت سے آگاہ ہوں تو ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے، لیکن اگر عوام بے شعور ہوں تو جمہوریت کمزور ہو جاتی ہے اور معاشرہ مسائل کا شکار رہتا ہے۔آج کے دور میں الیکشن قریب آتے ہی سیاسی سرگرمیاں بڑھ جاتی ہیں۔ ہر طرف جلسے، جلوس، وعدے اور نعرے سنائی دیتے ہیں۔سیاستدان عوام کو مختلف خواب دکھاتے ہیں، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اکثر لوگ حقیقت کو سمجھے بغیر صرف جذبات، برادری، ذاتی تعلقات یا وقتی فائدوں کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی بار ایسے لوگ اقتدار میں آ جاتے ہیں جو عوامی خدمت کے بجائے اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ووٹ ایک بہت بڑی ذمہ داری اور امانت ہے۔ایک ووٹ کسی علاقے بلکہ پوری قوم کے مستقبل کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ اگر عوام ایماندار، تعلیم یافتہ، باصلاحیت اور عوامی مسائل کو سمجھنے والے نمائندوں کا انتخاب کریں تو معاشرہ ترقی کرتا ہے۔لیکن اگر نااہل اور کرپٹ افراد کو منتخب کیا جائے تو قوم کو مہنگائی، بے روزگاری، بدعنوانی اور دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔باشعور عوام ہمیشہ اپنے نمائندوں سے سوال کرتے ہیں۔وہ صرف وعدوں پر یقین نہیں کرتے بلکہ عملی کارکردگی کو دیکھتے ہیں۔ ایسے لوگ تعلیم، صحت، روزگار، انصاف اور ترقی کے منصوبوں کو اہمیت دیتے ہیں۔یہی شعور ایک مضبوط جمہوریت کی پہچان ہوتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی کامیابی کے پیچھے بھی عوامی شعور اور ذمہ دارانہ فیصلہ سازی کا بڑا کردار ہے۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں آج بھی بہت سے لوگ ووٹ کی اصل طاقت سے ناواقف ہیں۔کچھ لوگ ووٹ دینا ضروری نہیں سمجھتے جبکہ بعض لوگ چند وقتی فائدوں کے لیے اپنے ضمیر کا سودا کر لیتے ہیں۔اس رویے سے نہ صرف جمہوریت کمزور ہوتی ہے بلکہ پورا معاشرہ نقصان اٹھاتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام میں سیاسی شعور بیدار کیا جائے تاکہ ہر شخص اپنے حقِ رائے دہی کو صحیح انداز میں استعمال کر سکے۔نوجوان نسل اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔اگر نوجوان تعلیم، تحقیق اور شعور کے ساتھ سیاست اور سماجی مسائل کو سمجھیں تو وہ ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ کو مثبت انداز میں استعمال کر کے عوام میں آگاہی پیدا کی جا سکتی ہے۔ کیونکہ ایک باشعور قوم ہی اپنے مستقبل کو محفوظ اور روشن بنا سکتی ہے۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ جمہوریت کی کامیابی عوام کے شعور سے جڑی ہوئی ہے۔جب عوام اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کو سمجھیں گے، صحیح اور غلط میں فرق کریں گے اور ایمانداری کے ساتھ ووٹ دیں گے تو ملک ترقی کرے گا۔ واقعی باشعور عوام ہی مضبوط جمہوریت کی بنیاد ہوتے ہیں۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

column in urdu

50% LikesVS
50% Dislikes

باشعور عوام ہی مضبوط جمہوریت کی بنیاد ہیں. شبیر حسین کمال

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں