مصنوعی ذہانت اور چیٹ جی پی ٹی۔ سہولت یا تخلیقی صلاحیتوں کے لیے چیلنج؟ یاسر دانیال صابری
دنیا ڈیجیٹل بن گئی ہے مگر لوگ زیادہ لکھاریوں کی عزت نہیں کرتے ہم پھر بھی لکھ رہے ہیں لیکن ہمارے راستے میں چیٹ جی پی ٹی اور اے آئی حائل ہوئی ہم کہاں جائے گورنمنٹ کو چاہیے ایسے ایپز بند کریں جو لوگوں کے صلاحیت کو ختم کریں دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ہماری روایات بدل چکی ہے ،ہماری پہچان بھی بدلے گی ۔ ہر روز نئی ٹیکنالوجی سامنے آ رہی ہے اور مصنوعی ذہانت (AI) نے اس تبدیلی کو مزید تیز کر دیا ہے۔ آج چیٹ جی پی ٹی جیسے پلیٹ فارم چند سیکنڈ میں مضمون، کالم، تقریر اور تحقیق کا ابتدائی مسودہ تیار کر دیتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک بڑی سہولت ہے، لیکن ایک لکھاری کی حیثیت سے میرے ذہن میں ایک سوال ہمیشہ رہتا ہے کہ کیا یہ سہولت کہیں ہماری تخلیقی صلاحیتوں کو کمزور تو نہیں کر رہی؟
میرا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی انسان کی مدد کے لیے ہونی چاہیے، انسان کی جگہ لینے کے لیے نہیں۔مگر اس کا استعمال آپ کے اوپر ہے آپ کا طرح استعمال کرتے ہیں ۔صلاحیت نکھارنے کا مطلب ترقی ہو آپ کی لکھائی میں بہتری آئے ۔جنگ نیوز پیپر آپ کے کالمز کو اٹھائے اور شائع کر دے ۔
ایک حقیقی لکھاری صرف الفاظ نہیں لکھتا، وہ اپنے احساسات، تجربات، مشاہدات اور شعور کو صفحۂ قرطاس پر منتقل کرتا ہے۔ وہ معاشرے کے دکھ، خوشی، مسائل اور امیدوں کو محسوس کرتا ہے، پھر تحقیق، دلائل اور اپنی سوچ کی روشنی میں ایک ایسی تحریر تخلیق کرتا ہے جو قاری کے دل اور دماغ دونوں پر اثر چھوڑتی ہے۔ یہی وہ خوبی ہے جو ایک زندہ تحریر کو مشینی تحریر سے ممتاز کرتی ہے۔
مصنوعی ذہانت معلومات اس جگہ کا نہیں بتا سکتی جو کہ عالم گیر نہیں ہو ، جملے ایک دیدم میں ترتیب دیتی ہے اور زبان کو خوبصورت بنا سکتی ہے، لیکن وہ انسان کے جذبات، اس کے تجربات اور اس کی زندگی کے سفر کو محسوس نہیں کر سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ AI سے لکھی گئی تحریر میں روانی تو ہوتی ہے، مگر اکثر وہ روح نہیں ہوتی جو ایک قلم کار کی اپنی تخلیق میں نظر آتی ہے۔
مجھے اپنے صحافتی سفر کے ابتدائی دن آج بھی اچھی طرح یاد ہیں۔ 2012 سے 2014 کے دوران جب میں نے بی اے جرنلزم مکمل کیا تو اس وقت نہ آج جیسی سہولیات تھیں اور نہ ہی اردو ٹائپنگ اتنی آسان تھی۔ ایک کالم لکھنے میں کئی کئی گھنٹے لگ جاتے آج بھی زیادہ سے زیادہ دو گھنٹے بیس منٹ لگ ہی جاتا ہے تحقیق الگ، مسودہ الگ اور بار بار نظرثانی الگ۔ مگر انہی مشکلات نے لکھنے کا سلیقہ بھی سکھایا اور قلم کو پختگی بھی دی۔
کل میرے ساتھ ایک نہ بھولنے والی واقعہ پیش آیا۔ میری بھائی ایک تحریر کو چیٹ جی پی ٹی میں ڈال کر اس کی نئی تشریح تیار کی گئی اور میری اجازت کے بغیر مختلف ای میلز پر بھیج دی گئی۔ جب جوابات آئے تو مجھے احساس ہوا کہ اگر ایک لکھاری کی اصل آواز ہی بدل دی جائے تو اس کی شناخت بھی متاثر ہو جاتی ہے۔ اسی لمحے مجھے احساس ہوا کہ سہولت اپنی جگہ، مگر اصل تخلیق کی کوئی جگہ نہیں لے سکتی۔
میرے لیے لکھنا صرف ایک مشغلہ نہیں، میری زندگی کا حصہ ہے۔ آج بھی میں چائے کا کپ ساتھ رکھ کر کئی کئی گھنٹے صرف ایک کالم پر محنت کرتا ہوں۔ بعض اوقات ایک خیال کو مکمل شکل دینے میں پوری رات گزر جاتی ہے، لیکن جب تحریر مکمل ہوتی ہے تو جو اطمینان حاصل ہوتا ہے، وہ کسی شارٹ کٹ سے نہیں مل سکتا۔وہ مجھے اب بھی حاصل ہے
مجھے یہ بھی تشویش ہے کہ اگر نئی نسل صرف مصنوعی ذہانت پر انحصار کرنے لگے تو تحقیق، مطالعہ، تنقیدی سوچ اور تخلیقی صلاحیتیں آہستہ آہستہ کمزور پڑ سکتی ہیں۔ پھر لکھنے کا فن ایک مشین کے سپرد ہو جائے گا اور معاشرہ آزاد فکر رکھنے والے قلم کاروں سے محروم ہوتا جائے گا۔
میں یہ نہیں کہتا کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال مکمل طور پر چھوڑ دیا جائے۔ ہرگز نہیں۔ اسے تحقیق، معلومات اور ابتدائی رہنمائی کے لیے ضرور استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن اسے اپنی سوچ، اپنے شعور اور اپنی تخلیقی صلاحیت کا متبادل نہیں بنانا چاہیے۔
میں ان تمام مدیرانِ کرام کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے قلم پر اعتماد کیا، میری اصلاح کی اور میری حوصلہ افزائی کی۔ خصوصاً روزنامہ سلام کے محترم جعفر بلتی صاحب اور دیگر اخبارات کے مدیران، جنہوں نے میری تحریروں کو جگہ دے کر میرے حوصلے کو مزید مضبوط کیا۔
آخر میں، انٹرنیشنل رائٹرز ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے تمام لکھاریوں، صحافیوں اور نوجوان قلم کاروں سے میری درخواست ہے کہ اپنی شناخت کو محفوظ رکھیں۔ اپنے قلم پر اعتماد کریں، مطالعہ کریں، تحقیق کریں، سوچیں اور پھر لکھیں۔ کیونکہ ایک لکھاری کی اصل طاقت اس کی اپنی سوچ اور اس کے اپنے الفاظ ہوتے ہیں، نہ کہ کسی مشین کے تیار کردہ جملے۔
چین کی ایک مشہور کہاوت ہے: “کسی کو مچھلی پکڑ کر مت دو، بلکہ اسے مچھلی پکڑنا سکھاؤ۔” یہی اصول علم اور تحریر پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر ہم خود سوچنا اور لکھنا چھوڑ دیں گے تو آنے والی نسلیں الفاظ تو لکھ لیں گی، مگر فکر کی روشنی کھو بیٹھیں گی۔
قلم کی روشنائی کبھی مصنوعی نہیں ہوتی، کیونکہ اس میں انسان کے دل، دماغ اور ضمیر کی خوشبو شامل ہوتی ہے۔۔۔۔۔وسلام۔۔۔۔تحریر یاسر دانیال صابری
دن بھر کی اہم خبریں اور کالمز ملاحظہ فرمائیں
فیفا ورلڈ کپ: کھیل کا سب سے بڑا جشن. سلیم خان ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
موسمیاتی تبدیلی اور گلگت بلتستان کے گلیشیئرز: ایک بڑھتا ہوا خطرہ۔شاہ حسین شکور بلتستانی
urdu column Artificial Intelligence & ChatGPT
urdu column artificial-intelligence-chatgpt-convenience-or-challenge-to-creativity




