Prophet Muhammad ﷺ A Message of Love and Peace 0

نبی کریم ﷺ کا پیغامِ محبت و امن. سلیم خان ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
انسانی تاریخ کے اوراق پر بے شمار فاتحین، بادشاہوں اور حکمرانوں کے نام ملتے ہیں مگر بہت کم ایسی ہستیاں گزری ہیں جنہوں نے انسان کے دل کو فتح کیا ہو۔ رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سیرتِ طیبہ اسی بے مثال فتح کی داستان ہے۔ آپ ﷺ نے ایک ایسے معاشرے میں انسانیت کو محبت، رحمت، عدل اور امن کا پیغام دیا جہاں قبائلی عصبیت، انتقام، ظلم اور کمزوروں کا استحصال عام تھا۔ آپ ﷺ نے صرف امن کی تلقین نہیں کی بلکہ اپنی زندگی سے یہ ثابت کر دیا کہ حقیقی امن طاقت کے زور سے نہیں بلکہ عدل، برداشت، رحم اور انسان کی عزتِ نفس کے احترام سے قائم ہوتا ہے۔
قرآنِ مجید نے آپ ﷺ کی شخصیت کا بنیادی تعارف ہی رحمت کے عنوان سے کرایا:

“اور ہم نے تمھیں پورے جہان کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے”
یعنی ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ یہ آیت اپنے اندر ایک وسیع انسانی تصور رکھتی ہے۔ آپ ﷺ کی رحمت کسی ایک قبیلے، علاقے یا قوم تک محدود نہیں تھی بلکہ پوری انسانیت کے لیے تھی۔ آپ ﷺ نے انسان کو اس کی انسانیت کے حوالے سے عزت دی اور معاشرے کے کمزور ترین افراد کو بھی وہ مقام عطا کیا جو طاقتوروں کو حاصل تھا۔
آپ ﷺ کی تعلیمات میں محبت محض ایک جذباتی کیفیت نہیں بلکہ ایک عملی معاشرتی اصول ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
“تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔”
اس ارشاد میں ایک ایسا اصول موجود ہے جو انسانی معاشرے میں باہمی احترام کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اگر انسان دوسروں کے لیے بھی وہی خیر چاہنے لگے جو اپنے لیے چاہتا ہے تو حسد، نفرت، استحصال اور زیادتی کے بہت سے دروازے خود بخود بند ہو جائیں۔
آپ ﷺ نے محبت کو صرف مسلمانوں کے باہمی تعلق تک محدود نہیں رکھا۔ آپ ﷺ کا برتاؤ غیر مسلموں، پڑوسیوں، کمزوروں، غلاموں، عورتوں اور بچوں کے ساتھ بھی رحمت اور حسنِ سلوک پر مبنی تھا۔ ایک مرتبہ ایک یہودی کا جنازہ گزرا تو آپ ﷺ احتراماً کھڑے ہوگئے۔ عرض کیا گیا کہ یہ تو یہودی کا جنازہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “کیا وہ انسان نہیں تھا؟” اس واقعے میں انسانی احترام کی وہ عظیم روح پوشیدہ ہے جو مذہبی اختلاف سے بالاتر ہو کر انسان کی بنیادی عزت کو تسلیم کرتی ہے۔
اسی طرح آپ ﷺ نے پڑوسی کے حقوق پر غیر معمولی زور دیا۔ ارشاد فرمایا کہ حضرت جبرئیلؑ مجھے پڑوسی کے بارے میں مسلسل وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ شاید اسے وارث بنا دیا جائے گا۔ یہ تعلیم اس بات کی دلیل ہے کہ اسلامی معاشرت میں امن صرف مسجد اور عبادت گاہ کے اندر کا معاملہ نہیں بلکہ گھر، گلی، محلے اور پورے معاشرے کے تعلقات سے وابستہ ہے۔ جو شخص اپنے پڑوسی کو تکلیف دیتا ہے، اس کے آرام اور عزت کا خیال نہیں رکھتا، وہ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کی روح سے دور ہے۔

آپ ﷺ نے زبان کے ذریعے پھیلنے والی نفرت کے مقابلے میں بھی واضح رہنمائی دی۔ فرمایا کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ غور کیا جائے تو اس مختصر ارشاد میں امنِ معاشرہ کا ایک مکمل فلسفہ موجود ہے۔ ہاتھ سے نقصان نہ پہنچانا جسمانی امن ہے اور زبان سے اذیت نہ دینا ذہنی و معاشرتی امن۔ آج کے دور میں جب ایک جملہ، ایک پوسٹ یا ایک افواہ چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے، اس نبوی تعلیم کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

نبی کریم ﷺ کی زندگی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اختلاف دشمنی کا نام نہیں۔ مکہ کے وہ لوگ جنہوں نے آپ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں پر ظلم کیا، آپ ﷺ کو وطن سے ہجرت پر مجبور کیا اور آپ ﷺ کے خلاف جنگیں لڑیں، فتحِ مکہ کے موقع پر جب آپ ﷺ مکمل اقتدار میں تھے تو انتقام کے بجائے عام معافی کا اعلان فرمایا۔ یہ تاریخ کا ایک غیر معمولی منظر تھا: وہ لوگ جو کل تک مخالف تھے، آج فاتح کے سامنے بے بس کھڑے تھے، مگر فاتح کے دل میں انتقام کی آگ نہیں بلکہ رحمت کا جذبہ تھا۔

یہی وجہ ہے کہ فتحِ مکہ کو صرف ایک عسکری کامیابی سمجھنا اس واقعے کی اصل روح کو محدود کر دینا ہے۔ یہ دراصل اخلاقی فتح تھی، طاقت کے باوجود معاف کرنے کی فتح، اختیار کے باوجود درگزر کرنے کی فتح اور بدلے کا موقع ہونے کے باوجود رحمت کو اختیار کرنے کی فتح۔
نبی کریم ﷺ نے جنگ کے حالات میں بھی اخلاقی حدود قائم کیں۔ عورتوں، بچوں اور غیر جنگجو افراد کو نقصان پہنچانے سے منع کیا، درختوں اور آبادیوں کو بلاوجہ تباہ کرنے سے روکا اور عہد و پیمان کی پابندی کی تعلیم دی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں امن محض جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ظلم سے اجتناب، انسانی جان کی حرمت اور اخلاقی اصولوں کی پاسداری کا نام ہے۔
مدینہ منورہ میں رسولِ اکرم ﷺ نے مختلف مذہبی اور قبائلی گروہوں پر مشتمل معاشرے کو نظم و معاہدے کے ذریعے جوڑنے کی مثال قائم کی۔ میثاقِ مدینہ انسانی تاریخ میں اجتماعی نظم، باہمی ذمہ داری اور بقائے باہمی کی ایک اہم مثال سمجھا جاتا ہے۔ اس معاشرتی بندوبست میں مختلف گروہوں کے حقوق اور ذمہ داریوں کو تسلیم کیا گیا اور اجتماعی امن کو مشترکہ ذمہ داری قرار دیا گیا۔
آپ ﷺ کا طرزِ عمل یہ بھی بتاتا ہے کہ امن صرف تقریروں سے قائم نہیں ہوتا۔ امن کے لیے عدل ضروری ہے۔ اگر معاشرے میں طاقتور کے لیے الگ قانون اور کمزور کے لیے الگ قانون ہو تو وہاں حقیقی امن پیدا نہیں ہوسکتا۔ نبی کریم ﷺ نے قانون کی نظر میں برابری کا عملی نمونہ پیش کیا۔ آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ سابقہ قومیں اسی لیے تباہ ہوئیں کہ جب کوئی طاقتور جرم کرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا اور جب کوئی کمزور جرم کرتا تو اس پر سزا نافذ کی جاتی۔

یہ تعلیم آج کے معاشرے کے لیے ایک آئینہ ہے۔ ہم امن چاہتے ہیں مگر انصاف نہیں، محبت کے دعوے کرتے ہیں مگر دوسروں کے حقوق تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں؛ معاشرتی سکون کی بات کرتے ہیں مگر اپنی زبان، رویے اور مفاد پرستی کا جائزہ لینے کے لیے تیار نہیں۔ نبی کریم ﷺ کا پیغام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ امن کا آغاز دوسروں سے نہیں، خود اپنے کردار سے ہوتا ہے۔

آپ ﷺ نے غصے پر قابو پانے کو بھی حقیقی قوت قرار دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ طاقتور وہ نہیں جو دوسرے کو پچھاڑ دے بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔ آج جب معمولی اختلافات ذاتی دشمنیوں میں بدل جاتے ہیں، سوشل میڈیا پر تلخ الفاظ رشتے توڑ دیتے ہیں اور سیاسی، مذہبی یا سماجی اختلاف نفرت کا روپ اختیار کر لیتا ہے، اس نبوی اصول کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے۔
محبت کا ایک اہم پہلو معافی ہے۔ معافی کا مطلب ظلم کو درست قرار دینا نہیں بلکہ انتقام کے جذبات کو اخلاقی اصولوں کے تابع کرنا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں معافی کے بے شمار واقعات ملتے ہیں۔ آپ ﷺ نے لوگوں کی اصلاح کو محض سزا دینے پر ترجیح دی۔ آپ ﷺ انسان کو اس کی غلطی سے بڑا سمجھتے تھے اور اصلاح کا دروازہ کھلا رکھتے تھے۔

آپ ﷺ نے بچوں کے ساتھ شفقت، خواتین کے ساتھ حسنِ سلوک، یتیموں کی کفالت، مسکینوں کی مدد اور غلاموں کے ساتھ انسانی برتاؤ کی تعلیم دی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محبت صرف بڑے الفاظ کا نام نہیں؛ کسی بھوکے کو کھانا کھلانا، کسی غم زدہ کو تسلی دینا، کسی کمزور کا حق دلانا، کسی محتاج کی مدد کرنا اور کسی پریشان انسان کے لیے آسانی پیدا کرنا بھی محبت ہی کی شکلیں ہیں۔

آج دنیا جدید ٹیکنالوجی، معاشی ترقی اور سائنسی کامیابیوں کے باوجود بے چینی، جنگ، نفرت، تعصب اور عدم برداشت کا شکار ہے۔ انسان نے فاصلے کم کرنے کے لیے ذرائع تو ایجاد کر لیے، مگر دلوں کے فاصلے کم کرنے کا ہنر اب بھی سیکھنا باقی ہے۔ ایسے وقت میں سیرتِ رسول ﷺ ہمارے لیے محض ماضی کی ایک مقدس داستان نہیں بلکہ حال اور مستقبل کے لیے ایک زندہ رہنمائی ہے۔

اگر ہم نبی کریم ﷺ کے پیغامِ محبت و امن کو حقیقی معنوں میں اپنانا چاہتے ہیں تو اس کا آغاز اپنے گھر سے کرنا ہوگا۔ والدین بچوں کے ساتھ محبت سے پیش آئیں، میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں، بہن بھائی ایک دوسرے کو معاف کرنا سیکھیں، پڑوسی ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوں، استاد شفقت کے ساتھ تربیت کرے، تاجر دیانت داری اختیار کرے اور صاحبِ اختیار انصاف کو ترجیح دے۔ یہی چھوٹے چھوٹے اعمال مل کر ایک پُرامن معاشرہ تشکیل دیتے ہیں۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ نبی کریم ﷺ سے محبت صرف نعت پڑھنے، درود بھیجنے اور جذباتی عقیدت کے اظہار تک محدود نہیں۔ حقیقی محبت اتباع کا تقاضا کرتی ہے۔ اگر ہماری زبان سے محبتِ رسول ﷺ کے نعرے بلند ہوں مگر ہماری زبان دوسروں کی عزت پامال کرے، ہمارے ہاتھ کسی پر ظلم کریں، ہمارے معاملات میں خیانت ہو اور ہمارے دل نفرت سے بھرے ہوں تو ہمیں اپنے عمل کا جائزہ لینا چاہیے۔

رسولِ اکرم ﷺ نے انسان کو انسان سے جوڑنے کا پیغام دیا۔ آپ ﷺ نے بتایا کہ بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کے لیے نفع بخش ہو۔ آپ ﷺ نے دلوں کو جوڑا، دشمنیوں کو ختم کیا، غلاموں کو عزت دی، یتیموں کو سہارا دیا، عورتوں کے حقوق واضح کیے، پڑوسیوں کی اہمیت بیان کی اور عدل کو معاشرتی زندگی کی بنیاد بنایا۔

آج اگر ہم واقعی ایک پُرامن اور مہذب معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں سیرتِ نبوی ﷺ کو صرف کتابوں اور محفلوں تک محدود رکھنے کے بجائے اپنے کردار کا حصہ بنانا ہوگا۔ اختلاف ہو مگر تہذیب کے ساتھ، طاقت ہو مگر انصاف کے ساتھ، غصہ آئے مگر ضبط کے ساتھ، کامیابی ملے مگر عاجزی کے ساتھ اور اختیار ملے تو انتقام کے بجائے رحمت کے ساتھ۔

نبی کریم ﷺ کا پیغامِ محبت و امن دراصل انسان کو انسان بنانے کا پیغام ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ دل جیتنا، دل توڑنے سے بہتر ہے؛ معاف کرنا، انتقام لینے سے بڑا ہے؛ انصاف کرنا، طاقت دکھانے سے افضل ہے؛ اور کسی انسان کے لیے آسانی پیدا کرنا، محض اپنے لیے آسانی پیدا کرنے سے کہیں زیادہ عظیم عمل ہے۔

آج دنیا کو ایک بار پھر اسی نبوی اخلاق کی ضرورت ہے۔ اگر ہم سیرتِ مصطفیٰ ﷺ سے محبت، رحمت، عدل، برداشت اور حسنِ سلوک کے چراغ اپنے اپنے دلوں میں روشن کرلیں تو نفرت کی بہت سی تاریکیاں خود بخود کم ہوسکتی ہیں۔ یہی نبی کریم ﷺ کے پیغام کی اصل روح ہے: انسان سے محبت، مخلوق کے لیے رحمت، عدل کے ساتھ زندگی اور امن کے ساتھ معاشرہ۔

آیت نور اور ایزل کی چیخیں: کیا ہم ان کے خاموش قاتلوں کو پہچاننے کے لیے تیار ہیں؟ سیدہ فضہ بتول

Prophet Muhammad ﷺ A Message of Love and Peace

50% LikesVS
50% Dislikes

نبی کریم ﷺ کا پیغامِ محبت و امن. سلیم خان ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں