حبِ رسول کے تقاضے. محمد عابد رشید
محبتِ رسول صرف ایک جذباتی دعویٰ نہیں بلکہ عملی زندگی کا ایک ایسا جامع نظام ہے جو انسان کو دنیا اور آخرت کی کامیابی کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ کائنات کے سب سے برگزیدہ ہستی، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے سچی محبت کا تقاضا ہے کہ ہم آپ کی تعلیمات، سنتوں اور اسوۂ حسنہ کو اپنی زندگیوں کا محور بنائیں۔ اس تصویر میں دیے گئے نکات پر اگر گہرائی سے نظر ڈالی جائے تو محبتِ رسول کے درج ذیل بنیادی تقاضے سامنے آتے ہیں:
اتباعِ سنتِ مبارکہ: حضور اکرم ﷺ کی مبارک سنتوں پر مکمل عمل کیا جائے، تاکہ زندگی کا ہر موڑ آپ کے طریقے کے مطابق گزرے۔
سیرتِ طیبہ اور اخلاقِ کریمانہ سے آگاہی: رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیبہ، اخلاقِ کریمانہ اور حلیہ مبارکہ کو اپنایا جائے اور اس کی روشنی میں اپنی عملی زندگی سنواری جائے۔
معراجِ مصطفیٰ ﷺ کا تحفہ (نماز): معراج کے موقع پر ملنے والے عظیم تحفے یعنی پنج وقتہ نمازوں کو باجماعت ادا کیا جائے۔
قرآنِ کریم اور احادیث سے وابستگی: قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ کو پڑھا جائے، سمجھا جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔
رسول اللہ ﷺ کی آفاقی تعلیمات کا فروغ: آپ ﷺ کی آفاقی تعلیمات کو اقوامِ عالم میں پہنچایا جائے تاکہ امن و سلامتی کا پیغام عام ہو۔
کثرت سے درود شریف کا ورد: رسول اللہ ﷺ کا ذکرِ خیر کیا جائے اور کثرت سے درود شریف پڑھا جائے۔
روضۂ رسول ﷺ کی زیارت کا شوق: روضۂ رسول ﷺ کی زیارت کا اشتیاق دل میں رکھا جائے اور آپ ﷺ کی شفاعت کا طلبگار رہا جائے۔
قرآن و سنت کے نظام کا نفاذ: قرآن و سنت کے نظام کو اپنے پر، اہل خانہ پر اور ملک و ملت میں نافذ کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے۔
حبِ رسول کا اصل تقاضا یہی ہے کہ ہماری زبان، ہمارے اخلاق، ہمارے معاملات اور ہمارا پورا معاشرہ اسوۂ رسول کا عملی نمونہ بن جائے، تاکہ حقیقی معنوں میں دنیا اور آخرت کی فلاح حاصل ہو سکے۔
نبی کریم ﷺ کا پیغامِ محبت و امن. سلیم خان ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
Demands of Love for the Prophet




