شگر پاکستان تحریک انصاف شگر کے صدر حسن شگری ایڈووکیٹ کی 3 ایم پی او کے تحت گرفتار. عوام سراپا احتجاج، اہم تفصلات سامنے اگئے
رپورٹ، 5 سی این نیوز
شگر پاکستان تحریک انصاف شگر کے صدر حسن شگری ایڈووکیٹ کی 3 ایم پی او کے تحت گرفتاری اور انہیں شگر سے راتوں رات سکردو منتقل کیے جانے کے بعد ضلع بھر میں سیاسی و سماجی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حسن شگری ایڈووکیٹ کو گزشتہ رات شگر میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا، جس کے بعد پولیس نے انہیں سکردو منتقل کردیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی گرفتاری مجوزہ لانگ مارچ کے تناظر میں 16 ایم پی او کے تحت عمل میں لائی گئی ہے، تاہم پولیس کی جانب سے تاحال گرفتاری کی وجوہات، مقدمے کی نوعیت اور دیگر قانونی تفصیلات کے حوالے سے کوئی تفصیلی سرکاری مؤقف سامنے نہیں آیا۔ حسن شگری ایڈووکیٹ کی گرفتاری کی خبر سامنے آتے ہی شگر کے سیاسی، سماجی، تجارتی اور مذہبی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس واقعے پر اپنے تحفظات کا اظہار شروع کردیا۔ حسن شگری ایڈووکیٹ کی گرفتاری کے بعد شگر سنٹر میں سول سوسائٹی، انجمن تاجران، پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان اور مختلف سیاسی و سماجی حلقوں سے وابستہ افراد کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا۔ مظاہرین نے گرفتاری کے طریقہ کار اور رات گئے رہائش گاہ سے حراست میں لیے جانے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ احتجاج کے دوران مقررین کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن کسی بھی شہری کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے شفاف قانونی طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہیے اور عوام کو گرفتاری کی وجوہات اور قانونی بنیاد سے آگاہ کیا جانا ضروری ہے۔ مظاہرین نے حسن شگری ایڈووکیٹ کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔
احتجاج میں شریک سول سوسائٹی کے نمائندوں اور تاجر برادری کے افراد کا کہنا تھا کہ شگر میں سیاسی و سماجی معاملات کو ہمیشہ مقامی روایات، باہمی احترام اور گفت و شنید کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رات کے وقت کسی سیاسی رہنما کو ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیے جانے کے واقعے نے شہریوں میں مختلف سوالات کو جنم دیا ہے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ حکومت اور ضلعی انتظامیہ اس معاملے پر وضاحت پیش کرے اور اگر حسن شگری ایڈووکیٹ کے خلاف کوئی قانونی کارروائی ضروری ہے تو اس کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں تاکہ پیدا ہونے والی بے چینی اور خدشات کا خاتمہ ہوسکے۔ حسن شگری ایڈووکیٹ کی گرفتاری پر ضلع شگر کی مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی شگر اور پاکستان مسلم لیگ ن شگر کے مقامی رہنماؤں کی جانب سے بھی گرفتاری پر مذمت اور تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلافات جمہوری عمل کا حصہ ہیں اور مختلف جماعتوں کے رہنماؤں کو اپنے سیاسی مؤقف کے اظہار کا حق حاصل ہے، تاہم کسی بھی سیاسی کارکن یا رہنما کے خلاف کارروائی کے معاملے میں قانون اور آئینی و قانونی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔ مختلف سیاسی شخصیات نے مطالبہ کیا کہ حسن شگری ایڈووکیٹ کی گرفتاری کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتحال کو مزید کشیدہ ہونے سے بچانے کے لیے متعلقہ حکام واضح اور جامع مؤقف سامنے لائیں۔مذہبی حلقوں کی جانب سے بھی حسن شگری ایڈووکیٹ کی گرفتاری پر ردعمل کا اظہار کیا گیا۔ انجمن امامیہ شگر اور شگر کے مذہبی حلقوں سے وابستہ شخصیات نے اس واقعے پر تشویش اور مذمت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شہری کے ساتھ کارروائی میں قانونی تقاضوں کے ساتھ ساتھ مقامی معاشرتی روایات اور شہری وقار کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ مختلف کاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے بھی گرفتاری کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کیا گیا، جبکہ مذہبی و سماجی رہنماؤں نے صورتحال کو پرامن رکھنے اور معاملے کو افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
شگر بار کی جانب سے بھی حسن شگری ایڈووکیٹ کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ وکلا حلقوں کا کہنا ہے کہ چونکہ حسن شگری خود بھی ایڈووکیٹ ہیں، اس لیے ان کی گرفتاری اور ان کے خلاف اختیار کیے گئے قانونی طریقہ کار کے حوالے سے مکمل قانونی تفصیلات سامنے آنی چاہئیں۔ وکلا کا مؤقف ہے کہ کسی بھی شخص کے بنیادی قانونی حقوق کا تحفظ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے اور گرفتاری یا حراست کے معاملات میں قانون کے مقرر کردہ طریقہ کار کی مکمل پابندی ضروری ہے۔ اس حوالے سے شگر بار کی جانب سے سامنے آنے والے ردعمل نے بھی معاملے کو مزید اہمیت دے دی ہے۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر بھی حسن شگری ایڈووکیٹ کی گرفتاری کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ شگر سے تعلق رکھنے والے مختلف افراد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پولیس کی کارروائی، رات گئے گرفتاری اور انہیں سکردو منتقل کیے جانے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ متعدد سوشل میڈیا صارفین نے مطالبہ کیا کہ گرفتاری کے حوالے سے مکمل حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں اور پولیس کی جانب سے باضابطہ وضاحت جاری کی جائے۔ سوشل میڈیا پر بعض افراد نے اسے سیاسی معاملہ قرار دیتے ہوئے اپنے تحفظات کا اظہار کیا، جبکہ بعض صارفین نے قانون کے مطابق کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔ تاہم اس تمام صورتحال میں پولیس کا تفصیلی مؤقف سامنے نہ آنے کے باعث مختلف حلقوں میں قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں۔ حسن شگری ایڈووکیٹ کی سیاسی سرگرمیوں اور شگر کے عوامی و سیاسی معاملات میں ان کی موجودگی کے باعث ان کی گرفتاری نے ضلع کی سیاسی فضا پر بھی اثر ڈالا ہے۔ حسن شگری شگر کی سیاسی سرگرمیوں میں ایک نمایاں نام رہے ہیں اور ماضی میں بھی مختلف عوامی و سیاسی معاملات پر اپنا مؤقف سامنے لاتے رہے ہیں۔ شگر میں عوامی اور سیاسی معاملات پر متعدد مواقع پر اظہار خیال کرچکے ہیں اور مختلف عوامی مسائل کے حوالے سے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے ہیں۔ سیاسی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ معاملے کو مزید کشیدگی کی طرف لے جانے کے بجائے قانونی اور آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے حل کیا جائے۔ ان حلقوں نے ضلعی انتظامیہ، پولیس اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حسن شگری ایڈووکیٹ کے خلاف 16 ایم پی او کے تحت کی جانے والی کارروائی کی مکمل وجوہات اور قانونی بنیاد واضح کی جائیں تاکہ عوام میں پائی جانے والی تشویش دور ہوسکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی شہری کے خلاف قانونی کارروائی ضروری ہو تو اس کی وجوہات واضح ہونی چاہئیں اور متعلقہ شخص کو قانون کے تحت دستیاب حقوق بھی فراہم کیے جانے چاہئیں۔
شگر سنٹر میں ہونے والے احتجاج کے بعد صورتحال پر سیاسی و سماجی حلقوں کی نظریں اب حکومت اور ضلعی انتظامیہ کے آئندہ اقدام پر مرکوز ہیں۔ مظاہرین اور مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے حسن شگری ایڈووکیٹ کی رہائی اور گرفتاری کی وجوہات واضح کرنے کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔ مختلف حلقوں نے اس امر پر بھی زور دیا ہے کہ احتجاج کے دوران امن و امان کو برقرار رکھا جائے اور کسی بھی قسم کی کشیدگی سے گریز کیا جائے۔ شگر کے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ضلع میں سیاسی اختلافات کے باوجود باہمی احترام، رواداری اور پرامن سیاسی سرگرمیوں کی روایت کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے تاکہ کسی بھی سیاسی یا انتظامی معاملے کو عوامی بے چینی میں تبدیل ہونے سے روکا جاسکے۔ دوسری جانب پولیس کی جانب سے حسن شگری ایڈووکیٹ کی گرفتاری کے حوالے سے تفصیلی سرکاری مؤقف سامنے آنے کے بعد ہی اس کارروائی کی قانونی وجوہات اور مکمل پس منظر واضح ہوسکے گا۔ حسن شگری ایڈووکیٹ کی گرفتاری کے بعد شگر میں سیاسی جماعتوں، انجمن تاجران، سول سوسائٹی، وکلا، مذہبی حلقوں اور عام شہریوں کی جانب سے سامنے آنے والے ردعمل نے معاملے کو ضلع کی اہم سیاسی و سماجی پیش رفت بنا دیا ہے۔ مختلف حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے تمام متعلقہ فریقین کو اعتماد میں لیا جائے، گرفتاری کے قانونی پہلوؤں کو واضح کیا جائے اور شہریوں کے تحفظات کا ازالہ کیا جائے، جبکہ عوامی حلقوں نے بھی اس معاملے کو پرامن اور قانونی طریقے سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
Arrested Under 16 MPO




